They are 100% FREE.

کورونا وائرس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کورونا وائرس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 14 جون، 2020

سعودی عرب کا رواں سال حج منسوخ کرنے پر غور

سعودی عرب کا رواں سال حج منسوخ کرنے پر غور

کراچی (نیوزڈیسک )سعودی عرب کے حکام نے 1932میں سلطنت کے قیام کے بعد پہلی بار رواں سال حج منسوخ کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت حج و عمرہ کے سینئر عہدیدار نے برطانوی اخبار ʼفنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ʼملک میں کورونا وائرس کے کیسز ایک لاکھ سے زائد ہونے کے بعد حکام رواں سال حج منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

 ʼحکام معاملے کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں اور مختلف پہلوؤں پر غور کیا جارہا ہے، جبکہ باضابطہ فیصلہ ایک ہفتے کے اندر کر لیا جائے گا۔

بدھ، 3 جون، 2020

ماسک نہ پہننے پر جرمانے ..پشاور میں شہری کو ماسک نہ پہنے پر ایک ہزار کی رسید تھما دی گئی

ماسک نہ پہننے پر جرمانے شروع
پشاور: پشاور میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود ماسک نہ پہننے پر جرمانوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔شہری کو احکامات نہ ماننے پر 1000 روپے کی رسید تھما دی گئی۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے بار بار کہا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے غیر ضروری گھر سے باہر نہ نکلیں اور اگر گھر سے باہر نکل رہے ہیں تو احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر اپنایا جائے۔
 

تاہم ابھی بھی لوگ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بے خوف ہوکر احتیاطی تدابیر اپنائے بغیر گھروں سے باہر نکل رہے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔حکومتی اعلان کے باوجود متنی کے علاقے میں شہری نے ماسک نہیں پہنا تھا۔قانون کی خلاف ورزی پر اسسٹنٹ کمشنر نے شہری کو جرمانہ کردیا۔

شہری کو جرمانے کی جو رسید دی گئی اس پر تحریر ہے کہ ماسک نہ پہننے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

وفاقی دارلحکومت میں فیس ماسک لازمی کردیا گیا ہے ،فیس ماسک کا استعمال نہ کرنے اور عوامی مقامات پر منہ نہ ڈھاپنے والوں کو تین ہزار روپے تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق اسلام اباد کی حدود میں تمام پبلک مقاما ت ،بازارو ں اور شاپنگ مالز میں فیس ماسک اور منہ ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر تین ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔
 

دوسری جانب حکومت آزاد کشمیر نے بدھ سے اسمارٹ لاک ڈائون سخت کردیا ، بلاضرورت گھروں سے باہر نکلنے پر500 روپے جرمانہ ہوگا، 12 سال سے کم اور 8سال سے زائد عمر کے افراد کے گھرو ں سے نکلنے پر پابندی ہوگی، ایس او پی کی خلاف ورزی پر تاجروں ، دکانداروں، ہوٹل مالکان کو بھی جرمانے بھرنے ہوں گے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق محکمہ صحت کے ایس او پیز پرعمل نہ کرنے پرتاجروں پر5سی15 ہزار روپے کا جرمانہ کیا جائیگا، ماسک نہ پہننے والے خریدار کو تاجر کوئی چیز فروخت نہیں کرسکیں گے، خلاف ورزی پر درمیانی درجے کے ہوٹلوں کو15 ہزار اور فور اسٹار ہوٹلوں پر ایک لاکھ تک جرمانہ دینا ہوگا۔

نجی کمپنیوں، تعمیراتی کمپنیوں اور بینکوں پرایس اوپی کی خلاف ورزی پر5 لاکھ تک کے جرمانے کیے جائیں گے، نوٹی فکیشن میں تعلیمی ادارے، مزارات ، عوامی اجتماعات،کھیل کے میدان، سینما ہال، بیوٹی پارلرز، حجام کی دکانیں بدستوربند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آزادکشمیرمیں سیاحوں پرپابندی بدستور برقرار رہے گی تاہم مساجد،امام بارگاہوں میں ایس او پی کیتحت عبادت کی اجازت ہو گی۔

منگل، 2 جون، 2020

کورونا وائرس ہر گھر، ہر دفتر میں پھیل چکا ہے، ڈاکٹر جاوید اکرم

کورونا وائرس ہر گھر، ہر دفتر میں پھیل چکا ہے، ڈاکٹر جاوید اکرم
لاہور: کورونا وائرس ہر گھر، ہر دفتر میں پھیل چکا ہے۔ ملک بھر میں موجود کورونا کی صورتحال پر ایک نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ہر گھر، ہر دفتر میں پھیل چکا ہے۔ عید پر بچے کے نئے جوتے خریدنے اور آئسکریم کھانے کے لیے ایس او پیز کی دھجیاں اڑانے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

 ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ہم نے عید پر ایس او پیز کی پیروی نہیں کی جس کا نتیجہ کل آنے والی رپورٹ میں ہمارے سامنے آ گیا ہے۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم عید سادگی سے منا سکتے تھے، لیکن ہم نے باہر آنے کا فیصلہ کیا اور گھنٹوں بازاروں میں گزار دیئے۔

 رینڈم سیمپلنگ میں معلوم ہوا ہے کہ لاہور کا کوئی رہائشی علاقہ کورونا سے محفوظ نہیں ہے۔ رینڈم سیمپلنگ لاہور کے ہاٹ سپاٹ، رہائشی، دفاترز اور عام جگہوں پر کام کرنے والے لوگوں میں کی گئی، اس دوران اسمارٹ سیمپلنگ میں 6.1 فیصد اور سیمپلنگ میں 5.1 فیصد کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔

بعض علاقوں میں 14 فیصد سے بھی زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور میں کورونا وائرس خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔ اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے اب نجی ٹی وی چینل پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جاوید اکرم نے ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے، بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص پر لازم کر دیا جائے کہ وہ کہیں بھی جائے تو ماسک کا استعمال لازمی کرے۔

دبئی میں اگلے 6ماہ کے دوران 70فیصد کمپنیاں بند ہوجائیں گی..کمپنی سی ای اوز

دبئی میں اگلے 6ماہ کے دوران 70فیصد کمپنیاں بند ہوجائیں گی
دبئی : دبئی میں اگلے 6ماہ کے دوران 70فیصد کمپنیاں بند ہوجائیں گی، دبئی میں اگلے ایک ماہ میں آدھے سے زیادہ ہوٹل اور ریسٹوران بند ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور سیاحت کا 75فیصد کاروبار بھی خطرے میں ہے۔ دبئی میں ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں سمیت 1228سی ای اوز سے کیے گئے سروے میں یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ دبئی میں اگلے 6ماہ کے دوران 70فیصد کاروبار ختم ہوجائے گا۔

مالکان کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے۔ جن 70فیصد ملکان نے کاروبار ختم ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ان میں سے 27فیصد کا خیال ہے کہ اگلے ایک ماہ کے دوران انکا کاروبار بن ہوسکتا یے جبکہ 47فیصد کا ماننا ہے کہ انکا کاروبار اگلے 6ماہ میں ختم ہوسکتا ہے۔

سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے تعلق رکھنے والی 70فیصد کمپنیوں کا خیال ہے کہ اگلے 6ماہ میں انکا کاروبار ختم ہوجائے گا تاہم 30فیصد کمپنی مالکان کا ماننا ہے کہ وہ اس وقت کو گزار لیں گے اور آنے والے وقت میں انکا کاروبار بڑھے گا۔

سروے منعود کرونے والے ادارے کا کہنا ہے کہ انہوں نے دبئی مین مارچ اور اپریل کے لاک ڈاؤن کے بعد 2لاکھ45ہزار کمپنیوں میں سے 1228سے سروے کیا جس کے بعد ادارے کا خیال ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کاروباری حلقوں کا اعتماد بہتر ہوگا اور کاروبار بڑھے گا۔ تاہم فی الحال متحدہ عرب امارات میں باقی دنیا کی طرح کاروبار میں مندی کا رجحان قائم ہے، ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا جارہا ہے اور تنخواہوں میں بھی کمی کی جارہی ہے۔
 واضح رہے کہ اب تک متحدہ عرب امارات میں کورونا کیسز کی تعداد 34ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک 264کورونا مریض جان کی بازی ہارچکے ہیں۔اب تک 17ہزار932مریض صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

پیر، 1 جون، 2020

افسوس سے کہتا ہوں! وائرس پھیلے گا، اموات بھی بڑھیں گی، عمران خان

جہاں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ان علاقوں کو بند کردینگے: وزیراعظم عمران ..
اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس سے کہتا ہوں! وائرس پھیلے گا، اموات بھی بڑھیں گی، جب تک ویکسین نہیں آتی، وائرس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا، لاک ڈاؤن وائرس کا علاج نہیں، ایس اوپیز پر عمل کرکے وائرس کا پھیلاؤ کم کیا جا سکتاہے۔ انہوں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب 26 کیسز تھے تو لاک ڈاؤن کیا۔

لاک ڈاؤن کا مقصد یہ ہے کہ وائرس جب تیزی سے پھیلتی ہے تو وائرس کا پھیلاؤ کا کم ہوجاتا ہے، لیکن یہ وائرس کو ختم کرنے کا علاج نہیں ہے، لاک ڈاؤن اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہسپتالو ں پردباؤ نہ بڑھے۔امریکا، اٹلی، جرمنی ، یورپ میں ہسپتالوں پر اتنا پریشر پڑ گیا کہ سنبھالنا مشکل تھا۔

اسی لیے لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ ہے، ایک طرف لوگ امیر ہیں، جو پوش علاقوں میں رہتے ہیں، اسی طرح وہ لوگ جو کچی آبادیوں میں رہتے ہیں، ان پر کیا اثر پڑے گا؟اس کو بھی دیکھنا ہے۔

بطور وزیر اعظم مجھے ایک طرف وائرس کو روکنا تھا، دوسری طرف لوگوں کی بھوک کودیکھنا تھا، میں اس طرح لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا، لیکن ہوگیا کیوں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے بااختیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے شروع دن سے عوام اجتماعات روک دیتا لیکن کاروبار بند نہ کرتا۔کورونا کو سمجھنا ہوگا کہ کورونا وائرس اب جانے نہیں لگی، ہمیں اس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک ویکسین نہیں آتی یہ نہیں جائے گی۔

امریکا میں ایک لاکھ لوگ مر گئے انہوں نے بھی فیصلہ کیا کہ لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے کیونکہ لاک ڈاؤن سے ان کی معیشت بیٹھ جائے گی، انہوں نے امدادی پیکج دیا، ہم نے بھی 8ارب ڈالر کا پیکج دیا۔سنگاپور، جنوبی کوریا میں وائرس پھر پھیل گئی ہے ۔ میں لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ وائرس پھیلے گی، اس نے پھیلنا ہے، ہمیں احتیاط کرنی ہے، عوام کو احتیاط کرنی ہوگی، اگر ہم نے لاک ڈاؤن کے بعد احتیاط نہ کی اور وائرس پھیلا تو ہمارا نقصان ہوگا۔

اس لیے ہم جو ایس اوپیز دے رہے ہیں ۔ اس پر عمل کرنا ہوگا۔ اب ہمیں ٹورازم کو بھی کھولنا ہے۔کیونکہ وہ علاقے جن میں لوگوں کا سیاحت کے شعبے سے روزگار کا وابستہ ہے، ان کے پاس یہی دو تین مہینے ہے۔گلگت اور خیبرپختونخواہ میں ایس اوپیز کے تحت سیاحت کا شعبہ کھول دیں گے۔ اب چند شعبوں کے علاوہ باقی سب کھول دیں گے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چاہیے کہ احتیاط کریں ، اگر احتیاط کریں گے تو وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی اور شدت نہیں آئے گی، بلکہ یہ آہستہ آہستہ پھیلے گا اور پیک کے بعد نیچے آنا شروع ہوجائے گا۔

بھارت کی مثال سامنے ہے ہندوستان میں لاک ڈاؤن سے غربت پھیل گئی ہے۔انہو ں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہماری ٹیکس وصولیاں 30 فیصد کم ہوگئی ہیں، ہماری برآمدات ، سرمایہ کاری اور آمدنی رک گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اورسیز پاکستانیوں کو فوری واپس لانا چاہتے ہیں ، رکاوٹ یہ تھی کہ جو بھی کیسز آئے وہ باہر سے آئے ہیں، اس لیے صوبوں نے کہا کہ ہم اتنے زیادہ لوگوں کو نہیں لا سکتے جب تک انتظامات نہ کرلیں۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اورسیز کو واپس آنے دیں گے، ان کوواپس آنے دیں گے، ان کا ایک ٹیسٹ کریں گے، جن کا ٹیسٹ مثبت آئے گا ان کو گھروں میں قرنطینہ کردیا جائے گا۔

سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی

سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی
کراچی : سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی ہے۔ سکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ سندھ کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں جواب جمع کروادیا گیا ہے جس کے مطابق سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ صرف مقررہ ٹرمینل سے چلیں گی۔ سہراب گوٹھ بس ٹرمینل، کے ایم سی بس ٹرمینل اور کورنگی فارنیشنل ہائی وے بسیں چلائی جائی گی۔

کے ایم سی ٹرمینل یوسف گوٹھ سمیت اندرون سندھ کے بھی ٹرمینل شامل ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کے لیے ایس او پی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے 21 مئی کو تمام اسٹیک ہولڈر کی میٹنگ بلائی گئی تھی، سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے فریم ورک اور ایس او پی تیار کرلئے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ ضروری ہے مگر ہمیں لوگوں کی جانوں کو بھی محفوظ بنانا ہے، ٹرانسپورٹ پر پابندی عوامی مفاد میں لگائی گئی تھی۔

دوسری جناب قومی رابطہ کمیٹی نے ملک میں ہفتہ اور اتوار کو لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے، جمعہ کو بھی دکانیں کھلی رکھی جائیں گی، مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے سے متعلق اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور پبلک ٹرانسپورٹ اور دکانیں کھولنے سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ کو بھی دکانیں کھلی رکھی جائیں، جبکہ لاک ڈاؤن صرف ہفتہ اور اتوار کو ہوا کرے گا۔ یعنی ہفتہ اور اتوار کو دکانیں اور مارکیٹس بند رکھی جائیں۔ مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے سے متعلق اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ واضح رہے ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2964 نئے کیسز، مزید 60 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 72ہزار 460 ، اموات 1543 ہو گئی ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 44 ہزار 834، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 72ہزار 460 تک پہنچ گئی، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2964 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 60 مزید اموات کے ساتھ مجموعی اموات 1543ہو گئی ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں