They are 100% FREE.

غلام سرور خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
غلام سرور خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 10 جون، 2020

پی آئی اے طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

پی آئی اے طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش،کیا تفصیلات شامل ہیں؟ جانیے

اسلام آباد: کراچی میں گزشتہ دنوں پاکستان ایئر لائنز کو پیش آئے افسوسناک حادثے کی ابتدائی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔وفاقی وزیر کے مطابق 82متاثرین کو دس لاکھ فی کس امداد مہیا کردی گئی ہے۔

سیکرٹری پلاننگ پنجاب خالد شیر دل کے اہلخانہ سمیت کچھ خاندانوں نے حکومت سے امداد لینے سے انکار کردیا۔

 مختلف گھر جو تباہ ہوئے ان کی تعمیرات اور ایک گھر میں کام کرنے والی جاں بحق بچی کوورثاکوبھی معاوضہ دیا گیا، دوبچیاں زخمی ہیں جن کے علاج کی ذمہ داری بھی پی آئی اے نے اٹھائی ہے۔انہوں نے بتایا کہ طیارے میں سوار ستانوے افراد شہید ہوئے.

جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے انہیں پی آئی اے کے ہوٹلز میں رہائش فراہم کی گئی ہے۔ ایسے افراد کو گھروں کی تعمیر اور گاڑیوں کی تباہی کا ہرجانہ دیاجائے گا۔

وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس اکتیس طیاروں کا فلیٹ ہے مگر گزشتہ سالوں میں پے درپے حادثے ہوئے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا ماضی کے کسی بھی حادثے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا دنیا کے دیگر ممالک میں ہم سے کئی گنا زیادہ فلیٹ والی فضائی کمپنیوں کے کوئی حادثے نہیں ہوئے.

انہوں نے کہا ذمہ داران کا تعین کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا یہ ان کی اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تفصیلات کے ساتھ رپورٹ اسی ایوان میں پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف پی آئی کے حالیہ حادثے بلکہ ماضی قریب میں ہونے والے تمام حادثوں کی تحقیقاتی رپورٹ عام کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پائلٹس کی ڈگریاں چیک کروائیں تو پتہ چلا کہ ناپاک سیاسی عزائم کے لیے پانچ سو چالیس پائلٹس کو جعلی ڈگریاں اور لائسنس دیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے تمام افراد جنہوں نے جعلی ڈگریوں اور جعلی لائسنس پر یہ منصب سنبھالے ان سب سے متعلق تفصیلات جاری کی جائیں گی کہ انہیں کب اور کیسے یہ ڈگریاں اور لائسنس جاری ہوئے

انہوں نے کہا اس کی تحقیقات ہونی چاہیئں۔ متاثرین کی تسلی اور تشفی کے لیے عالمی پائلٹس ایسوسی ایشن کو گزارش کی ہے کہ ایک پائلٹ اور ٹیکنیشن اس حادثے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہو۔

منگل، 9 جون، 2020

نجی تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کی سفارش کروں گا,..وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان

نجی تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کی سفارش کروں گا
اسلام آباد : وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو ایس۔ او۔ پیز کے ساتھ مرحلہ وار کھولنے کی سفارش کروں گا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے ایک 20رکنی وفد سے ملاقات کی۔وفد کی 
قیادت ایپسما کے ڈویژنل صدر ابرار احمد خان نے کی۔
یہ بھی ضرور پڑھیں :ٹیکسلا پولیس کی قمار بازوں کے خلاف کاروائی

ملاقات میں چوہدری خالد محبوب، چوہدری عطائالرحمن، عامر انور، عثمان گل، شیخ قمر احمد، راجہ ثنائاللہ، عاشق انجم، امجد خان، عاطف عزیز، صفدر حسین، عمران اعوان، زاہد اقبال بٹ، ظہیر بلوچ اور صابر جمیل کے علاوہ ایسوسی ایشن کے دیگرممبران شامل تھے۔ اس دوران وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں میٹرک، فرسٹ ائیر اور سیکنڈ ایئر کلاسز شروع کرنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منظوری لی جائی گی۔

ایپسما کے ڈویژنل صدر ابرار احمد نے غلام سرور خان کو نجی تعلیمی اداروں میں مرحلہ وار تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے اور ریلیف پیکیج دینے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ غلام سرور خان نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان قوم کے مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور کورونا سے متاثر ہونے والے شعبوں کا درد بھی محسوس کرتے ہیں اور انھیں ریلیف بھی دینا چاہتے ہیں۔

اسی لیے انہوں نے بارہا اس بات کو دہرایا ہے کہ وہ مرحلہ وار ایس۔ او۔ پیز کے ساتھ تمام شعبہ جات کو کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ غلام سرور خان نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر تعلیمی ادارے کھولے گئے تو اساتذہ کرام ایس اوپیز پر بہتر عملدرآمد کریں گے انھوں نے کہا کہ ایپسما اپنے چیدہ چیدہ مسائل کوتحریری شکل میں مجھیلکھ کر دیاور میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے ایپسما کے ذمہ داران کی اپنی موجودگی میں میٹنگ کروا کر نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منظوری لینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا

ہفتہ، 30 مئی، 2020

جہانگیر ترین، خسرو بختیار سمیت سب کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے، وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان

22 جون کو طیارہ حادثہ کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیں گے، غلام سرور ..

Current Time 0:54
Duration 2:15
Loaded: 87.97%
 
جہانگیر ترین، خسرو بختیار سمیت سب کیخلاف کاروائی ہونی چاہئے، غلام سرور



وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار سمیت جن جن کے نام شوگر کمیشن رپورٹ میں سامنے آئے ہیں سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے ان خیالات کا اظہار جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین سے دوستی تعلق اپنی جگہ،  لیکن اگر جہانگیر ترین نے غلط کیا ہے تو ان سے حساب لیناچاہیے  کمیشن کو سب کا احتساب کرناچاہیے ۔۔           

Video : geonews                     


 

 



جمعرات، 28 مئی، 2020

22 جون کو طیارہ حادثہ کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیں گے، غلام سرور خان

22 جون کو طیارہ حادثہ کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیں گے، غلام سرور ..
اسلام آباد : وفاقی وزیر شہری ہوا بازی غلام سرورخان نے کہا ہے کہ طیارہ حادثہ کی رپورٹ 22 جون کو کو پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے لے آئیں گے، ہم تمام 12 واقعات کی رپورٹ سامنے لائیں گے۔ جو ذمہ دار ہوں گے ان کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ابھی تک ڈی این اے کے بعد51 میتیں لواحقین کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ وزیر شہری ہوا بازی 
غلام سرورخان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ جلد ازجلد میتیں لواحقین کے حوالے کی جائیں۔

51 میتیں ڈی این اے کے بعد لواحقین کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے معاوضہ اور باقی انشورنس کمپنی دے گی۔ حادثے میں جن گھروں کو نقصان پہنچا انہیں بھی معاوضہ دیا جائےگا۔

یہ معاوضہ قیمتی جانوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حادثات کی رپورٹس بروقت نہیں آتیں جو قابل تشویش ہے۔ کم وقت میں صاف شفاف تحقیقات اور ساری معلومات عوام کے سامنے رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد بارہ واقعات ہوئے، جن میں دس حادثات پی آئی اے کے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج تک ایسا کیوں نہیں ہوا کہ بروقت رپورٹ نہیں آئی؟ اس لیے ہم موجودہ حادثے کی ہی نہیں بلکہ تمام احادثات اور واقعات کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اگر پچھلی حکومتوں نے رپورٹس جاری نہیں کیں۔ تو ہم تمام 12 واقعات کی رپورٹ سامنے لائیں گے۔

جو ذمہ دار ہوں گے ان کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ تمام شہداء کے لواحقین کو یقین دلاتاہوں بالکل صاف شفاف انکوائری ہوگی۔ انکوائری بورڈ نے ساری چیزیں اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ وائس اورڈیٹا دونوں ریکارڈنگ پر ہیں، ڈی کوڈنگ کے بعد حقائق سامنے آجائیں گے۔ اگر جہاز میں کوئی ٹیکنیکل خرابی ہوگی تو وہ بھی ریکارڈ میں ہوگی۔ انکوائری میں دیکھا جائے گا کہ پائلٹ نے جب طیارے کو اتار لیا تھا تو دیکھا جائے گا کہ کس نے طیارے کو لینڈنگ اور پھر کس نے دوبارہ اٹھانے کا کہا۔

اس لیے انکوائری بورڈ پر اعتبار کیا جائے۔ میں اپنے اداروں کی کارکردگی سےمطمئن ہوں۔ بورڈ کی تحقیقات کا انتظار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء میں بھی ایک طیارہ حادثہ ہوا تھا ، اس پر تو کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ماضی میں طیارہ حادثے کی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئیں۔ بدقسمتی سے ہر معاملے پر سیاست کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طیارے کی جگہ سے ملبہ نہیں ہٹایا گیا۔ ملبہ انکوائری بورڈ کی نگرانی میں اٹھایا جا رہا ہے۔
..

.
.
.
.
.
.
.

.
..
.
.
.
.
.
.

..
.
.

.
..

..

.Source

بدھ، 27 مئی، 2020

احتساب سے خوف زدہ نہیں،احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے،..، میرے اثاثوں کی تحقیقات بھی 71 سے ہونی چاہئیں...وفاقی وزیرایوی ایشن غلام سرور خان

احتساب سے خوف زدہ نہیں،احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے،غلام سرور خان
ٹیکسلا : وفاقی وزیرایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ احتساب سے خوف زدہ نہیں،احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے، میرے اثاثوں کی تحقیقات بھی 71 سے ہونی چاہئیں،احتساب کے قوانین میں ترمیم نہیں ہونی چاہیے،حکومتی زعما ء سمیت اپوزیشن کے لوگ بھی اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کریں، جن لوگوں نے اس ملک کو35 سالوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ان کا کڑا احتساب ہونا چاہئے، طیارہ حادثہ تحقیقات انتہائی قلیل وقت میں مکمل کی جائیں گی،ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہوگی،دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کرونا سے اموات کی شرح کم ہے اضافہ سے بچنے کے لئے حکومتی احکامات پر عمل ناگزیر ہے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کی طیارہ حادثہ تحقیقات جلد سے جلد مکمل کی جائیں۔

نیب کے حوالے سے اپنے اثاثہ جات کی تحقیقات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اسمبلی فلور پر کہا تھا میں نے سیاست کو ہمیشہ خدمت سمجھ کر کیا،دامن صاف ہے ، میری تحقیقات تو 71 سے ہونی چاہئیں کیونکہ میدان سیاست میں ایک عرصہ گزر گیا ہے،انکا کہنا تھا کہ احتساب سے کوئی مبرا نہیں تمام کابینہ کے ممبران ،حکومتی ذمہ داران اعلیٰ سرکاری افسران اور اپوزیشن سے وابستہ افراد کو بھی احتساب ہونا چاہئے،ان کرپٹ لوگوں کو تو کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہئے جنہوں نے اس ملک کو 35 سالوں سے لوٹا،انکا کہنا تھا کہ میں اس حق میں ہوں کی احتساب ایک مسلسل عمل ہے،جو ہر صورت جاری رہنا چاہئے،اور اس میں کسی قسم کی ترامیم بھی نہیں ہونی چاہئیں.

ضرور پڑھیں: ترنول ناکے پر فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید..کالعدم جماعت نے ذمہ داری قبول کر لی

انھوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو اس ملک کو سب سے بڑا نقصان ان دو نمبر کاروبار کرنے والوں نے پہنچایا ہے ،احتساب اکراس دی بورڈ جاری رہنا چاہئے، میرا دامن صاف ہے جس نے بھی میرے خلاف اس اشو کو اٹھایا ہے اسے کچھ حاصل ہونے والا نہیں،انکا کہنا تھا کہ علاقہ کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا، ٹیکسلا چوک تا فاروقیہ روڈ کو دو رویہ کرنے کے میگا پروجیکٹ میں ایک ارب سے زائد رقم صرف ہوگی،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹیکسلا کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، واہ جنرل ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہسپتال کا درجہ دینے کے لئے کوشش جاری ہے،انکا کہنا تھا کہ کرونا وبا کے پھیلاو کو روکنے لے کے لئے شہریوں کو ایس او پیز پر عمل کرنا چاہئے، تاکہ اس وبا سے جلد سب لوگ محفوظ رہیں، سماجی فاصلوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معمولات زندگی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

احتساب سے خوف زدہ نہیں،احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے،غلام سرور خان



احتساب سے خوف زدہ نہیں،احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے،غلام سرور خان

ٹیکسلا : وفاقی وزیرایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ احتساب سے خوف زدہ نہیں،احتساب کا عمل جاری رہنا

 چاہئے، میرے اثاثوں کی تحقیقات بھی 71 سے ہونی چاہئیں،احتساب کے قوانین میں ترمیم نہیں ہونی چاہیے،حکومتی زعما ء سمیت اپوزیشن کے لوگ بھی اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کریں، جن لوگوں نے اس ملک کو35 سالوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ان کا کڑا احتساب ہونا چاہئے، طیارہ حادثہ تحقیقات انتہائی قلیل وقت میں مکمل کی جائیں گی،ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہوگی،دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کرونا سے اموات کی شرح کم ہے اضافہ سے بچنے کے لئے حکومتی احکامات پر عمل ناگزیر ہے ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کی طیارہ حادثہ تحقیقات جلد سے جلد مکمل کی جائیں۔
نیب کے حوالے سے اپنے اثاثہ جات کی تحقیقات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اسمبلی فلور پر کہا تھا میں نے سیاست کو ہمیشہ خدمت سمجھ کر کیا،دامن صاف ہے ، میری تحقیقات تو 71 سے ہونی چاہئیں کیونکہ میدان سیاست میں ایک عرصہ گزر گیا ہے،انکا کہنا تھا کہ احتساب سے کوئی مبرا نہیں تمام کابینہ کے ممبران ،حکومتی ذمہ داران اعلیٰ سرکاری افسران اور اپوزیشن سے وابستہ افراد کو بھی احتساب ہونا چاہئے،ان کرپٹ لوگوں کو تو کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہئے جنہوں نے اس ملک کو 35 سالوں سے لوٹا،انکا کہنا تھا کہ میں اس حق میں ہوں کی احتساب ایک مسلسل عمل ہے،جو ہر صورت جاری رہنا چاہئے،اور اس میں کسی قسم کی ترامیم بھی نہیں ہونی چاہئیں،انھوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو اس ملک کو سب سے بڑا نقصان ان دو نمبر کاروبار کرنے والوں نے پہنچایا ہے ،احتساب اکراس دی بورڈ جاری رہنا چاہئے، میرا دامن صاف ہے جس نے بھی میرے خلاف اس اشو کو اٹھایا ہے اسے کچھ حاصل ہونے والا نہیں،

انکا کہنا تھا کہ علاقہ کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا، ٹیکسلا چوک تا فاروقیہ روڈ کو دو رویہ کرنے کے میگا پروجیکٹ میں ایک ارب سے زائد رقم صرف ہوگی،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹیکسلا کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، واہ جنرل ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہسپتال کا درجہ دینے کے لئے کوشش جاری ہے،انکا کہنا تھا کہ کرونا وبا کے پھیلاو کو روکنے لے کے لئے شہریوں کو ایس او پیز پر عمل کرنا چاہئے، تاکہ اس وبا سے جلد سب لوگ محفوظ رہیں، سماجی فاصلوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معمولات زندگی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
x

ہفتہ، 23 مئی، 2020

طیارہ حادثے میں شہریوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، غلام سرور خان

NAB now following federal minister Ghulam Sarwar Khan
وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے طیارہ حادثے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا ۔
وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے گورنرسندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی، اس دوران غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ این ڈی این اے کی ٹیم لاہور سے کراچی آچکی اور کام کر رہی ہے، ہر گھر کی مرمت اور بحال کرنے کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی، گاڑیوں کے نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے گا، زخمیوں کو فی کس پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے، کوئی رائے دینی ہے تو انکوائری کمیٹی کو دی جا سکتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں جن گھروں کو نقصان پہنچا اس کا ازالہ حکومت پاکستان کرے گی، سب سے پہلی ذمہ داری لاشیں لواحقین کے حوالے کرنا ہے۔
غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پائلٹ نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ جانی نقصان کم سےکم ہو، طیارہ حادثے میں دو افراد بچے، کریو اور پائلٹ بھی شہید ہوگئے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کے حوالے سے وزیر اعظم بہت سنجیدہ ہیں، پوری کوشش ہوگی نتائج جلد سے جلد سامنے رکھے جائیں، کوشش ہوگی جلد سےجلد دونوں انکوائریز کی رپورٹ عوام، پارلیمنٹ کے سامنے لائی جائیں، ماہرین کو رائے دینا ہے تو کمیٹی کو دیں سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سو فیصد آزادانہ اور شفاف انکوائری ہوگی، وعدہ کر کے جارہا ہوں کہ جلد از جلد رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی ، وزیر اور چیف ایگزیکٹو کے خلاف ذمہ داری ثابت ہوجاتی ہے تو استعفیٰ دے کر ہم خود کو احتساب کے لیے پیش کریں گے۔ 
انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح شوگر پرائسز کی انکوائری ہوئی اس کی انکوائری بھی ہوگی، آج کی تمام ذمہ داری لینے کو تیار ہیں مگر پچھلی حکومتوں کی ذمہ داری ہم پر نا ڈالیں۔
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ایدھی اور چھیپا کے رضاکاروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے، قانون نافذ کرنے والے لوگ اور ریسکیو حکام بھی موجود تھے جبکہ کراچی کے شہریوں کے جذبے کو خراب تحسین پیش کرتا ہوں۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ جو جائزہ لیا اس میں کم نقصان ہونا معجزے سے کم نہیں۔
گورنر سندھ نے کہا ہے کہ جن کے گھروں پر قیامت گزری انہیں ایرپورٹ ہوٹل منتقل کیا گیا، جن کو ہوٹل میں جگہ نہیں ملے گی انہیں قصر ناز منتقل کیا جائےگا۔

وزارتِ ہوابازی نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں موجود ہر مسافر کے خاندان کے 5افراد کو کراچی آنے کیلئے ٹکٹ دینے کا اعلان کردیا

NAB now following federal minister Ghulam Sarwar Khan
کراچی : وزارتِ ہوابازی نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں موجود ہر شخص کے خاندان کے 5افراد کو کراچی آنے کیلئے ٹکٹ دینے کا اعلان کردیا ہے۔ وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ جو طیارہ حادثے کا شکار ہوا ہے اس میں موجود ہر مسافر کے خاندان کے 5افراد کو کراچی آنے کیلئے ٹکٹ دیے جائیں گے، کراچی آنے والے ان افراد کو آئیرپورٹ کے ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، تمام مسافروں کے اہلِ خانہ کو ترجیحی بنیادوں پر انشورنس کی رقم ادا کی جائے گی۔
وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان کل کراچی جائیں گے اور حادثے سے متعلق اجلاس میں شامل ہوں گے جس میں حادثے کی وجوہات اور ذامہ داران کے حوالے سے بات کی جائے گی۔ غلام سرور خان حادثے کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین سے ملاقات کریں گے، وہ جائے حادثہ کا دورا بھی کریں گے اور جن لوگوں کے گھروں کو حادثے میں نقصان پہنچا ہے ان سے بھی ملاقات کریں گے۔
اس سے قبل وفاقی وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان نے کراچی میں پی آئی اے کے گرنے والے طیارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ طیارہ لینڈنگ کے وقت تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرکر تباہ ہوا جس میں 90سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں جن میں 8کریو کے ارکان بھی شامل ہیں۔ وزیرہوابازی نے کہا کہ حادثے کی ٹحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس حادثے پر بہت افسوس ہے اور انکی ہمدردیاں شہید ہونے والے مسافروں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔وزیرِ ہوابازی نے مزید کہا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم تین گھٹے کے اندر ساری صورتحال واضح کردی گی اور تمام معلومات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقع پر میں انتہائی رنج و غم اور دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔ 

جمعہ، 22 مئی، 2020

وزیرِ ہوابازی نے طیارے میں سوار 90سے زائد مسافروں کی شہادت کی تصدیق کردی طیارہ حادثے میں 90سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں جن میں 8کریو کے ارکان بھی شامل ہیں: غلام سرور خان

وزیرِ ہوابازی نے طیارے میں سوار 90سے زائد مسافروں کی شہادت کی تصدیق ..
کراچی : وزیرِ ہوابازی نے طیارے میں سوار 90سے زائد مسافروں کی شہادت کی تصدیق کردی، وفاقی وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان نے کراچی میں پی آئی اے کے گرنے والے طیارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ طیارہ لینڈنگ کے وقت تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرکر تباہ ہوا جس میں 90سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں جن میں 8کریو کے ارکان بھی شامل ہیں۔
وزیرہوابازی نے کہا کہ حادثے کی ٹحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس حادثے پر بہت افسوس ہے اور انکی ہمدردیاں شہید ہونے والے مسافروں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔
وزیرِ ہوابازی نے مزید کہا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم تین گھٹے کے اندر ساری صورتحال واضح کردی گی اور تمام معلومات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقع پر میں انتہائی رنج و غم اور دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔ دوسری جانب طیارے کے حادثے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طیارہ لینڈنگ گیئرجام ہونے کے بعد پرندوں سےبھی ٹکرایا تھا، لینڈنگ گیئرخراب ہونے پر پائلٹ طیارے کو لینڈنگ کیلئے نیچے لائے، اسی دوران طیارے کے دونوں انجن جزوی طور پر بند ہو گئے، انجنوں سےکم طاقت ملنے کے سبب جہاز کی بلندی انتہائی کم ہوتی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انجن بند ہونے کے کچھ ہی دیر میں جہاز اپنی بلندی برقرارنہ رکھ سکا، اس موقع پر پائلٹ نے مے ڈے کی کال بھی دے دی، طیارہ رن وے پر پہنچنے سے پہلے ہی آبادی والے علاقے میں مکانات سے ٹکرا گیا، جس وقت طیارہ مکانات سے ٹکرایا اس وقت وہ گلائیڈ کررہا تھا۔ علاوہ ازیں پی آئی اے کی حادثے کی شکار فلائٹ کا بلیک باکس کا اہم حصہ کوئیک ایکسس مل گیا ہے، کوئیک ایکسس میں ایئرٹریفک اور کاک پٹ کی گفتگو کا ریکارڈ ہوتا ہے، کوئیک ایکسس امداری کارکن کو ریسکیو سرگرمیوں کے دوران ملا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کا اہم حصہ کوئیک ایکسس مل گیا ہے۔ جس کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ کوئیک ایکسس ریکارڈر میں ایئرٹریفک کنٹرول روم کے علاوہ کاک پٹ کی گفتگو کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ کوئیک ایکسس رکارڈر امداری کارکن کو ریسکیو سرگرمیوں کے دوران ملا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں