They are 100% FREE.

جے یو آئی ف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جے یو آئی ف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 3 نومبر، 2019

مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ موخر کردیا مگر کب تک؟ اب تک کی بڑی خبر آگئی

مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ موخر کردیا مگر کب تک؟ اب تک کی بڑی خبر آگئی
اسلام آباد : مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ ملاقات کیلئے رضا مندی ظاہر کردی ہے، جے یو آئی ف نے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں آئندہ کا حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا، مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کے استعفیٰ کی ڈیڈ لائن اے پی سی کے فیصلے تک موخر کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی ف کے رہنماﺅں کا مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اہم ترین اجلاس ہواجس میں آزادی مارچ کے آئندہ کے لائحہ عمل کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا، کل دوبارہ مشاورت کرکے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آئندہ 2 روز میں اے پی سی بلائے جانے کا امکان ہے، اکرم درانی کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ اجلاس میں اے پی سی میں تمام جماعتوں سے حتمی بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے اے پی سی میں دھرنا جاری رکھنے اور ڈی چوک جانے کے حوالے سے پوچھا جائے گا اور جو جماعتیں ساتھ نہیں جانا چاہتیں ان سے بھی واضح موقف لیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیر ہائی وے پر دھرنا جاری رہے گا۔
اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات پر رضا مندی ظاہر کردی ، ق لیگ کے سربراہ پیر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے استعفے کی ڈیڈ لائن اے پی سی کے فیصلے تک موخر کردی گئی ہے۔
خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کے روز وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ کیلئے اتوار تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کا وقت تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

ہفتہ، 2 نومبر، 2019

ترجمان پاک فوج کے بیان پر مولانا فضل الرحمان کا ردعمل

ترجمان پاک فوج کے بیان پر مولانا فضل الرحمان کا ردعمل
اسلام آباد : ترجمان پاک فوج کے بیان پر مولانا فضل الرحمان کا ردعمل، سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا ہے کہ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اور ان سے تصادم نہیں چاہتے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پوچھا کہ بتایا جائے کس ادارے کی بات کی گئی ہے، ان کے بیان سے ادارہ خود سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل ہماری رہبرکمیٹی کا اجلاس ہے آیندہ کا لائحہ عمل مشاورت سے طے کریں گے ۔
تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں کہ موجودہ حکومت کو مستعفی ہونا پڑے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے اس دوران ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کے بیان پر بھی ردعمل دیا۔
مولانا نے کہا کہ وہ اداروں کا احترام کرتے ہیں اور کسی ادارے سے تصادم کے خواہاں نہیں۔ مولانا نے کہا کہ میجر جنرل آصف غفور نے سوال کیا کہ کس ادارے سے متعلق بات کی جا رہی ہے، تو ترجمان پاک فوج کے اس بیان سے ادارہ خود سامنے آگیا۔
اس سے قبل ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی دھمکیوں اور الٹی میٹم کے بیانات پر ردعمل دیا گیا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان بتادیں وہ کس ادارے کی بات کررہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اپنے تحفظات متعلقہ اداروں کے پاس لیکرجائیں۔ سڑکوں پرآکر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ملک میں کوئی بھی انتشار ملک کے مفاد میں نہیں۔ کسی کو بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج ہمیشہ اپنی آئینی اور قانونی حدود میں رہتی ہے۔ فوج آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری حکومت کو سپورٹ کرتی ہے اور اب بھی حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے۔ فوج ایک غیر جانبدار ادارہ اور 2018 کے انتخابات میں بھی فوج نے اپنی آئینی اور قانونی ذمے داری پوری کی تھی۔
انتخابات کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اپوزیشن کو تحفظات ہیں تو اپنے تحفظات متعلقہ اداروں میں لے کر جائیں۔ میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کی ایک لاکھ فوج مشرقی سرحد پر فرائض انجام دے رہی ہے، بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ قوم نےدہشتگردی کی غفریت کامقابلہ کیا،جوکوئی دوسری قوم اورفوج نہ کرسکی۔ اب ملکی استحکام کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو دھمکی کی صورت میں الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ حکومت کی حمایت کرنا چھوڑ دیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں