They are 100% FREE.

شہبازشریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شہبازشریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 3 جون، 2020

لاہور ہائیکورٹ نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت منظور کر لی

لاہور ہائیکورٹ نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت منظور کر لی
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج لاہور ہائیکورٹ میں شہبازشریف کی درخواست ہو سماعت ہوئی ہے جس کی سماعت جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی ہے۔ اس سماعت کے دوران شہبازشریف کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے جس کے بعد عدالت نے نیب کو 17 جون تک گرفتاری سے روک دیا ہے۔

اس کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ ضمانت 5لاکھ روپے کے مچلکوں کےعوض منظورکی گئی۔ اس موقع پر شہبازشریف کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا ہے کہ شہبازشریف کے کیس کا معاملہ ابھی تففتیشی مرحلہ میں تھا، اس سے قبل ہی ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں۔ وکیل کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ نیب نے جو جو رکارڈ مانگا وہ دے دیا پھر بھی نیب گرفتاری کے لیے بے تاب ہے ۔

اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے 5 لاکھ کے مچکلوں کے عوض شہبازشریف کی عبوری ضمانت کی درخواست کو مںظور کر لیا ہے جس کے بعد عدالت کا ملزم کو ضمانتی مچلکے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کروانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے جس وکیل فیصل بخاری کا کہنا تھا کہ نیب شہباز شریف کی ضمانت کی مخالفت کرے گا۔

خیال رہے کہ شہباز شریف کا لاہور ہائی کورٹ میں آمدن سے زائداثاثہ جات اورمنی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت کے لیے پیش ہوئے ہیں ۔ اس حؤالے سے شہبازشریف نے نیب کی گرفتاری وارنٹ کے خلاف عبوری ضمانت کی درخواست جمع کروائی تھی جس حوالے سے تاثر دیا جا رہا تھا کہ شاید اس پیشی سے قبل ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ہے، شہبازشریف کی درخواست پو سماعت ہوئی ہے جسے لاہور ہائیکورٹ نے منظور کر لیا ہے۔ اس سماعت کے دوران شہبازشریف کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے جس کے بعد عدالت نے نیب کو 17 جون تک گرفتاری سے روک دیا ہے

اتوار، 10 مئی، 2020

شہبازشریف کا 10بھینسوں کے دودھ سے اپنے اخراجات پورے کرنے کا انکشاف

شہبازشریف کا 10بھینسوں کے دودھ سے اخراجات کرنے کا انکشاف
لاہور: مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف کا 10بھینسوں کے دودھ سے اخراجات کرنے کا انکشاف ہوا ہے، انہوں نے نیب کو بتایا کہ میں اپنے اخراجات شریف ڈیری فارم کی آمدن سے کرتا ہوں، وہاں 10 بھینسیں ہیں، جن کے دودھ سے اپنے اخراجات چلا رہا ہوں۔ سینئر صحافی راؤف کلاسرا نے اپنے تبصرے میں بتایا کہ شہبازشریف نے نیب میں پیشی کے دوران نیب کو اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدن سے متعلق مختلف سوالات کے جوابات دیے۔
شہبازشریف سے نیب نے سوال کیا کہ آپ کی بیگم نصرت شہباز کے 2002ء میں اثاثے صفر تھے، اب ان پراپرٹی 25 کروڑ کی ہے، شہبازشریف نے بیگم صاحبہ آزاد ہیں، آپ ان کو بلا کر انکوائری کرسکتے ہیں۔ نیب کے پوچھنے پر شہبازشریف نے نیب کو بتایا کہ جب خاندان میں جائیداد کی تقسیم ہوئی تو میرے حصے میں ایک شوگر ملز آئی تھی، جس پر نیب نے کہا کہ آپ نے پھر کیسے 14کمپنیاں مزید بنالیں؟ شہبازشریف نے کہا کہ یہ سوال سلمان شہباز سے پوچھیں۔
شریف ڈیری فارم ہے، وہاں پر10بھینسیں ہیں، ان کے دودھ سے اخراجات چلا رہا ہوں، نیب نے پوچھا کیا 10بھینسوں کے دودھ سے آپ کوسال میں ایک کروڑ روپیہ منافع آرہا تھا، کہ جن سے آپ اپنے اخراجات چلارہے تھے۔ شہبازشریف نے کہا کہ میں اپنا ریکارڈ چیک کروں گا۔اسی طرح نیب نے پہلا سوال پوچھا کہ آپ نے لندن میں جو پراپرٹی خریدی تھی ، اس کے پیسے کہاں سے آئے، شہباز شریف نے کہا کہ یہ پراپرٹی میں نے 30 فیصد اپنے پیسے اور 70 فیصد قرض لے کر خریدی ۔
انہوں نے 70فیصد پیسے جن میں اسحاق ڈار کی 
بہو نوازشریف کی صاحبزادی اسماء ڈار ، اور اجمل آسی سے قرضہ لیا، ایک عمران خان کے دوست ہیں، ان سے قرضہ لیا تھا۔یہ عمران خان کے دوست لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بھی لیتے ہیں۔ سیاستدانوں کو کھانا بھی کھلاتے ہیں۔نیب نے پوچھا یہ پیسے آپ نے لندن میں ٹرانسفر کیسے کیے؟ جس پر شہبازشریف نے کہا کہ یہ پیسے پاکستان سے ٹرانسفر نہیں کیے ، بلکہ لندن میں ہی انہوں نے قرضہ دیا تھا۔

اتوار، 3 مئی، 2020

”شہباز شریف گرفتار ہونے والے ہیں “

”شہباز شریف گرفتار ہونے والے ہیں “
راولپنڈی: وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ شہبازشریف واپس آ کر لمبے پھنس گئے ہیں، وہ آج کل آن لائن تراویح پڑھ رہے ہیں،وہ گرفتار ہونے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیب ٹارزن بننے جا رہی ہے،نیب اگر ٹارزن نہ بنا تو اس کا ختم ہونا ہی بہتر ہے، بجٹ سے پہلے سیاست میں گرمی دیکھ رہا ہوں، ٹارزن کی واپسی دونوں طرف ہوگی، پی ٹی آئی کے لوگ بھی اٹھائے جائیں گے۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ آئی پی پی پر ہاتھ ڈالا جائے،وزیراعظم عمران خان آخری آدمی ہیں جو ان کو گرفتار کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنڈی کے چھوٹے موٹے لوگ ہمیں خبریں دیتے ہیں، یہ لوگ 18 ویں چھوڑ کر 25 ویں ترمیم بھی مانیں گے،پنجاب میں ہلکی پھلکی موسیقی ضرور ہے، نوازشریف اور آصف زرداری کی کوئی سیاست نہیں دیکھ رہا جبکہ وزیراعظم عمران خان کو ٹائم پورا کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، پاک فوج اور وزیراعظم عمران خان کے تعلقات زبردست ہیں۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور عثمان بزدار کے تعلقات میں استقامت نہیں ہے تاہم وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ مین ووٹ وزیراعظم عمران خان کا ہے۔

اتوار، 22 مارچ، 2020

میاں شہبازشریف نے اسلام آباد سے لاہور ماڈل ٹاﺅن میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچ کر خود کو قرنطینہ کرلیا

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے خود کو قرنطینہ کرلیا
لاہور : اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میاں شہبازشریف نے اسلام آباد سے لاہور ماڈل ٹاﺅن میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچ کر خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف لندن سے آج صبح اسلام آبادپہنچے تھے،شہبازشریف بعد میں براستہ موٹروے اسلام آبادسے لاہور پہنچے ۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی خراب صحت کی وجہ سے لندن میں کئی ماہ سے موجود شہباز شریف وطن واپس آ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ فلائٹ پی کے 786 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے ہیں۔اسلام آباد پہنچنے کے بعد شہباز شریف نے ٹوئیٹر پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے ہم وطنو سے درخواست کی ہے کہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں اور کوشش کر کے گھر پر رہیں تاکہ کوئی بھی ہم میں سے اس بیماری کی وجہ سے اپنے پیاروں سے جدا نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ اللہ سب کا اور وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو۔ ٹوئیٹر پر جاری پیغام کے آخر میں انہوں نے "لو یُو آل" بھی کہا۔ اس کے بعد شہباز شریف اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوگئے اور پھر لاہور ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ پہنچ کر انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا۔ علاوہ ازیں لندن سے پاکستان واپسی سے قبل جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں اپوزیشن لیڈر نے کہا تھا کہ ارادہ تو پہلے ہی وطن واپس جانے کا تھا لیکن بڑے بھائی میاں نواز شریف کی صحت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان واپس جانے کا فیصلہ میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وطن جو اس وقت کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کی لپیٹ میں ہے میرا یہ فرض بنتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنی قوم کے کھڑا رہوں۔

منگل، 17 مارچ، 2020

کورونا وائرس، شہبازشریف ہوتے تو حالات سنبھال لیتے یہ بزدار صاحب کے بس کی بات نہیں : شاہد خاقان عباسی

کورونا وائرس، شہبازشریف ہوتے تو حالات سنبھال لیتے یہ بزدار صاحب کے بس کی بات نہیں : شاہد خاقان عباسی
اسلام آباد : کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ کوروناوائرس تیزی سے پھیل رہاہے، کوروناوائرس کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی بنائی جائے،حکومت کوسب سے پہلے کوروناوائرس س ےمتعلق آگاہی مہم چلانی چاہیے تھی ، تفتان میں ٹینٹ لگاکربیماراورصحت مندافرادکوایک ساتھ رکھاگیا،کوروناوائرس سے روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ایران سے و اپس آنےوالوں کیلئے انتظامات کرنے میں ناکام رہی،یہ معاملات دیکھنا بزدار صاحب کے بس کی بات نہیں،شہبازشریف ہوتے توپنجاب میں حالات مینج کرلیتے یہ بزدارصاحب کے بس کی بات نہیں.انہوں نے کہا کہ کوروناسے متعلق آگاہی کیلئے حکومت کومیڈیاکوساتھ لے کرچلناچاہیے تھا،وزیراعظم اپنے معاملات درست کرلیں، آپ کوحکمت عملی بنانی ہے ملک کوساتھ لے کرچلناہے ، میڈیاکوبجائے ساتھ لے کرچلنے کے اس حکومت نے میرشکیل الرحمان کوگرفتارکرلیا، کوروناوائرس سے متعلق ٹیسٹ کٹس کاانتظام کرناہوگا،وینٹی لیٹرزکاانتظام کرناہوگا ، وزیراعظم کارسپانس جوہم نے میڈیامیں دیکھا ہے وہ بھی بدنصیبی ہے،ہم نے سینیٹ اورقومی اسمبلی کیلئے ریکوزیشنزجمع کرادی ہیں۔

جمعرات، 30 جنوری، 2020

برطانوی صحافی کا چیلنج قبول ،شہبازشریف نے لندن کی عدالت میں مقدمہ دائرکر دیا

شہبازشریف کا برطانوی اخبار ڈیلی میل اور صحافی ڈیوڈ روز کیخلاف مقدمہ ..
اسلام آباد :  مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف نے لندن ہائیکورٹ میں برطانوی اخبار ڈیلی میل اور صحافی ڈیوڈ روز کیخلاف مقدمہ درج کروادیا ،اخبار کی طرف سے مناسب جواب نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیا، ڈیلی میل نے مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے،خبر سے میری کردارکشی کی گئی۔انہوں نے آج یہاں لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلی میل نے مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے، میں نے خبار سے رجوع کیا۔
لیکن مجھے مناسب جواب نہیں دیا گیا جس پر میں نے لندن ہائیکورٹ میں برطانوی اخبار ڈیلی میل اور صحافی ڈیوڈ روز کیخلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ میرے وکلاء نے گزشتہ روز مقدمہ دائر کردیا ہے۔عدالت میں اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کا ہوجائے گا۔
لندن کی عدالت میں آپ کی سیاسی موت ہوجائے گی۔ میں ماؤں بہنوں ، نوجوانوں سے مخاطب ہوں کہ اگر میرے خلاف کرپشن تھی تو کیا میرے خلاف برطانوی اخبار میں اسٹوری چھپوائی جاتی؟پھر نیب میرے خلاف مقدمہ درج کرتی۔
جبکہ ڈیفیڈ کے حوالے سے مجھے تونیب کا کوئی نوٹس نہیں ملا۔ آپ کو چاہیے تھا ،عمران خان میرے خلاف یہ کیس کرتے، گندے نالے اور آشیانہ کا کیس نہ کرتے۔ آپ نے یہاں اسٹوری لگوا کے میری کردارکشی کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ویسے ڈلیور نہیں کرسکی جیسے ن لیگ نے کیا ہے۔ اس لیے عمران خان الزامات ، دروغ گوئی اور جھوٹ بول رہے ہیں، ٹرانسپرنسی رپورٹ کے بعد عمران خان نیازی کے ساتھیوں کا یہ حال ہے کہ چور مچائے شور والا ہے۔
عمران خان عوام کی خدمت نہیں کررہے، برطانیہ نے تعلیم وصحت کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کی، کیا اس طرح کی خبریں چھپوا کربین الاقوامی اداروں کو یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستان کی مدد نہ کریں؟انہوں نے کہا کہ میں شہزاد اکبر کے بارے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ،شہزاداکبر نے من وعن عمران نیازی کی ہدایت پر عمل کیا۔میں نے آج تمام سوالات کے جوابات دے دیے۔مجھے گرانے کی کوشش میں پاکستان کو بدنام کیا گیا۔

جمعرات، 2 جنوری، 2020

ن لیگی قیادت چودھری نثار کےگھرجا کران سےمعافی مانگیں، سلیم صافی

 سینئر تجزیہ کارسلیم صافی نے کہا ہے کہ ن لیگی قیادت چودھری نثار کے گھرجا کران سے معافی مانگیں، سب قائدین مریم نواز کی قیادت میں جا کرمعافی مانگیں، اگر چوہدری نثار کی بات مانی جاتی تو نہ حکومت جاتی، جیلیں دیکھنی پڑتیں اور نہ تابعداری کی وہ سیاست کرنی پڑتی جواب کی جارہی ہے۔
انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق نون لیگ کے فیصلے میں میاں نوازشریف اور مریم نواز پوری طرح شریک ہیں۔ گویا یہ اعتراف کرلیا گیا کہ شہباز شریف اور چودھری نثارکا بیانیہ درست اور مریم نواز وغیرہ کا غلط تھا۔ کیا وہ خوشامدی اب معافی مانگیں گے جنہوں نے باپ بیٹی کو پنگے لینے پر اکسایا؟ انہوں نے کہا کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین مریم نواز صاحبہ کی قیادت میں چودھری نثارعلی خان کے گھرجا کران سے معافی مانگیں۔
ان کی بات مانی جاتی تو نہ حکومت جاتی ، جیلیں دیکھنی پڑتیں اور نہ بعدازخرابی بیسیار تابعداری کی وہ سیاست کرنی پڑتی جو اب نون لیگ کرنے لگی ہے۔ دوسری جانب سینئر تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے تمام معاملات پرخاموشی اختیار کرلی ہے، شہبازشریف نے نوازشریف کو مفاہمتی سیاست کیلئے قائل کرلیا ہے، سوال یہ ہے کہ ن لیگ کے ساتھ مک مکا کے پیچھے کیا ہے؟ انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نازک مرحلے میں شہبازشریف لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اب رانا ثناء اللہ فرمار ہے ہیں کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لگتا ہے رانا صاحب اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔ اصولی طور پر ان کی پارٹی کا مشاورتی اجلاس ہی نہیں ہوا۔ مریم نواز نے تو ویسے ہی چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ ن لیگ پرانی تنخواہ پر نوکری کرنے کیلئے تیار بیٹھی ہوئی تھی۔

جمعرات، 5 دسمبر، 2019

حکومت پانچ سال پورے کریگی،شہبازشریف رنگ باز،دس سال گجرات میں فنڈز نہیں جھوٹے پرچے دئیے:چوہدری پرویز الٰہی

حکومت پانچ سال پورے کریگی،شہبازشریف رنگ باز،دس سال گجرات میں فنڈز نہیں جھوٹے پرچے دئیے:چوہدری پرویز الٰہی
گجرات: قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویزالٰہی نےکہاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پانچ سالپورے کرے گی، اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ تنقید کرے، ہماری جماعت حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے اور دے گی، اللہ جانتا ہے کہ ہم نے جس کا بھی ساتھ دیا نیک نیتی سے دیا ہے، شہبازشریف رنگ باز ہے،ن لیگ کے دس سال میں شہبازشریف نے گجرات کو فنڈز نہیں دئیے صرف جھوٹے پرچے ضرور دئیے، گجرات کی ترقی کا سفر جہاں سے بند ہوا تھا وہیں سے شروع کر دیا گیا ہے،جلالپور جٹاں میں65 کروڑ روپے کی لاگت سے گیس پائپ لائن کا میگا پروجیکٹ ہمارے نوجوان ایم این اے حسین الٰہی لے کر آئے ہیں، کاروباری طبقہ اور پاٹری سے وابستہ صنعتکار اس سے مستفید ہو سکیں گے، سابقہ حکومت نے دس سال میں یہاں کوئی کام نہیں کیا، ہمارا نوجوان اتنا بڑا میگا پراجیکٹ اس علاقہ کیلئے لے آیا ہے تو پھر بڑے بھی اس علاقہ کیلئے کچھ نہ کچھ لے کر آئیں گے۔
جلالپور جٹاں میں گیس پائپ لائن کا افتتاح کرنے کے بعدتقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ شہبازشریف نے شہباز برج کا جو برا حال کیا وہ سب کے سامنے ہے، آج ہم اسے بھی دوبارہ شروع کروا رہے ہیں، اسی طرح 1122 کا مین مرکز بھی یہاں بنا رہے ہیں اور چھوٹی چھوٹی گلیوں کیلئے موٹر سائیکل سروس بھی شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ تنقید کرے، ہماری جماعت پاکستان مسلم لیگ حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے اور دے گی، اللہ جانتا ہے کہ ہم نے جس کا بھی ساتھ دیا نیک نیتی سے دیا ہے، ہمیں کہا جاتا تھا کہ یہ گیارہ ارکان ہیں یہ کیا کر لیں گے؟ہم نے مولانا فضل الرحمن کا دھرنا خوش اسلوبی سے ختم کروایا ،مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں دو لاکھ افراد تھے، مولوی اور پولیس آمنے سامنے تھے مگر ایک گلاس بھی نہیں ٹوٹا، چودھری شجاعت حسین اور میں نے بار بار جا کر انہیں منایا، اتنا بڑا کام ہو گیا مگر انہیں خبر نہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے دس سال میں شہبازشریف نے گجرات کو فنڈز نہیں دئیے صرف جھوٹے پرچے ضرور دئیے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے مخالفین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے اور نہ ہی مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگائیں گے، اقتدار میں آزمائش شروع ہو جاتی ہے، ہم نے اس آزمائش پر پورا اترنا ہے، اس علاقہ کی ترقی کا جب بھی سوچا ہم نے ہی سوچا۔
انہوں نے کہاکہ شہبازشریف رنگ باز ہے،سیالکوٹ لاہورموٹروے ہمارے منصوبے کودوسری جگہ سےلےجاناچاہتےتھےمگروہ ایسانہ کرسکے،اللہ کومنظورہوا تو موٹروے یہیں سے گزرے گی،پی ٹی آئی کےلوگوں کو کہتا ہوں کہ صبر کریں اور نیک نیت رہیں تمام کام وقت کے ساتھ ہو جائیں گے،شہبازشریف نے ہسپتالوں کا برا حال کر دیا،ایک بیڈپرتین تین مریض تھےجبکہ ہمارے دورمیں ایک بیڈپرایک مریض ہوتاتھااوردوائی مفت ملتی تھی۔ اس موقع پر ایم این اے حسین الٰہی نے بھی خطاب کیا جبکہ چودھری وجاہت حسین، شجاعت نواز اجنالہ، محمد خان بھٹی، چودھری نعیم رضا، عبداللہ یوسف، خالد گھرال، منصور حیات بٹ، بابر سلیم کھوکھر، امتیاز احمد گوگا، سید ہاشم شاہ، عاطف شاہ اور میاں عمران مسعود بھی سٹیج پر موجود تھے۔

منگل، 19 نومبر، 2019

نوازشریف لاہور ایئر پورٹ پر پہنچے تو کس نے ان کا استقبال کیا؟

نوازشریف لاہور ایئر پورٹ پر پہنچے تو کس نے ان کا استقبال کیا؟جانیے

لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن روانگی کیلئے لاہور ایئر پورٹ پر پہنچ گئے ،سابق وزیراعظم کا ایئر پورٹ پہنچنے پر مسلم لیگ ن کے رہنماﺅںراجہ ظفر الحق ،رانا تنویر،عطاتارڑ، احسن اقبال، خواجہ آصف اور دیگر نے استقبال کیا ۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف لندن روانگی کیلئے لاہور ایئر پورٹ پر پہنچ گئے ،سابق وزیراعظم نوازشریف قطر کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن روانہ ہوں گے، اس موقع پر مسلم لیگ کے رہنماراجہ ظفر الحق ،رانا تنویر،عطاتارڑ، احسن اقبال، خواجہ آصف،خرم دستگیر اور دیگر ایئرپورٹ پر موجود تھے جہاں لیگی رہنماﺅں نے اپنے قائد کا استقبال کیا،سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ شہبازشریف ،ڈاکٹر عدنان ،سیکرٹری عابداللہ جان اور ذاتی ملازم محمد عرفان روانہ ہوں گے۔

اتوار، 17 نومبر، 2019

"زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن حکومت۔۔۔ "نوازشریف کا موقف بھی آگیا


لاہور: نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کے بعدسابق وزیراعظم کا پہلابیان سامنے آگیا۔ نوازشریف نے کہا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔حکومت نے انتہائی چھوٹے دل کا مظاہرہ کیا۔چھوٹے بھائی ہونے کے ناطےشہبازشریف نے جو کوشش کی وہ قابل تعریف ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے شہبازشریف سے ملاقات کے دوران کیا۔شہبازشریف آج جاتی امراپہنچے جہاں انہوں نے اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی عیادت کی اور نیک تمناوں کااظہارکیا۔اس موقع پر مریم نواز بھی وہاں موجودتھیں جبکہ ڈاکٹر عدنان نے شہبازشریف کونوازشریف کی صحت سے متعلق بریف کیا۔شہبازشریف نے نواز شریف سے ان کی طبیعت کااحوال پوچھا اور انہیں اب تک ہونے والے معاملات سےمتعلق آگاہ بھی کیا۔شہباز شریف نے نواز شریف سے کہا کہ تمام انتظامات مکمل ہیں آپ بس تیاری کریں۔اپنے بیان میں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحادی جماعتوں نے دشمنی کی سیاست نہیں کی بلکہ انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہاتمام سیاسی جماعتوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون کیا۔شہبازشریف نے کہاکہ وہ چوہدری شجاعت ، چوہدری پرویز الٰہی، اے این پی ، چیئرمین سینیٹ اور عوام کے شکرگزار ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا اور نوازشریف کی صحت و تندرستی کیلئے دعائیں کیں۔اس موقع پر شہبازشریف نے حکومت پر تنقید بھی کی ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تاخیر کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ریلیف دیا۔
یادرہے گزشتہ روزلاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 4 ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس باقر علی نجفی نے حکم نامہ تحریر کراتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 4 ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے نمائندے کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کو مسترد کردیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شہباز شریف اور نواز شریف نے انڈر ٹیکنگ دی ہے، اور اب نواز شریف 4 ہفتوں کیلئے بیرون ملک جاسکتے ہیں اور علاج کے دوران اس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ہی علاج کیلئے بیرون ملک جاسکتے ہیں۔سماعت سے قبل فریقین نے اپنے اپنے ڈرافٹ جمع کرائے تھے تاہم عدالت تاہم عدالت نے وکلا کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو بیرون ملک روانگی کا پروانہ جاری کردیا۔
واضح رہے کہ نواز شریف کا نام ای سے نکلوانے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کونواز شریف کو ریلیف دینے کی بات کی تھی جبکہ چوہدری برادران حکومت کو قائل کرنے والوں میں نمایاں تھے۔چوہدری شجاعت کے مطابق انہوں نے عمران خان سے کہا تھا کہ وہ اپنے گلے میں طوق نہ ڈالیں اور میاں نوازشریف کو ملک سے باہر علاج کیلئے جانے کی اجازت دے دیں۔ چوہدری برادران کےاس بھرپور کردار کو شہبازشریف نے بھی سراہا ہے اور ان کا شکریہ اداکیاہے۔

ہفتہ، 16 نومبر، 2019

عدالتی ڈرافٹ نواز شریف کو بھجوایا گیا تو انہوں نے کیا کہا؟ بڑی خبر آگئی

نواز شریف حکومت کو بانڈز جمع نہیں کرانا چاہتے تو عدالت میں جمع کروا ..
لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور شہبازشریف کے وکلاء کو مجوزہ ڈرافٹ فراہم کردیا۔نوازشریف کو بیرون ملک علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے،اگر نوازشریف کی صحت ٹھیک نہیں ہوتی تو مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے ،حکومتی نمائندہ سفارتخانے کے ذریعے نوازشریف سے رابطہ کرسکے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس باقرعلی نجفی کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی۔
لاہور ہائیکورٹ نے جائزے کیلئے وفاقی حکومت اور شہبازشریف کے وکلاء کو مجوزہ ڈرافٹ فراہم کردیاہے۔نوازشریف کو بیرون ملک علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے،اگر نوازشریف کی صحت ٹھیک نہیں ہوتی تو مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے ۔
عدالتی ڈرافٹ کے متن میں کہا گیا کہ حکومتی نمائندہ سفارتخانے کے ذریعے نوازشریف سے رابطہ کرسکے گا۔اسی طرح سماعت کے دوران جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ آپ انڈیمنٹی بانڈز کو نوازشریف کی واپسی سے مشروط کررہے ہیں اگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کو بری کردیا تو پھر کیا ہوگا؟توقع کرتے ہیں کہ نوازشریف بیان حلفی دے کرجائیں اور واپس آئیں۔
جس پر اٰیڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر نوازشریف اسلام آبادہائیکورٹ سے بری ہوجاتے ہیں توہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا،بیان حلفی پر اعتراض اٹھایاکہ ن لیگ کے ڈرافٹ میں بانڈز کا کوئی ذکر نہیں۔عدالت نے کہا کہ ہرکوئی جانتا ہے کہ نوازشریف کی صحت خراب ہے۔نوازشریف نے صحت سے متعلق ڈاکٹرز وقفے وقفے سے رپورٹ پیش کریں گے،اسلام ہائیکورٹ نے نوازشریف کو علاج کیلئے ضمانت دی۔
نوازشریف کی ضمانت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔8ہفتے کی ضمانت کی معیاد ختم ہونے کے بعد عدالت ہی اس کو دیکھے گی۔عدالت حکومتی شرائط سے متعلق فیصلہ کرے گی،دیکھیں گے کہ حکومتی ڈرافٹ کی شرائط قانونی ہیں یا نہیں؟ ہم وفاق کے خدشات کو دیکھیں گے، چاہتے ہیں معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوجائے،جبکہ عدالت کا دورکنی بنچ ڈرافٹ کا مسودہ خود تیار کرے گی۔
عدالت نے کہا کہ نوازشریف کا بیان حلفی مناسب لگ رہا ہے، شہبازشریف کے الفاظ کو یقین میں تبدیل کریں۔عدالت نے کہا کہ نوازشریف کا علاج بیرون ملک میں ہوگا۔علاج کیلئے باہر جارہے ہیں ، اگر نوازشریف کو برطانیہ میں برگر کھاتے ہوئے دیکھا تو کیا درخواست دائر کریں گے؟سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کو بیمار قراردیا جاتا ہے، اسحاق ڈار میڈیکل گراؤنڈ پر ہیں اور وہ پھرتے نظر آتے ہیں۔
اگر حکومت کو انڈیمنٹی بانڈز جمع نہیں کروائے جاتے تو عدالت میں کروا دیں، یہ کوئی رقم نہیں بلکہ جائیدادملکیت کے کاغذات ہیں۔نوازشریف اور شہبازشریف کے جواب میں حکومت نے بھی اپنا ڈرافٹ تیار کیا ہے۔ حکومت اگر سمجھے گی تو نوازشریف کے چیک اپ کیلئے اپنا میڈیکل بورڈ باہر بھیج سکتی ہے۔شہبازشریف بیان حلفی دیں کہ نوازشریف واپس نہ آئے تو جرمانے کی رقم دیں گے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 25نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی ہے، نوازشریف کو عدالت میں پیش ہونا ہے۔وکیل نوازشریف نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت نے پہلے ہی بہت وقت ضائع کردیا، عدالت ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دے۔واضح رہے سابق وزیر اعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں آج وقفے وقفے سے دوبار سماعت ہوئی۔عدالت نے تیسری بار کیلئے سماعت ملتوی کی اور ڈرافٹ تیار کیا۔عدالت نے فریقین کو کہا کہ آپ اس ڈرافٹ پر مطمئن ہوئے تو فیصلہ کریں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں