They are 100% FREE.

سراج الحق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سراج الحق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 10 جون، 2020

جہاں ڈاکٹروں کو صحت کا تحفظ حاصل نہ ہو،وہاں مریضوں کا پرسان حال کون ہوگا،سینٹر سرا ج الحق

جہاں ڈاکٹروں کو صحت کا تحفظ حاصل نہ ہو،وہاں مریضوں کا پرسان حال کون ..
کوئٹہ:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جہاں ڈاکٹروں کو صحت کا تحفظ حاصل نہ ہو،وہاں مریضوں کا پرسان حال کون ہوگا۔ڈاکٹرز قوم کے محسن،شہداء اور ان کے خاندانوںکو سرکاری سطح پر پذیرائی ملنی چاہئے۔ سرکاری ہسپتالوں میں جگہ نہیں تو حکومت کرونا کے مریضوں کا علاج پرائیویٹ ہسپتالوں سے کرائے ۔

عوام کوعلاج کی سہولیات مہیا کرناحکومت کی ذمہ داری ہے۔لوگ اپنے بیماروں کو لیکر کہاں جائیں حکومت کورونا ٹیسٹ مفت کرے اور پرائیویٹ لیبارٹریوں کو ٹیسٹ فیس اور ہسپتالوں کو علاج کے اخراجات مہیا کرے ۔حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجٹ میں صحت کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرے ۔حکومت کے غیر سنجیدہ رویے نے کورونا کو پھیلنے کا موقع دیا ۔

حکومت خود احتیاط نہیں کرتی اسلئے عوام بھی بے احتیاطی کررہے ہیں جس سے بیماری کو پھیلنے کا موقع مل رہا ہے ۔کورونا وبا میں استعمال ہونے والی ممکنہ ادویات بھی مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہیں اور ایک انجکشن بلیک میں تین لاکھ روپے تک مل رہا ہے ۔ حکومتی انتظامات نامکمل اور ناکافی ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کا عوام کا اعتماد بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے ۔

ڈاکٹرز ہمارے ہیرو ہیں ہم ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حکومت کے منفی رویہ کے باوجود اپنی قوم کی خدمت کی اور لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کرکام کرتے رہے۔کورونا ڈیوٹی کرنے والے عملے کو ڈبل تنخواہ دی جائے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے ذاکراللہ مجاہد اورپاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر ڈاکٹر محمد افضل سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے گزشتہ روز کورونا کا شکار ہوکر شہید ہونے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ مقصود علی کی رہائش گاہ پر ان کے خاندان سے تعزیت کی اور مرحوم کیلئے بلندئ درجات کی دعا کی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کنفیوژڈ حکومتی پالیسی کی وجہ سے کرونا میں اضافہ ہوا ہے ۔یہ امربھی قابل افسوس ہے کہ کورونا کے بارے میں اب بھی معاشرے میں شکوک و شبہات پھیلائے جارہے ہیں۔

اب تک ڈیڑھ درجن کے قریب نامور ڈاکٹرز کرونا کی وجہ سے شہید ہوچکے ہیں ۔ملک بھر میں سینکڑوں میل اور فی میل ڈاکٹرزاور پیر ا میڈیکل سٹاف کرونا کا شکار ہوچکے ہیں ۔حکومت نے خود بھی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن واضح کرچکی ہے کہ کورونا سے وفات پانے والے کی میت سے کورونا نہیں پھیلتا مگر اس کے باوجود انتظامیہ لوگوں کو ان کے پیاروں کی میتیں دے رہی ہے نہ انہیں جنازہ پڑھنے دیا جاتا ہے ۔

حکومت کے اس رویے سے لوگوں کے اندر نفرت پھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسری بیماریوں کے مریضوں کا علاج ہورہا ہے نہ انہیں ہسپتالوں میں داخل کیا جارہا ہے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور ناقابل برداشت ہے ۔صرف کورونا وارڈ اور آئی سی یو میں پی پی ایز کی فراہمی کافی نہیں ،ہسپتالوں کی ایمرجنسی سمیت تما م وارڈز اور عملے کو پی پی ایز کی فراہمی ضروری ہے ۔

کئی شہروں کے ہسپتالوں میں طبی عملی تربیت یافتہ نہیں ڈاکٹرز کی تنظیموں کے ذریعے غیر تربیت یافتہ عملے کی جنگی بنیادوں پر تربیت کی جائے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرونا وباء کے دوران ڈاکٹروں نے فرنٹ لائن فائٹرز کا کردار اد ا کیا مگر حکومت نے ڈاکٹرز کی حفاظت کیلئے کچھ نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ ملک کئی نامور ڈاکٹروںسے محروم ہوگیا ہے ۔حکومت ڈاکٹروں اور طبی عملے کو حفاظتی لباس (پی پی ایز) اور سامان مہیا کرنے میں ناکام رہی۔

پیر، 1 جون، 2020

حکومت کا کام رونا دھونا نہیں، مسائل حل کرنا ہے، سراج الحق

نواز شریف کی تصویر اصل مسئلہ نہیں بلکہ کورونا سے نمٹنا مسئلہ ہے ، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ آج لندن میں بیٹھے نواز شریف کی تصویر مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ کورونا اور بحرانوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
اپنے ایک بیان میں سراج الحق نے کہا کہ چینی سے متعلق کمیشن کی رپورٹ پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کا کام رونا دھونا اور آنسو بہانا نہیں، مسائل حل کرنا ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ حکومت ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو حفاظتی سامان فراہم نہیں کر رہی، جبکہ کورونا سے متاثرہ لوگوں کیساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت 12 سو ارب روپے کا امدادی پیکیج کورونا مریضوں پر خرچ کرے۔
سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے ٹڈی دل کے حملوں سے نمٹنے کیلئے بھی کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کی، جبکہ ٹائیگر فورس کا شور تو بہت سنتے تھے نظر کہیں نہیں آ رہی۔
انہوں نےکہا کہ حکمران ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو ان علاقوں میں جا کر شور مچائیں۔
سراج الحق نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم نہ ہوتے تو طیارہ حادثے پر وزیراعظم اور وزیر کا استعفیٰ مانگتے۔

جمعہ، 29 مئی، 2020

میگا کرپشن کیسز سے متعلق نیب کے فیصلے خوش آئند ہیں، سراج الحق

میگا کرپشن کیسز سے متعلق نیب کے فیصلے خوش آئند ہیں، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کیسز نمٹانے کیلئے نیب کے حالیہ فیصلے خوش آئند ہیں، ان فیصلوں پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے، نیب کی طرف سے ماضی میں بھی ایسے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
لاہور سے جاری بیان میں سراج الحق نے کہا ہے کہ نیب کے پاس 150 میگا کرپشن کیسز کی فائلیں فیصلوں کی منتظر ہیں، پانامالیکس کے 436 ملزمان کیخلاف کارروائی کے پر زور دعوے کیے گئے، تاہم قوم ان وعدوں پر عملدرآمد کی منتظر رہی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت میں بیٹھے مافیاز کا احتساب نہیں ہوتا کرپشن کیسز نہیں نمٹیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ ارکان خود کو پیش کردیں تو کسی کو احتساب پر اعتراض نہیں ہوگا۔

جمعرات، 14 مئی، 2020

ملک میں کورونا ٹیسٹ مفت ہونا چاہیے، سراج الحق

ملک میں کورونا ٹیسٹ کو تو مفت ہونا چاہیے، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ لوگ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کورونا ٹیسٹ نہیں کرانے جاتے، ملک میں کورونا ٹیسٹ کو تو مفت ہونا چاہیے۔
سراج الحق نے سینیٹ اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اس وبا کے وقت انسانیت، قوم کے لیے خیر کا راستہ تلاش کریں جو توبہ کا راستہ ہے، وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان لڑائی ہے، ہمارے پاس یہ وبا اچانک نہیں آئی، یہ پہلے چین، پھر اٹلی اور امریکا گئی، وبا سے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کو فتح کرنے پر لگے ہیں۔
سراج الحق نے کہا ہے کہ چہرے پر ماسک تو لگائے ہیں لیکن زبان کو تالے نہیں لگائے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ملک میں دور دراز علاقوں میں لیب قائم کی جائیں۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے جو پاکستانی واپس آئے ان سے ڈبل ٹکٹ کے پیسے لیے، وطن واپسی پر سمندر پار پاکستانیوں کو ہوٹلوں میں رکھا اور ان سے کرایہ وصول کیا، سمندر پار پاکستانیوں کو بل واپس کیا جائے۔
مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی جارحیت سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیرمیں کورونا وائرس کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

پیر، 4 مئی، 2020

تاجروں کیلئے مزید لاک ڈاؤن قابل برداشت نہیں ہے، سراج الحق

 تاجروں کیلئے مزید لاک ڈاؤن قابل برداشت نہیں ہے ، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ کراچی کے تاجروں کے لیے مزید لاک ڈاؤن قابل برداشت نہیں ہیں، حکومت کے ریلیف اعلانات ابھی تک اعلانات ہی ہیں۔
سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایک ہی پالیسی اپنائی جائے تاکہ کورونا سے نمٹنے کا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جاسکے،  جبکہ اگر وزیراعظم یا ان کی ٹیم لاک ڈاؤن کوٹھیک نہیں سمجھتی تو فیصلے سے کس نے روکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی سے کورونا عام ہورہا ہے، جب لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں تو جہاز، ٹرینیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کیوں بند ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو صرف اپنی انا کو تسکین پہنچانے سے غرض ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کی امدادی سرگرمیاں ملک بھر میں نظر آرہی ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں چار گنا تک بڑھ چکی ہیں مگر وزیراعظم خاموش ہیں۔

جمعہ، 1 مئی، 2020

مدینہ کی ریاست گفتار نہیں کردار سے ہونی چاہیے، سراج الحق

 مدینہ کی ریاست گفتار نہیں کردار سے ہونی چاہیے، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مدینہ کی ریاست گفتار سے نہیں کردار سے ہونی چاہیے، حکومت سودی نظام ختم کرنے کا اعلان کرے۔
سینیٹر سراج الحق لاہور کے علاقے گلشن راوی میں مستحق افراد کے لیے قائم ریلیف کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے رضا کاروں نے ایک ارب 7 کروڑ کا امدادی سامان تقسیم کیا۔
ایک سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت ایشو کھڑا ہونے سے پہلے قادیانیوں کو اقلیتوں کے کمیشن سے نکال دے۔

جمعہ، 10 اپریل، 2020

کورونا ایسی وباء ہے جس کے سامنے پوری دنیا بے بس ہو چکی ہے، ہم توبہ کر لیں تو خداوند کریم ہمیں ہر آزمائش سے سرخرو کر کے نکالے گا، سینیٹر سراج الحق

کورونا ایسی وباء ہے جس کے سامنے پوری دنیا بے بس ہو چکی ہے،
ایبٹ آباد : جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کی مثال ایک مسجد کی مانند ہے جس کی قیادت اور امامت عالم دین ہی کر سکتے ہیں، کورونا وائرس نے آج پوری دنیا سمیت پاکستان بھی اس کی زد میں ہے، کورونا ایک ایسی وباء ہے جس کے سامنے امریکہ، روس، فرانس، اٹلی، جرمنی اور چین جیسے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک سمیت پوری دنیا بے بس ہو چکی ہے، مسلمانوں کیلئے یہ وقت الله تعالیٰ سے رجوع اور توبہ کا ہے، آج بھی اگر ہم الله اور اس کے پیارے حبیب کے طریقوں پر چلنے کا عہد اور عزم کر لیں تو خداوند تعالیٰ ہر آزمائش سے ہمیں سرخرو کر کے باہر نکالے گا۔
وہ گذشتہ روز سابق ایم این اے شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک اور سابق نائب تحصیل ناظم اوگی حافظ محمد یونس کے بڑے بھائی بزرگ عالم دین استاد الاساتذہ مولانا عبدالرزاق کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد بات چیت کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے فطرت اور قدرت کو چیلنج کیا ہے تو ان پر طرح طرح کی آزمائشیں اور عذاب آئے ہیں، آج کی دنیا نے بھی قانون قدرت کو چیلنج کیا، امریکہ و یورپ نے ہم جنس پرستی کو پروان چڑھانے کی کوشش کی، آج بھی کورونا کی شکل میں جس بڑی آزمائش سے سب دوچار ہیں، آج سب لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ اپنا ہاتھ منہ کان اور ناک پر نہ لگائیں۔

اتوار، 1 مارچ، 2020

میرا جسم میری مرضی ‘‘کے نعرے ملک کی اسلامی شناخت پر دھبہ،سراج الحق نے عورتوں کے حق میں ملک گیر مہم چلانے کااعلان کر دیا

’’میرا جسم میری مرضی ‘‘کے نعرے ملک کی اسلامی شناخت پر دھبہ،سراج الحق نے عورتوں کے حق میں ملک گیر مہم چلانے کااعلان کر دیا
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘کے نعرے ملک کی اسلامی شناخت پر دھبہ ہیں، ایسےعناصر  کی سرکاری سطح پر حوصلہ شکنی  ہونی چاہئے،خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے یکم سے 20مارچ تک ملک بھر میں خصوصی مہم چلائی جائے گی، پاکستانی عورت ملک میں مغربی کلچر نہیں ،اسلام کی پاکیزہ تہذیب چاہتی ہے تاکہ ملک کو اس کی اساس اور نظریے کے مطابق اسلام کا گہوارہ بنایا جاسکے ،نا م نہاد مہذب مغربی دنیا میں عورت کو آمدن کا ذریعہ بنالیا گیاہے،ملک میں خواتین کا استحصال ہورہاہے،بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں چھوڑآتے ہیں جبکہ اسلام ماں کو اتنا اعلیٰ و ارفع مقام بخشاہے کہ اسے قدموں میں جنت رکھ دی ہے،جماعت اسلامی عورت کے بارے میں جاہلانہ رسوم و رواج کے خاتمہ اور انہیں وراثت میں حق دلانے کی جدوجہد کر رہی ہے،ہم چاہتے ہیں کہ ہر ضلع میں بچیوں کے لیے یونیورسٹی بنے اور ان کے لیے کھیلوں کا باپردہ انتظام ہوتاکہ وہ بھی ڈاکٹراور انجینئرز بنیں ۔
ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے مقامی ہوٹل میں 8 مارچ ، عالمی یوم خواتین کے حوالے سے منعقدہ خواتین کانفرنس اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس سےڈاکٹردردانہ صدیقی ،ڈاکٹرسمیحہ راحیل قاضی،ربیعہ طارق اورزبیدہ جبیں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف خواتین رہنماؤں نے بھی خطاب کیا،کانفرنس میں  مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف،ذکر اللہ مجاہد ، وسیم قریشی، بیگم سراج الحق ،آشفتہ ریاض فتیانہ،سسٹر گلوریا ،ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر ، سسٹر شمیم ،میرین شرف جوزف بھی شریک تھیں۔
سینیٹر سراج الحق نے پریس کانفرنس میں چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام صوبوں میں خواتین کے لیے علیحدہ یونیورسٹیاں قائم کی جائیں،دیہاتی علاقوں میں ہیلتھ سنٹرزاور ڈسپنسریاں قائم کی جائیں،خواتین کوشہری دفاع اورفرسٹ ایڈ کی ٹریننگ دی جائے،عورت کی خریدوفروخت پرمکمل پابندی عائد کی جائے،جیلوں میں بےگناہ قیدخواتین کی رہائی کےلیےانکےمقدمات کو ترجیحی بنیادوں پرنمٹایاجائے،ذرائع ابلاغ میں خواتین کے استحصال کو روکا جائے اور میڈیا پر فحاشی و عریانی کے پروگرامات کو روکا جائے تاکہ معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات کا سدباب ہوسکے،ذرائع ابلاغ میں خواتین کو اپنے موقف کے اظہار کے مواقع فراہم کیےجائیں اور اس سلسلہ میں ان کے لیےبہترین ماحول اورسہولیات کااہتمام کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری مائیں،بہنیں، بیٹیاں ملک میں اسلامی تہذیب و تمدن کا غلبہ چاہتی ہیں،بدقسمتی سے ملک میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو میرا جسم میری مرضی اور مغرب کے فحش عریاں اور حواس با ختہ کلچر کو پروموٹ کر کے ملک کی اسلامی شناخت پر دھبہ لگانا چاہتے ہیں،ایسے عناصر کی سرکاری سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے،جماعت اسلامی جلد ہی سینیٹ میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کا بل پیش کرے گی ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اسلام نے عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے جو احترام دیاہے ، وہ دنیا کا کوئی دوسرا مذہب نہیں دے سکتا،عورت کو بازار کی زینت بنانے والے معاشروں نے عورت پر جو ظلم کیاہے ، آج اس کا نتیجہ ہے کہ وہاں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ اسلام عورت کو گھر کی ملکہ کا عظیم مرتبہ دیتاہے،اسلام نے عورت کو گھر میں قید نہیں کیا بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اسے اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی اور حوصلہ افزائی کی ہے حتیٰ کہ جنگ کے میدانوں میں بھی خواتین شامل رہی ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی 8 مارچ عالمی یوم خواتین کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں لاہور ، کراچی ، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں خواتین مارچ اور خواتین کانفرنسز کا انعقاد کرے گی ۔ ہم نے الیکشن کمیشن سے تحریری مطالبہ کیاہے کہ جو امیدوار اپنی بہن بیٹی کو وراثت میں حق نہیں دیتا ، اسے الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے ،جماعت اسلامی قرآن سے شادی جیسی جاہلانہ رسم ، وٹہ سٹہ، جہیز اور کاروکاری جیسے مظالم کا خاتمہ کرے گی اور عوت کو وہ مقام دلایا جائے گا جس کا اللہ اور رسولﷺ نے اسے مستحق ٹھہرایا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم خواتین اور بیٹیوں کے لیے حضرت عائشہ صدیقہؓ ، حضرت فاطمۃ الزہرہؓ ، حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور حضرت مریم ؑ بہترین نمونہ ہیں۔

پیر، 10 فروری، 2020

تبدیلی خوف کی علامت بن چکی،وزیر اعظم عمران خان گھبرانے کی بجائے آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کے نام بتا دیں:سراج الحق

تبدیلی خوف کی علامت بن چکی،وزیر اعظم عمران خان گھبرانے کی بجائے آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کے نام بتا دیں:سراج الحق
کراچی: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ تبدیلی پہلے مذاق اور اب خوف کی علامت بن چکی ہے، سرخی پاڈر اترنے کے بعد اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آیا ہے، جن لوگوں نے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا تھا اب وہ خود بھی پریشان ہیں،وزیر اعظم عمران خان گھبرائیں نا  آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کے نام بتا دیں قوم اس پر بھی ان کا شکریہ ادا کرے گی۔
نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کچھ پیاروں کی خاطر عوام کو مہنگائی کے سونامی کے حوالے کر دیا اور حکومت نے ملک کے حال کو بدحال اور مستقبل کو تاریک کر دیا۔ سینٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سال 2020کو خوشخبریوں کا سال قرار دے رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کے تمام دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ چور حکومت نے قومی مفادات کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اب وزیر اعظم گھبرائیں نہ آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کے نام بتا دیں، قوم اس پر بھی ان کا شکریہ ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے نعرے پر آنے والی حکومت محاسبہ کے ذکر پر گھبرا جاتی ہے۔ وزیر اعظم اب بھی چوروں کو نہ چھوڑنے کی بات کرتے ہیں لیکن ان کی گفتگو میں پہلے والا دم خم نہیں رہا۔ 15ماہ کے دوران قرضوں میں 39 فیصد اضافہ ہوا حالانکہ وزیر اعظم آئی ایم ایف کے پاس جانے سے زیادہ بہتر موت کو گلے لگانا سمجھتے تھے جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے صرف قرضہ ہی نہیں لیا بلکہ پورا معاشی نظام آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب عوام حکمرانوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر ان سے اپنی محرومیوں کا حساب مانگ رہے ہوں گے۔

اتوار، 26 جنوری، 2020

صرف چند وزراءنہیں پورا نظام بدلنے کی ضرورت،حکومت کا حکومت سے دنگل بغیر ٹکٹ کے پوری دنیا دیکھ رہی ہے :سراج الحق

صرف چند وزراءنہیں پورا نظام بدلنے کی ضرورت،حکومت کا حکومت سے دنگل بغیر ٹکٹ کے پوری دنیا دیکھ رہی ہے :سراج الحق
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نےکہاہےکہ حکمرانوں کی آپس کی لڑائیاں عوام کے لیے نہیں ذاتی مفادات کے لیے ہیں،حکومت کا حکومت سے دنگل بغیر ٹکٹ کے پوری دنیا دیکھ رہی ہے،نااہلی اور غیر سنجیدگی سے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے اور ہڑپشن کا بازار گرم ہے،صرف چند وزراءکو نہیں پورا نظام بدلنے کی ضرورت ہے،حکومت کے اپنے گھر میں آگ لگ گئی ہے،خیبر پختونخوا کے تین وزراءکو فارغ کردیا گیاہے، پنجاب میں حکومتی ارکان الگ گروپ بنا رہے ہیں اور وفاق اور سندھ میں ایک سرکاری ملازم پر لڑائی ہورہی ہے، ایک ملازم پر لڑنے والے والے وزیراعظم کہتے ہیں میں امریکہ اور ایران کے درمیان صلح کراؤں گا.
جب آٹے کا بحران پیدا کرنے کی سازش ہو رہی تھی کیا اس وقت حکومت سو رہی تھی یا حکومت نے خود اپنے لوگوں کو راتوں رات اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالنے کا موقع فراہم کیا؟وزیراعظم کہتے ہیں کہ2020 ءخوشخبری کا سال ہے جس میں پہلی خوشخبری 35روپے کلو والے آٹے کا 70 روپے کلو میں بھی نہ ملنا اور 50 روپے والی چینی کا 80روپے کلوتک پہنچ جانا ہے،اگر ایسی ہی خوشخبریاں ملتی رہیں تو عوام ہر خوشخبری پر وزیراعظم کو بددعائیں دیں گے،جن لوگو ں نے یہ ظلم کا نظام مسلط کیا ہے،ان کو بھی احساس ہوگیاہے کہ یہ نظام اب مزید چلنے والا نہیں،وزیراعظم بیرونی دوروں میں ملک و قوم کی تضحیک کو پارسائی سمجھتے ہیں اور ریاست کے خلاف خود سلطانی گواہ بن جاتے ہیں،وزیراعظم کے کان میں جھوٹی خبریں کون ڈالتاہے اس کا پتہ لگانا بہت ضروری ہو گیاہے ۔

پیر، 20 جنوری، 2020

آٹا بحران نے حکمرانوں کی نااہلی کا پول کھول دیا ہے، سراج الحق

 آٹا بحران نے حکمرانوں کی نااہلی کا پول کھول دیا ہے، سراج الحق
جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے کے بحران نے حکمرانوں کی لاعلمی اور نااہلی کا پول کھول دیا ہے۔ پہلے عمران خان کہتے تھے جو حکومت ڈلیور نہ کر پا رہی ہو اس کو ٹیکس یا بل نہیں دینا چاہیے تو کیا موجودہ حکومت کو ٹیکس یا بل دیا جانا جائز ہے۔
لاہور سے جاری ایک بیان میں سراج الحق نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں ہر چیز اوپر گئی ہے، کوئی چیز نیچے آئی تو آمدن ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی نحوست کی وجہ سے ملک سے خیر و برکت اٹھ گئی ہے، آٹے سمیت خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش نہ کی تو عوام اسے زیادہ دیر برداشت نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آٹے اور گندم کا بحران پیدا ہونے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو پتا لگائے کہ یہ بحران کیسے پیدا ہوا، اور سازش میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔

ہفتہ، 28 دسمبر، 2019

وزیراعظم ملک کو آئینی انداز سے چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے: سینیٹر سراج الحق

 وزیراعظم ملک کو آئینی  انداز سے  چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے: سینیٹر سراج الحق
لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ثابت ہوگیاہے کہ وزیراعظم ملک کو آئینی ، جمہوری ، پارلیمانی اقدار کے ساتھ چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے،ملک اِس وقت ایک بحران سے نکلتاہے تو دوسرے بحران کا شکارہوجاتا ہے،حکومت نے غیر ذمہ دارانہ رویوں اور طرزِ حکمرانی سے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو مفلوج کردیا ہے، قانون سازی کی بجائے آرڈی نینس کے ذریعے ایڈہاک ازم مستحکم ہورہاہے،ملک آئینی پارلیمانی بحران کا شکارکردیا گیا ہے،ابھی تک الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تقرریاں نہیں ہوئیں، فوج کے سربراہ کی تقرری پر بھی حکومت نے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی انتہا کردی ہے،سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت خصوصی عدالت کے فیصلہ پر بھی حکومت نے اداروں کے درمیان احترام کی تمام حدیں پامال کردی ہیں ،اگر حکومت پہلے سے یہی موقف رکھتی تھی تو خصوصی عدالت سے اپنی پٹیشن واپس لے لیتی مگر یہ کرنے کی جرأت نہ کرسکی ،یہ حکومتی نااہلی اور بے عملی کا بین ثبوت ہے۔
 منصورہ میں جاری مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک اس وقت کسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا، وزیراعظم اپنے منصب کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام ہیں،آئین کی حدود میں رہتے ہوئے قبل از وقت انتخابات یا لیڈر آف دی ہاؤس کی تبدیلی قابلِ قبول ہوسکتی ہے لیکن آئین سے ماوراء کوئی اقدام عوام کے لیے قابل قبول نہ ہوگا اور ہر غیر آئینی اقدام کی مزاحمت کی جائے گی قومی قیادت، حکومت اور اپوزیشن غیر سنجیدہ رویئے ترک کریں،ملک کودرپیش خطرات اور بحرانوں خصوصاً اقتصادی بدترین صورتحال اور عوام کی حالت زار کا ادراک کریں،
قومی ترجیحات پر حکومت ، سیاست اور ریاست کا ازسرِ نومتفق ہونا قومی سلامتی کے لیے وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہحکومت نے دعویٰ کیاتھا کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہے جبکہ عملاً ریاستی اور آئینی اداروں میں غلط فہمی اور ٹکراؤ بڑھتا جارہاہے،تحریک انصاف نے ریاستی اداروں کو جس طرح متنازع بنایا ہے ماضی میں اِس کی کوئی مثال نہیں ملتی ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا معاشرے کی رہنمائی کے لیے کردار صفر ہے،وکلا، ڈاکٹرز، عدلیہ، کے درمیان تناؤ کے خاتمہ کے لیے حکومت بروقت اقدامات کرنے میں بھی نااہل ثابت ہوئی ہے،لاپتہ افراد کی بازیابی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا،ذرائع ابلاغ کی آزادی پر قدغن عائد کرنے کے خفیہ اعلانیہ اقدامات ، میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کے لیے ماحول نہ بنانا بھی حکومتی نا اہلی ہے عملاً یہ فاشزم کی طرف پیش رفت ہے،سیاسی جمہوری محاذ پر دوریاں اور تناؤ سےخطرہ بڑھتا جارہاہے،روز وعدے ،اعلانات اور پھر یوٹرن نے حکومت کو بے وقعت کردیاہے ،مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آگیاہے ، حکومت کا ہر لفظ بے اعتبار ہوچکاہے،بچے تعلیم سے بیمارعلاج سے اور مظلوم انصاف سے محروم ہے۔ اِس ساری صورتحال کی ذمہ دار حکومت ہے۔

جمعہ، 20 دسمبر، 2019

اداروں کے درمیان تناؤ بڑھ گیا، ایک دوسرے کو طاقت دکھا رہے ہیں، سراج الحق


امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا، ادارے ہم آہنگی کے بجائے ایک دوسرے کو طاقت دکھا رہے ہیں۔
سراج الحق مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری کو اقوام متحدہ کی طرف سے سفیرِ امن بننے پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے۔
اپنے خطاب میں امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ بڑے ادارے اپنے مفادات کے اسیر ہوگئے ہیں، لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد پرویز مشرف کو فوج کا حصہ نہیں سمجھتے۔
انہوں نےکہا کہ لوگ فوج کے ساتھ محبت کرتے اور مضبوط فوج کو پاکستان کی ضرورت سمجھتے ہیں۔
سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں، لوگ اس وقت فوج کے بارے میں نہیں بلکہ صرف پرویز مشرف کے بارے میں تبصرہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن کے دور میں پرویز مشرف پروٹوکول کے ساتھ گئے، وہ آج جمہوریت کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے حکمران امریکا کے سامنے سجدہ ریز ہے، مشائخ خانقاہوں سے نکل کر امت کی رہنمائی کریں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت نے اندرونِ ملک مذاق بنایا ہوا ہے، جبکہ بیرون ملک معاملات کو کھلونا بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک صدر طیب اردوان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کانفرنس میں عدم شرکت پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات، 28 نومبر، 2019

عمران خان کی پوری ٹیم ہی نالائقوں کا ٹولہ ہے، سراج الحق


امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر قانون ہی نہیں، عمران خان کی پوری ٹیم نالائقوں کا ٹولہ ہے۔
ایک بیان میں سراج الحق نے کہا کہ ملک و قوم کی باگ ڈور ایسے غیر سنجیدہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہونا افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں آئین اور اداروں سے ایسے مذاق اور کھلواڑ کی مثال نہیں ملتی جو موجودہ حکومت کررہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ حکومت کی نالائقی روز اول سے واضح تھی لیکن حالیہ واقعات نے ثابت کردیا کہ یہ مہا نالائق ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو بچانے کی کوشش میں حکومت کا اصل چہرہ بےنقاب ہوگیا ہے اور اس کی بیساکھیاں ٹوٹنے والی ہیں۔

اتوار، 17 نومبر، 2019

حکومت نے ملک میں بےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیا،فاٹا انضمام کے وعدے پورے نہ کئے تو عوام حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے:سراج الحق

حکومت نے ملک میں بےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیا،فاٹا انضمام کے وعدے پورے نہ کئے تو عوام حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے:سراج الحق
باجوڑ:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت نے 15 مہینوں میں عوام سے کیا گیا کوئی ایک وعدہ بھی پورانہیں کیا،خیبر پختونخوا میں انضمام کےبعدفاٹابھی اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کی طرح اہم ہے،انضمام کے وقت فاٹا عوام سے کیے گئے وعدوں کو حکومت نے اب تک پورا نہیں کیا، فاٹا کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے کے پیکیج اور فاٹا کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے ہنگامی پروگرام کا اعلان کیاگیالیکن حکومت نےروزگار دینے کی بجائے روزگار کے پرانے ذرائع پر بھی پابندیا ں لگا دیں،حکومت نے فاٹا میں امن عامہ کو بہتر بنانے کا بھی اعلان کیاتھااِس کےبرعکس حقیقت یہ ہےکہ اِن علاقوں میں امن وامان کےمسائل دوبارہ سراٹھا رہے ہیں،اب یہاں لیوی کا پرانا نظام بھی نہیں رہااورپولیس کا نظام ابھی تک مستحکم نہیں ہوسکا،حکومت نے ملک میں بےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیا،فاٹا انضمام کے وعدے پورے نہ کئے تو عوام حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے۔

جمعرات، 14 نومبر، 2019

نواز شریف کے معاملے میں حکمران کنفیوژ ،حکومت ہمیشہ سو جوتے اور سوپیاز کھانے کے لیے تیاررہتی ہے:سراج الحق

 نواز شریف کے معاملے میں حکمران کنفیوژ ،حکومت ہمیشہ سو جوتے اور سوپیاز کھانے کے لیے تیاررہتی ہے:سراج الحق
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نےکہا ہے کہ میاں نواز شریف کے معاملے میں حکومت کنفیوژ اور آپس میں تقسیم ہے،حکومت ہمیشہ سو جوتے اور سوپیاز کھانے کے لیے تیاررہتی ہے۔
سینیٹ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر میڈیا نمائندوں کے سوالوں کاجواب دیتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نےکہا کہ ،حکومت میں فیصلے کی صلاحیت نہیں ،حکومت دودھ دیتی ہے تو اس میں بھی مینگنیاں ڈال دیتی ہے۔دوسری طرف ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے لند ن میں مقیم صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران سراج الحق نے کہاکہ بین الاقوامی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی سنگیں صورت حال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے،مقبوضہ کشمیر میں کرفیولاک ڈاؤن اورپابندیوں کے100دن پورے ہو گئے ہیں،عالمی برادری کو آگے بڑھ کر نہتےکشمیریوں پرپابندیوں کو ختم کرانا چاہئے اور کشمیریوں کوحق خود ارادیت دلانا چاہیئے، ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادی کو مسئلہ کشمیر کی حساس صورت حال سے آ گاہ کیا جائے،اس سلسلے میں مغربی ممالک میں کشمیری تارکین وطن کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں،انہیں کشمیر کی حقیقی تصویر سے دنیا کوآگاہ کرنا چاہئے۔
سینیٹر سراج الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی، پاکستانی قوم اور مسلم اُمہ کو کشمیر کے مسئلے پر متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہے،بھارتی حکومت کا متنازع علاقے پر جبری قبضہ ایک غیر قانونی اقدام ہے جو بری طرح ناکام ہوگا، پاکستانی اور کشمیری عوام اسے کبھی قبول نہیں کریں گے،بھارت نے پورے مقبوضہ علاقے کو ایک جیل بنادیاہےاوروہاں پرنہتے کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے ہزاروں تازہ فوجی دستے بھی تعینات کردیے۔سراج الحق نے کہا کہ بھارت کی یہ بے رحمی اور جارحیت کبھی کامیاب نہیں ہوگی،دنیا نے مقبوضہ کشمیر میں نئی دہلی کے فیصلے کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے مظاہرے دیکھے ہیں۔انہوں نے بھارتی فوج کے آگے ڈٹ جانے والے کشمیری نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام بھارت سے آزادی حاصل کرنے کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔
سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ مودی نے گجرات میں 2 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا، 370 اور 35 اے کا خاتمہ اچانک نہیں ہوا، بھارت کی انتہا پسند جماعت بی جے پی کئی دہائےوں سے اس کا منصوبہ بنا چکی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب پر مبنی ہے، اسے مسلمانوں کے ساتھ رویہ بہتر کرنا ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پونے 2 ارب مسلمانوں کو ویٹو پاور اور سلامتی کونسل کی نمائندگی دی جائے۔انہوںنے کہا کہ بھارت میں اقلیت سکھ اور ہندو دلت برادری بھی خطرہ میں ہے، برہمن ٹولے نے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے بھارت پر قبضہ جما کر اقلیتوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے،گزشتہ 100 دنوں کے دوران سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،جبری پابندیاں عائد ہیں ، کشمیر کی اس صورتحال سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے لئے کشمیری تارکین وطن اپنا کردار ادا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری تنظیموں نے برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک میں بھرپور احتجاج کیا ہے،اس احتجاج کے نتیجے میں یورپی کمیونٹی کشمیر کی طرف متوجہ ہوئی ہے ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں