
راؤانوار 1982ء میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے، جبکہ 37 سالہ مدت ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے ہیں،نقیب اللہ قتل کیس میں بھی راؤ انوار ملوث ہیں
کراچی (ٹیکسیلا نیوز آن لائن) سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) راﺅ انوار مدمت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہو گئے ہیں۔
ضرور پڑھیں: ہمیں تو تین ہزار ارب کا بتایا گیا تھا
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ایس ایس پی راﺅ انوار نے 37 سالہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کااعلان کر دیا ہے۔ راﺅ انوار 1982ءمیں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے تھے جبکہ جنوری 2018ءمیں نقیب اللہ قتل کیس کے بعد کسی عہدے پر نہیں تھے۔
راؤانوار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عمرہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس کے باعث میرا ای سی ایل سے نام نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ میرے بچے ملک سے باہر رہائش پذیر ہیں۔ مجھےاورمیری فیملی کو جان کا خطرہ ہے۔ اس لیے ان کا پاکستان آنا ممکن نہیں وہ پاکستان نہیں آسکتے۔ لہذا ای سی ایل سے نام نکالتے ہوئے مجھے عمرے کیلئے جانے کی اجازت دی جائے۔ راؤ انوار نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں ہرپیشی پرپیش ہوتا رہتا ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں میرے کیس کا فیصلہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔
بیان حلفی دیتا ہوں کہ ملک سے باہرہونے کے باوجود میں ٹرائل کورٹ کی کاروائی کے دوران پیش ہوتا رہوں گا۔ میرے بیرون ملک جانے سے ٹرائل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ میرا نام ای سی ایل سے نکالنے کے احکامات صادر کرے۔ راؤ انوار نے سپریم کورٹ میں جمع درخواست میں وفاقی حکومت اورسندھ حکومت کو فریق بنایا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں