They are 100% FREE.

عمران خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عمران خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 7 جون، 2020

وزیراعظم نے شوگر مافیا کے خلاف ایکشن پلان کی منظوری دیدی

وزیراعظم نے  شوگر مافیا کے خلاف ایکشن پلان کی منظوری دیدی
اسلام آباد : وزیراعظم نے شوگر مافیا کے خلاف ایکشن پلان کی منظوری دیدی ہے، چینی کے شعبے کی ریگولیشن اور پیسوں کی ریکوری کا طریقہ کار بھی ایکشن پلان میں شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن پلان کی منظوری دیدی ہے اور تحقیقاتی کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر 
عملدرآمد کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔
آج وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شوگر مافیا کے خلاف کارروئی کی جائے گی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، معاونین خصوصی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے چینی بحران کے ذریعے عوام کا اربوں روپے کا نقصان کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی سفارشات پیش کیں جن میں قانونی کارروائی کے علاوہ چینی کے شعبے کی ریگولیشن اور پیسوں کی ریکوری کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔
اجلاس میں رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی حتمی منظوری دی گئی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان شوگر مافیا کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا جو جلد پورا ہو گا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں قوم کو بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا جو وعدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد کیلئے بنی گالہ میں اہم اجلاس ہو رہا ہے۔

ہفتہ، 6 جون، 2020

انصافینز بتائیں! اگرجہاز نہ ہوتا، عمران خان دھرنا کرسکتے تھے، جہانگیر ترین

انصافینز بتائیں! اگرجہاز نہ ہوتا، عمران خان دھرنا کرسکتے تھے، جہانگیر ..
لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ انصافینز بتائیں! اگرجہاز نہ ہوتا، عمران خان دھرنا کرسکتے تھے، پی ٹی آئی کیلئے جہاز کی کیا اہمیت ہے؟ خود سوچیں،ہم نے لاک ڈاؤن کیا، جلسے کیے، جہاز نہ ہوتا تو عمران خان کراچی، لاہور، فیصل آباد میں جلسے کرکے دھرنے میں شام کو واپس کیے آتے؟ 
یہ بھی ضرور پڑھیں   : چوہدری نثار نواز شریف کو مائنس کرکے ۔۔۔ " لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کا تہلکہ خیز انکشاف 
 دیاانہوں نے اپنے جہاز میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کیلئے جہاز کی کیا اہمیت ہے؟ خود سوچیں اگر عمران خان کے پاس جہاز استعمال کرنے کو نہ ہوتا ، میں اور خان صاحب اس طرح اکٹھے سفر نہ کرسکتے، تو یہ دھرنے سے ہم اڑتے تھے، ایک دن میں گئے کراچی، وہاں جلسہ کیا اور پھر رات کو دھرنے میں واپس آجاتے تھے، ایک دون بعد ہم فیصل آباد کیلئے اڑے، وہاں جلسہ کیا اور شام کو دھرنے میں واپس آگئے۔

یہ تمام کام جہاز کے بغیر کیسے ہوتے؟ آپ مجھے خود بتائیں، میں اب انصافینز سے پوچھتا ہوں۔ کہ اگر دھرنے میں عمران خان نے جب جلسے بھی کرتے تھے، پورے کے پورے شہر لاک ڈاؤن کردیے تھے، خان صاحب لاہور جاتے ، کام کرتے اور واپس شام کو دھرنے میں آجاتے تھے، کیا اس کا کوئی فائدہ ہوا؟ یہ سوال انصافینز خود اپنے آپ سے پوچھیں۔

واضح رہے چینی سکینڈل کی تحقیقات کے بعد تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر خان ترین جمعہ کو اچانک لندن چلے گئے اور لندن روانگی سے قبل انہوں نے جڑواں شہروں میں اہم ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ معمول کے چیک اپ کیلیے لندن جارہے ہیں جس کا ٹائم انہوں نے ڈاکٹروں سے پہلی ہی لیا ہوا ہے اور وہ چیک اپ کے بعد واپس آجائیں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کے بعض حلقے ان کے بیرون ملک جانے کے حق میں نہیں تھے مگر ترین چونکہ ٹکٹ بھی بک کروا چکے تھے اس لیے ان ملاقاتوں کے بعد جانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ چینی سکینڈل کی فرانزک آڈٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد زمہ داروں کے خلاف ابھی نیب یا ایف آئی اے نے کوئی کاروائی شروع نہیں کی اور اس حوالے سے وہ حکومتی احکامات کے منتظر ہیں۔

جمعہ، 5 جون، 2020

وزیر خزانہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے خلاف،۔۔ ذرائع

آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافے کا امکان
 آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں معمولی اضافہ  کا امکان ہے، آئندہ مالی سال میں ٹیکس آمدن میں اضافہ مشکل ہے، جس کے باعث حکومتی اخراجات کو کم سے کم رکھا جائے گا، تین بجٹ اجلاسوں وزارت خزانہ کی طرف سے تنخواہیں دس فیصد، پانچ فیصد اور بالکل نہ بڑھانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 21-2020ء کے دوران ٹیکس آمدن میں اضافہ مشکل ہے۔

جس کے باعث اگلے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں معمولی اضافہ ہی ممکن ہے۔ اسی طرح آئندہ مالی سال کے دوران حکومتی اخراجات کو کم سے کم رکھا جائے گا۔ جبکہ آئندہ بجٹ میں سود کی ادائیگیوں کے بجٹ کو کم نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح بجٹ کے حوالے سے تین اجلاس ہوچکے ہیں، جس میں ایک اجلاس میں سرکاری مالزمین کی تنخواہیں دس فیصد بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی، ایک اجلاس میں پانچ فیصد اور ایک میں کورونا کے باعث معاشی مشکلات کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بالکل اضافہ نہ کرنے کی بھی تجاویز دی گئی ہیں۔

واضح رہے وفاقی بجٹ 21-2020ء کی تیاری پرآج پھر وزیراعظم ہاؤس میں اہم اجلاس ہوگا۔ جس میں وزیراعظم عمران خان کو بجٹ تجاویز پر بریفنگ دی جائے گی۔ حکومتی معاشی ٹیم وزیراعظم کو بجٹ میں عوامی ریلیف پلان پر بریف کرے گی۔ اجلاس میں مشیر خزانہ، وفاقی وزراء اسد عمر، حماد اظہر سمیت متعلقہ حکام شریک ہوں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کو ہیلتھ بجٹ اور کورونا پر ریلیف پیکج سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

بجٹ اجلاس میں بجٹ محصولات، زرمبادلہ بڑھانے ،درآمدی ڈیوٹی اور اشیاء خوردنوش پر ٹیکس کم کرنے کا پلان زیر بحث آئے گا۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ بجٹ 21،202ء پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ جس میں معلوم ہوا ہے کہ نئے مالی سال میں آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف پروگرام ستمبر تک محفوظ ہے جبکہ دسمبرکے اقتصادی جائزے میں مشکلات کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کی تجویز ہے کہ آئندہ مالی سال5100 ارب روپے کا ہدف رکھا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ کورونا ختم ہوتے ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔

پیر، 1 جون، 2020

افسوس سے کہتا ہوں! وائرس پھیلے گا، اموات بھی بڑھیں گی، عمران خان

جہاں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ان علاقوں کو بند کردینگے: وزیراعظم عمران ..
اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس سے کہتا ہوں! وائرس پھیلے گا، اموات بھی بڑھیں گی، جب تک ویکسین نہیں آتی، وائرس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا، لاک ڈاؤن وائرس کا علاج نہیں، ایس اوپیز پر عمل کرکے وائرس کا پھیلاؤ کم کیا جا سکتاہے۔ انہوں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب 26 کیسز تھے تو لاک ڈاؤن کیا۔

لاک ڈاؤن کا مقصد یہ ہے کہ وائرس جب تیزی سے پھیلتی ہے تو وائرس کا پھیلاؤ کا کم ہوجاتا ہے، لیکن یہ وائرس کو ختم کرنے کا علاج نہیں ہے، لاک ڈاؤن اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہسپتالو ں پردباؤ نہ بڑھے۔امریکا، اٹلی، جرمنی ، یورپ میں ہسپتالوں پر اتنا پریشر پڑ گیا کہ سنبھالنا مشکل تھا۔

اسی لیے لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ ہے، ایک طرف لوگ امیر ہیں، جو پوش علاقوں میں رہتے ہیں، اسی طرح وہ لوگ جو کچی آبادیوں میں رہتے ہیں، ان پر کیا اثر پڑے گا؟اس کو بھی دیکھنا ہے۔

بطور وزیر اعظم مجھے ایک طرف وائرس کو روکنا تھا، دوسری طرف لوگوں کی بھوک کودیکھنا تھا، میں اس طرح لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا، لیکن ہوگیا کیوں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے بااختیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے شروع دن سے عوام اجتماعات روک دیتا لیکن کاروبار بند نہ کرتا۔کورونا کو سمجھنا ہوگا کہ کورونا وائرس اب جانے نہیں لگی، ہمیں اس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک ویکسین نہیں آتی یہ نہیں جائے گی۔

امریکا میں ایک لاکھ لوگ مر گئے انہوں نے بھی فیصلہ کیا کہ لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے کیونکہ لاک ڈاؤن سے ان کی معیشت بیٹھ جائے گی، انہوں نے امدادی پیکج دیا، ہم نے بھی 8ارب ڈالر کا پیکج دیا۔سنگاپور، جنوبی کوریا میں وائرس پھر پھیل گئی ہے ۔ میں لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ وائرس پھیلے گی، اس نے پھیلنا ہے، ہمیں احتیاط کرنی ہے، عوام کو احتیاط کرنی ہوگی، اگر ہم نے لاک ڈاؤن کے بعد احتیاط نہ کی اور وائرس پھیلا تو ہمارا نقصان ہوگا۔

اس لیے ہم جو ایس اوپیز دے رہے ہیں ۔ اس پر عمل کرنا ہوگا۔ اب ہمیں ٹورازم کو بھی کھولنا ہے۔کیونکہ وہ علاقے جن میں لوگوں کا سیاحت کے شعبے سے روزگار کا وابستہ ہے، ان کے پاس یہی دو تین مہینے ہے۔گلگت اور خیبرپختونخواہ میں ایس اوپیز کے تحت سیاحت کا شعبہ کھول دیں گے۔ اب چند شعبوں کے علاوہ باقی سب کھول دیں گے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چاہیے کہ احتیاط کریں ، اگر احتیاط کریں گے تو وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی اور شدت نہیں آئے گی، بلکہ یہ آہستہ آہستہ پھیلے گا اور پیک کے بعد نیچے آنا شروع ہوجائے گا۔

بھارت کی مثال سامنے ہے ہندوستان میں لاک ڈاؤن سے غربت پھیل گئی ہے۔انہو ں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہماری ٹیکس وصولیاں 30 فیصد کم ہوگئی ہیں، ہماری برآمدات ، سرمایہ کاری اور آمدنی رک گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اورسیز پاکستانیوں کو فوری واپس لانا چاہتے ہیں ، رکاوٹ یہ تھی کہ جو بھی کیسز آئے وہ باہر سے آئے ہیں، اس لیے صوبوں نے کہا کہ ہم اتنے زیادہ لوگوں کو نہیں لا سکتے جب تک انتظامات نہ کرلیں۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اورسیز کو واپس آنے دیں گے، ان کوواپس آنے دیں گے، ان کا ایک ٹیسٹ کریں گے، جن کا ٹیسٹ مثبت آئے گا ان کو گھروں میں قرنطینہ کردیا جائے گا۔

سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی

سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی
کراچی : سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی ہے۔ سکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ سندھ کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں جواب جمع کروادیا گیا ہے جس کے مطابق سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ صرف مقررہ ٹرمینل سے چلیں گی۔ سہراب گوٹھ بس ٹرمینل، کے ایم سی بس ٹرمینل اور کورنگی فارنیشنل ہائی وے بسیں چلائی جائی گی۔

کے ایم سی ٹرمینل یوسف گوٹھ سمیت اندرون سندھ کے بھی ٹرمینل شامل ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کے لیے ایس او پی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے 21 مئی کو تمام اسٹیک ہولڈر کی میٹنگ بلائی گئی تھی، سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے فریم ورک اور ایس او پی تیار کرلئے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ ضروری ہے مگر ہمیں لوگوں کی جانوں کو بھی محفوظ بنانا ہے، ٹرانسپورٹ پر پابندی عوامی مفاد میں لگائی گئی تھی۔

دوسری جناب قومی رابطہ کمیٹی نے ملک میں ہفتہ اور اتوار کو لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے، جمعہ کو بھی دکانیں کھلی رکھی جائیں گی، مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے سے متعلق اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور پبلک ٹرانسپورٹ اور دکانیں کھولنے سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ کو بھی دکانیں کھلی رکھی جائیں، جبکہ لاک ڈاؤن صرف ہفتہ اور اتوار کو ہوا کرے گا۔ یعنی ہفتہ اور اتوار کو دکانیں اور مارکیٹس بند رکھی جائیں۔ مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے سے متعلق اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ واضح رہے ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2964 نئے کیسز، مزید 60 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 72ہزار 460 ، اموات 1543 ہو گئی ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 44 ہزار 834، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 72ہزار 460 تک پہنچ گئی، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2964 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 60 مزید اموات کے ساتھ مجموعی اموات 1543ہو گئی ہیں۔

حکومت کا کام رونا دھونا نہیں، مسائل حل کرنا ہے، سراج الحق

نواز شریف کی تصویر اصل مسئلہ نہیں بلکہ کورونا سے نمٹنا مسئلہ ہے ، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ آج لندن میں بیٹھے نواز شریف کی تصویر مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ کورونا اور بحرانوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
اپنے ایک بیان میں سراج الحق نے کہا کہ چینی سے متعلق کمیشن کی رپورٹ پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کا کام رونا دھونا اور آنسو بہانا نہیں، مسائل حل کرنا ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ حکومت ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو حفاظتی سامان فراہم نہیں کر رہی، جبکہ کورونا سے متاثرہ لوگوں کیساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت 12 سو ارب روپے کا امدادی پیکیج کورونا مریضوں پر خرچ کرے۔
سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے ٹڈی دل کے حملوں سے نمٹنے کیلئے بھی کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کی، جبکہ ٹائیگر فورس کا شور تو بہت سنتے تھے نظر کہیں نہیں آ رہی۔
انہوں نےکہا کہ حکمران ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو ان علاقوں میں جا کر شور مچائیں۔
سراج الحق نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم نہ ہوتے تو طیارہ حادثے پر وزیراعظم اور وزیر کا استعفیٰ مانگتے۔

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،عدالت نے عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،عدالت نے عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی
اسلام آباد::انسداددہشتگردی عدالت نے پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس میں عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس کی انسداددہشتگردی عدالت میں سماعت ہوئی،جونیئر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بابراعوان مشیروزیراعظم بن گئے،سرکاری عہدہ رکھنے کے بعدبابراعوان بطوروکیل پیش نہیں ہوسکتے،عمران خان کونیاوکیل کرنے کیلئے مہلت دی جائے،عدالت نے عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی۔

جمعہ، 29 مئی، 2020

حکومت گھریلو صارفین کیساتھ ہاتھ کر گئی،وزیراعظم ریلیف کے نام پرمعاف بل ادا کرنا ہونگے ......300 یونٹ سے کم بجلی کے بل اقساط میں ادا کرنا ہونگے

حکومت گھریلو صارفین کیساتھ ہاتھ کر گئی،وزیراعظم ریلیف کے نام پرمعاف ..
اسلام آباد : وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کے ساتھ ہاتھ کر دیا، صنعتوں اور کمرشل صارفین کو تین ماہ کا بل معاف جبکہ گھریلو صارفین کو اقساط میں ادا کرنا ہوگا۔ 
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کو دھوکہ دے دیا ۔
 کورونا وائرس کی صورتحال پیدا ہونے کےبعد لاک ڈاؤن میں گھریلو صارفین کا تین ماہ کا بل معاف کر دیا گیا تھا ، جس کے مطابق بلوں پر وزیراعظم ریلیف کا ٹیگ بھی لگایا گیا ۔

تاہم اب رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ گھریلو صارفین کو معاف کردہ بھی اقساط میں ادا کرنا ہوگا۔ یہ بات بھی قابل غور رہے حکومت نے 300 یونٹ سے کم گھریلو صارفین کو بلوں کی اقساط کی سہولت فراہم کی ہے۔ تاہم دوسری جانب صنعتی و کمرشل صارفین کو 5 کلوواٹ سے لیکر 70 کلو واٹ تک کے بجلی کے بل معاف کر دیئے گئے ہیں۔

لیسکو مین تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو اقساط کی سہولت دی گئی ہے جس کو وزیر اعظم ریلیف کا نام دیا جا رہا ہے۔

حکومت کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔ حکومت صنعت اور کمرشل صارفین کا 4لاکھ 50 ہزار تک کا بل ادا کرے گی۔ملک بھر میں جاری کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے چھوٹے تاجروں کے لئے امدادی ییکچ برائے سمال بزنس کی بنیاد رکھی تھی جس کی بنیاد پر انہیں مختلف قسم کے ریلیف فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اسی دوران اب وفاقی حکومت حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حکومت نے امدادی پیکج برائے سمال بزنس کے تحت تاجروں کو بجلی کے بلز میں ایک لاکھ کی چھوٹ دے دی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں