They are 100% FREE.

مولانا فضل الرحمٰن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مولانا فضل الرحمٰن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 4 جنوری، 2020

حکومتی اقدامات فوجی قیادت اور ادارے کو متنازع بنا رہے ہیں، فضل الرحمٰن


جمعیت علماء اسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کے اقدامات فوج کے ادارے اور قیادت کو متنازع بنا رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فوج ملک کادفاعی ادارہ  ہے، اس کے سربراہ غیر متنازع ہیں انہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مدت ملازمت میں توسیع پر سقم دور کرنے کا کہا تھا لیکن حکومت مزید سقم پیدا کر رہی ہے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں ایک جائز اور آئینی و قانونی جمہوری ماحول چاہیے، یہ لوگ نہ عوام کے نمائندے ہیں، نہ جمہوریت کی علامت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) اس طرح کی کسی قانون سازی سے خود کو لاتعلق رکھنا چاہتی ہے، یہ سب کچھ بہت عجلت میں کیا جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں ایک ترمیمی بل لایا جا رہا ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کے حوالے سے ہم اپنے اصولی موقف کو دہرانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کا موقف ہے کہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے جبکہ یہ اسمبلی اور حکومت عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بنائی گئی ہے، اس لیے یہ اسمبلی یہ بل منظور نہیں کرسکتی۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے مزید کہا کہ ووٹ میں حصہ لینا اور مخالفت میں ووٹ ڈالنا اس عمل کا حصہ بننے کے مترادف ہے، پارلیمانی کمیٹی ووٹ میں حصہ لے یا نہیں ان کی مرضی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں تمام اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کا فرض ن لیگ پر عائد ہوتا ہے، اس حوالے سے کل ن لیگ کو فون پر پیغام دیا تھا۔

منگل، 19 نومبر، 2019

سلائی مشین کی کمائی 70 ارب تک پہنچ گئی، فضل الرحمٰن

سلائی مشین کی کمائی 70 ارب تک پہنچ گئی، فضل الرحمٰن
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم عمران خان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی بہن علیمہ خان کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت این آر او دیا، سلائی مشین کی کمائی 70 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے آج وزیراعظم عمران خان کو ہدف تنقید بنایا اور خوب نشتر بازی کی اور کہا کہ خان صاحب ایسی سلائی مشین ہمیں بھی دے دو، ہم بھی 70 ارب روپے بنالیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں 5 سال سے تاخیر کا شکار ہے، کیس نہ سننے کی تمام درخواستیں عدالت نے رد کردیں، تم ہندوستان اور اسرائیل کے پیسوں پر پارٹی بنانے اور الیکشن لڑنے والےہو، ہم پر الزام لگاتے ہو جس کا دامن صاف ستھرا ہے، الزام لگاتے ہو تو تم حکومت کے ہو لاؤ ثبوت لے کر آؤ۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس مخالفین کو سرِبازار گالی دینے کے سوا کچھ کام نہیں رہ گیا، یہ گالم گلوچ بریگیڈ تیار کرکے اسی کو سیاست سمجھتے ہیں، پاکستان سے بدتہذیبی کی سیاست کا خاتمہ کریں گے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ حکمران بیرونی آقاؤں کے سہارے پر حکومت کرنے آئے تھے، ہم نے میدان میں آکر ان کے ایجنڈے کو ناکام بنادیا ہے، پاکستان سے جلد اس ناجائز حکومت کا خاتمہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ تم بازاری ہو، اللہ نے ہمیں شرافت عطا کی ہے، آؤ میرے اور اپنے کردار کا، میرے والد اور دادا کے کردار کا اپنے والد اور دادا سے تقابل کرلو، تمہاری جڑ یں کٹ چکی، عمران خان پاکستان کا گوربا چوف بنے کی کوشش کررہا ہے، اب یہ اپنے دن گنتے جائیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ عوام کا ووٹ چوری کرکے حکومت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ہم پاکستان کی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کےلیے نکلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں امن و امان ،نظم و ضبط اور تہذیب کے مظاہرے پر پوری دنیا حیران ہے، مظاہروں مذہب کے خوبصورت چہرے کو متعارف کردیا ہے، آج امریکا اور یورپ شرمندہ ہیں کہ ان لوگوں نے کیا کہا تھا۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ حکمران نااہل ہیں، ان کا ایجنڈا پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے، یہ کہتے تھے کہ موٹر وے پاکستان کو تباہ کرے گا، یہ ترقی کا راستہ نہیں، آج اسی نواز شریف کی موٹر وے کا افتتاح کرنے کے لیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے چین سے خوبصورت دوستی کو زخمی کیا، ہم چین کے اعتماد کو بحال کریں گے، خطے کے تمام مملک کی معیشت آگے جارہی ہے تنہا پاکستان میں تنزلی ہورہی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ سب کو چور کہنے والا آج کیا منہ دکھائے گا، کہتے تھے پاکستان کے 200 ارب ڈالر باہر پڑے ہیں، اب بیان دیا کوئی پیسہ نہیں، چیئرمین ایف بی آر نے بھی بیان دے دیا کوئی پیسہ باہر نہیں گیا۔

جمعرات، 31 اکتوبر، 2019

موقع ہے نااہل حکومت دستبردار ہو جائے، فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ناجائز اور نااہل حکومت کو پاکستان پر مسلط ہونے کا حق نہیں، ملک داؤ پر لگا ہے، آزادی مارچ وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کے لیے ہے، جمہوریت کی آزادی اور قانون کی عملداری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
جے یو آئی( ف) کا آزادی مارچ گجرات اور پھر لالہ موسیٰ پہنچا، جہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر قمر الزمان کائرہ نے مارچ کا استقبال کیا، بعد ازاں آزادی مارچ رات گئے جہلم پہنچ گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 50 لاکھ گھر بنانے کے دعوے کیے گئے، بنائے تو نہیں گھر گرائے گئے، اب بھی موقع ہے نااہل حکومت دستبردار ہو جائے، قوم کو مزید اذیت سے نجات دلائے۔
انہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر سیاسی قیادت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کا ڈراما ختم ہونا چاہیے، سیاسی قیادت کے خلاف نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے، تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں کہ حکومت ناجائز ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ آج اگر کشمیر پر بھارت نے یلغار کی ہے تو ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر کی ہے، کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی جنگ لڑتے رہیں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں