They are 100% FREE.

شیخ رشید احمد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شیخ رشید احمد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 14 جون، 2020

کرونا وائرس کے شکار وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی طبیعت بگڑ گئی.. انہیں سی ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا

کرونا وائرس کے شکار شیخ رشید احمد کی طبیعت بگڑ گئی
راولپنڈی : کرونا وائرس کے شکار شیخ رشید کی طبیعت بگڑ گئی، وزیر ریلوے کی طبیعت ہفتے کی شام سے ناساز تھی جس کے بعد انہیں سی ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے حوالے سے تشویش ناک خبر موصول ہوئی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیخ رشید کو طبیعت بگڑنے پر سی 
ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد میں 2 روز قبل کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے خود کو قرنطینہ کر لیا تھا۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور دیگر سیاسی رہنماوں نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سے رابطہ کر کے ان کی خیریت دریافت کی تھی اور ان کی جلد صحتیابی کیلئے دعا بھی کی گئی۔

اب بتایا گیا ہے کہ ہفتے کی شام کو شیخ رشید احمد کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں راولپنڈی کینٹ میں واقع سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ سی ایم ایچ حکام کے مطابق شیخ رشید احمد کا علاج کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک ملک کی تمام ہی بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں سیاستدانوں اور اراکین اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ کچھ اراکین اسمبلی کرونا وائرس کے باعث انتقال بھی کر گئے۔ جبکہ اس وقت کئی اراکین اسمبلی و سیاسی شخصیات زیر علاج ہیں۔

منگل، 28 جنوری، 2020

’شیخ صاحب آپ کا ادارہ سب سے نااہل ہے اس کو درست کریں, آپ کا سارا کچا چٹھا سامنے ہے: سپریم کورٹ میں سرزنش


جیسی ریلوے چل رہی ہے، میرے خیال میں آپ ریلوے بند کر دیں،آگ لگنے سے 70افراد جاں بحق ہوئے، آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا، چیف جسٹس گلزاراحمد کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ نے ریلوے کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کا بزنس پلان طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ بزنس پلان سے انحراف پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔
 منگل کو عدالت نے کراچی میں سرکلر ریلوے کی زمین دو ہفتوں میں خالی کرانے کا حکم بھی دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ زمین جن لوگوں سے واگزار کرائی جائے ان کی آبادکاری بھی کی جائے۔
سرکلر ریلوے آپریشن کرنے کیلئے حکومت سندھ کو تعاون کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر سرکاری افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔
منگل کو مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سے کہا کہ ’منسٹر صاحب بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں، آپ کا سارا کچا چٹھا ہمارے سامنے ہے۔‘
چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی سرزنش بھی کی اور کہا کہ ریلوے کی ہمیں ضرورت نہیں بند کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس انتظامیہ سے ریلوے نہیں چلنے والی۔ ’ٹرین میں آگ لگنے سے 70 بند جل گئے، آپ نے کیا کارروائی کی۔‘
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے جواب دیا کہ 29  ذمہ داروں کو ریلوے سے نکال دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 29  چھوٹے افسران ہوں گے بڑے لوگوں کی باری کب آئے  گی۔  وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ بڑے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔  
 چیف جسٹس نے کہا کہ نظر تو نہیں آ رہا، آپ بھی تو بڑے ہیں، آپ کو بھی تو استعفی دے دینا چاہیے تھا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نہ انجن ہیں نہ ٹریک، ریلوے کی زمینوں پر لوٹ مار مچی ہے،کراچی سے خیبر تک ریلوے کی زمین لوگوں کو دے دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ انہوں نے کسی کو ریلوے کی زمین نہیں دی اور وہ اٹھارہ گھنٹے تک کام کرتے ہیں۔ ’معیار پر پورا نہ اترا تو استعفی دے دوں گا، اڑتیس کنال زمین عدالتی حکم پر واگزار ہوئی۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کے ریلوے ٹریک کا جاپان اور چین کے ساتھ موازانہ کریں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹریک کا واحد حل ایم ایل ون ہے۔ 1860 کلومیٹر کا نیا ٹریک ایم ایل ون منصوبے کے تحت بنے گا، پلاننگ کمیشن نے ابھی تک ٹینڈر نہیں کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم ایم ایل ون کون سی جادوگری ہے۔‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’شیخ صاحب آپ کا ادارہ سب سے نااہل ہے اس کو درست کریں، آپ سنئیر وزیر ہیں، آپ کی وزارت سب سے ٹھیک چلنی چاہیے۔

پیر، 18 نومبر، 2019

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں انجیو گرافی

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ..
اسلام آباد : راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سینئر ڈاکٹروں نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی انجیو گرافی کر دی ،سینے میں شدید درد کی وجہ سے شیخ رشید احمد کو آر آئی سی لایا گیا جہاں پر ابتدائی ٹیسٹ رپورٹس کی روشنی میں ڈاکٹروں نے انجیو گرافی تجویز کی تاہم شیخ رشید احمد کی حالت خطرے سے باہر ہے، ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق مزید 24گھنٹے شیخ رشید احمد ہسپتال میں رہیں گے ۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے بھتیجے ،وفاقی پارلیمانی سیکرٹری انسداد منشیات شیخ راشد شفیق نے پیر کو "اے پی پی" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شیخ رشید احمد پیر کی صبح معمول کے مطابق اٹھے اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین وقار النساء گرلز کالج میں تقریب سے خطاب کے بعد لال حویلی گئے جہاں انھیں اچانک سینے میں درد محسوس ہوا جس کے بعد انہیں ہولی فیملی ہسپتال لیجایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے ان کے ٹیسٹ کیے جس کے بعد انھیں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا اور ای سی جی ،ایکو سمیت دیگر ٹیسٹ کر نے کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی انجیو گرافی تجویز کی ۔
سینئر ڈاکٹروں نے شیخ رشید احمد کی انجیو گرافی کی اور مزید 24گھنٹے ہسپتال میں داخل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔شیخ راشد شفیق کے مطابق شیخ رشید احمد مکمل آرام کر رہے ہیں ،ڈاکٹروں کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کر رہے ہیں ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جنرل ریٹائرڈ اظہر کیانی نے "اے پی پی" کوبتایا کہ شیخ رشید احمد کی انجیوگرافی کر دی گئی ہے اور ان کی طبیعت اب بہتر ہے۔میجر جنرل (ر) ڈاکٹر اظہرکیانی نے بتایا کہ شیخ رشید کے دل کی ایک شریان میں کلاٹ ہے جو ادویات سے ٹھیک ہو جائے گا، انہیں اسٹنٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر نے شیخ رشید کو 4 گھنٹوں تک کسی بھی شخص سے ملاقات نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں