They are 100% FREE.

چوہدری نثار علی خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
چوہدری نثار علی خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 13 مئی، 2020

عمران خان نے پارٹی میں شمولیت کے لیے کئی گھنٹوں تک چوہدری نثار کی منتیں کیں

لاہور: معروف کالم نگار اور صحافی سلیم صافی اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ کہ 2014 دھرنے کے پیچھے اصل قوتوں کا نام نہیں بتایا جا سکتا تھا اس لئے جاوید لطیف نے سارا ملبہ چوہدری نثار علی خان پر ڈالنے کی کوشش کی۔انھوں نے یہ غلط تاثر دیا کہ چوہدری نثار درپردہ عمران خان سے ملے ہوئے تھے اس وقت چوہدری صاحب سے میں کئی اہم کرداروں کے ساتھ نہ صرف رابطے میں تھا بلکہ روزانہ پتھراؤ اور گالیوں کی زد میں آنے والے دھرنے کے متاثرین کی صف اول میں بھی شامل تھا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ چوہدری نثار عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنے کو آبپارہ سے آگے جانے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھے۔چوہدری نثار نے عمران خان کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو وہ ان سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹیں گے۔
عمران خان جانتے کے تھے کہ چوہدری نثار ماننے والے نہیں،اب وہ پٹائی کروائیں گے اس لئے ان کو بائی پاس کرکے راتوں رات انہوں نے اس وقت کے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے پولیس کو یہ آرڈر جاری کروا دیا کہ وہ کارروائی روک کر دھرنا دینے والوں کو ڈی چوک تک آنے دیں۔
چوہدری نثار صاحب ڈی چوک تک دھرنے کو آنے دینے پر اتنے برہم تھے کہ استعفی دینے والے تھے لیکن انہیں میجر عامر جیسے دوستوں نے منع کیا۔چوہدری نثار انا پرست اور ضدی ہیں جس وجہ سے انہیں سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا لیکن نواز شریف کے خلاف کسی سازش کا کبھی حصہ نہیں رہے۔سلیم صافی نے مزید کہا کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کے الیکشن سے قبل جہاں مقتدر حلقوں کا دباؤ تھا وہیں عمران خان نے کئی گھنٹے تک ان کی منتیں کیں کہ وہ ان کی پارٹی میں آجائیں اور ان کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں میں جو بھی پوزیشن لینا چاہیں لے لیں۔
اگر چوہدری نثار اس وقت پیشکش قبول کرتے تو آج عمران خان کے بعد دوسری طاقتور شخصیت ہوتے۔لیکن چوہدری نثار نے یہ سب پیشکش اس بنیاد پر ٹھکرا دیں گے وہ اس اسٹیج پر نہیں بیٹھ سکتے جہاں سے نواز شریف اور ان کے خاندان کو گالیاں پڑھ رہی ہوں یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں ان کو وہی سزا دی گئی جو دیگر مخالف پارٹیوں کے امیدواروں کو دی گئی۔

بدھ، 12 فروری، 2020

نواز شریف اور چوہدری نثار کی ملاقات کی کوشش ناکام

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملنے کے بارے میں قریبی دوستوں کا مشورہ نواز شریف نے مسترد کردیا۔ چوہدری نثار نے بھی واضح کر دیا کہ شریف برادران سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ میں لندن علاج کے لیے آیا ہوں کوئی سیاسی مقاصد کیلئے نہیں۔ اس وقت جو سیاسی تھیٹر لگا ہے اس پر بات کرنا بےمعنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کون آرہا ہے کون جارہا ہے اس پر بات کرنا ضروری نہیں، ملک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا خاتمہ ضروری ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں