They are 100% FREE.

چیف جسٹس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
چیف جسٹس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 19 مئی، 2020

ہمارے ملازمین کا کورونا ٹیسٹ سرکاری لیب سے مثبت اور نجی سے منفی آیا، چیف جسٹس

ہمارے ملازمین کا کورونا ٹیسٹ سرکاری لیب سے مثبت اور نجی سے منفی آیا، ..
کراچی : چیف جسٹس آف پاکستن جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ تمام طبی آلات پاکستان میں ہی تیار ہوسکتے ہیں۔ وقت آرہا ہے کہ ادویات سمیت کچھ بھی باہر سے نہیں ملے گا۔ پاکستان کو پر چیز میں خود مختار ہونا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔
چیئرمیں این ڈی ایم اے عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اخراجات پر وضاحت کیلئے چیئرمین این ڈی ایم اے موجود ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں ہے۔ تشویش تو سروس کےمعیار پر ہے۔ مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے ملازمین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔
چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کئی قرنطینہ سنٹرز میں پینے کا پانی تک نہیں۔ ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں لوگوں کا احساس نہیں ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ لوگ غصے میں کہہ رہے ہیں کہ باہر ہی مر جاؤ پاکستان مت آٓؤ۔ قرنطینہ سنٹرز میں صفائی خیال بھی نہیں رکھا جا رہا ۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ نیشنل ہسپتال لاہور سے ایک شخص کی ویڈیو دیکھی جو رو رہا تھا ، قرنطینہ سنٹرز کی حالت زار پر چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں اکثر مال سکریپ شدہ ہی بھیجا جاتا ہے۔
چین سے ایک ہی پارٹی این ڈی ایم اے کو سامان بھیجوا رہی ہے۔ مقامی سطح پر سامان کی تیاری کیلئے صرف ایک ہی مشین منگوائی گئی ،جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ تمام طبی آلات پاکستان میں ہی تیار ہوسکتے ہیں۔ وقت آرہا ہے کہ ادویات سمیت کچھ بھی باہر سے نہیں ملے گا۔ پاکستان کو پر چیز میں خود مختار ہونا ہوگا۔

بدھ، 4 دسمبر، 2019

آشیانہ ہاﺅسنگ سکینڈل، چیف جسٹس آف پاکستان نے شہبازشریف کو بے گناہ قرار دے دیا..


اسلام آباد :سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شہبازشریف کی ضمانت منسوخ کرنے کی نیب کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ہے اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آشیانہ کیس کی ساری کہانی میں شہباز شریف کا رول اچھے بچے کا ہے، شہباز شریف نے پہلے انکوائری کرائی پھر معاملہ اینٹی کرپشن کو بھیجا، ابھی تک لگ رہاہے فود حسن فواد کا کردار برے بچے کا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کا آشیانہ اقبال ہاو¿سنگ اور رمضان شوگر مل کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ضمانت برقرار رکھتے ہوئے شہباز شریف کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے دائر نیب کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ نیب نے ضمانت منسوخی کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔سپریم کورٹ میں آشیانہ اقبال ہاو¿سنگ پراجیکٹ اور رمضان شوگر مل کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ضمانت کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے شہباز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ اس کیس کا ملزم عجیب ہے۔ ”ملزم خود آشیانہ اسکیم کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بناتا ہے پھر انسداد بدعنوانی کو مزید تحقیق کیلئے بھیجتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں تو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اچھے انسان لگ رہے ہیں، اس کیس میں کچھ لوگ سالوں سے جیل میں ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے نقصان سے روکا، درخواستیں دینے والے کئی ہزار افراد کو نقصان سے بچایا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو نقصان ہوا ہی نہیں اسکا کیس بنا دیا گیا۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور نیب کے وکیل نعیم بخاری کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔نعیم بخاری نے کہا کہ ”میں درخواست واپس لینا چاہتا ہوں، لیکن لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی آبزرویشنز کو خذف کیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے قانون طے ہے کہ ضمانت کے کیس میں دی گئی آبزرویشنز مرکزی ٹرائل کو متاثر نہیں کرتیں۔وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ اگر عدالت یہ کہہ دیتی تو نہ میرے پسینے چھوٹتے نہ ہی میرا سانس پھولتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی آبزرویشنز آشیانہ ہاو¿سنگ کیس کے ٹرائل کو متاثر نہیں کریں گی۔ عدالت نے نیب کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔سپریم کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں فواد حسن فواد کی ضمانت سے متعلق درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،فواد حسن فواد کے وکیل نے کہااس کیس میں نئے گراونڈز آ چکے ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر نئے گراو¿نڈ آ چکے ہیں تو ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیا دپر نمٹا دی۔ عدالت نے آشیانہ ہاو¿سنگ سکیم کے ملزم امتیاز حید اور بلا ل قدائی کی ضمانت منظورکر لی، سپریم کورٹ نے ملزم سجاد علی بھٹہ اور منیر ضیاءکی ضمانتوں کی بھی توثیق کر دی۔


جمعرات، 28 نومبر، 2019

آرمی چیف سے متعلق عدالتی فیصلے پر ردِعمل.... آج اداروں کے درمیان تصادم سے عدم استحکام لانے والوں کو شکست ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹ

وزیراعظم کا آرمی چیف سے متعلق عدالتی فیصلے پر ردِعمل
اسلام آباد  :سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا اور چھ ماہ کی مشروط توسیع دے دی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا بھی اب عدالتی فیصلے پر ردِ عمل سامنے آ گیا ہے۔آج ان کو ضروری مایوسی ہوئی ہو گی جو عدالتوں میں تصادم چاہتے تھے۔اداروں میں تصادم نہیں ہوا،بیرونی دشمن اور اندرونی مافیاز کو خصوصی مایوسی ہوئی۔
آج اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی خواہش رکھنے والوں کے لیے مایوسی کا دن ہے۔

لوٹی ہوئی دولت باہر بھجوانے والے مافیاز اس لوٹ مار کے تحفظ کے لیے ملک کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔مافیا لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لیے عدم استحکام لانا چاہتے ہیں۔
23 سال قبل ہماری جماعت پہلی تھی جس نے خود مختار عدالت اور قانون کی بالادستی کی بات کی تھی۔
2007ء میں تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی کے لیے سب سے آگے تھی اور مجھے اس کے لیے جیل بھی بھیجا گیا۔ ۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے لیے میرے دل میں بہت احترام ہے۔ چیف جسٹس کا شمار پاکستان کے عظیم ججز میں ہوتا ہے۔
۔خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راہی صاحب کہاں ہیں؟ ساتھی وکلا نے کہا کہ راہی صاحب کھانا کھانے گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا۔ حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع چیلنج ہوئی۔ حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی۔ انہوں نے کاہا کہ حکومت ایک سے دوسری پوزیشن لیتی رہی۔
تین دن میں حکومت نے بہت سی پوزیشنز تبدیل کیں۔ ہم نے آرمی ایکٹ 1952 اوررول 1954 سمیت دیگر قوانین کا بھی جائزہ لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ چھ ماہ میں قانون سازی کر لی جائے گی۔ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں۔ آرمی چیف کی مقررہ تقرری چھ ماہ کے لیے ہو گی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج مختصر فیصلہ سنا رہے ہیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے۔
جس کے بعد عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس زیر سماعت ہے جس پر آج عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو ہمیں ''را'' اور ''سی آئی اے'' کا ایجنٹ کہا گیا۔ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ قرار دیا گیا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں