They are 100% FREE.

کشمیر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کشمیر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 30 نومبر، 2019

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ،جن سے نوٹیفکیشن نہیں بناوہ اتفاق رائے کیسے قائم کریںگے،بلاول بھٹو

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ،جن سے نوٹیفکیشن نہیں بناوہ اتفاق رائے کیسے قائم کریںگے،بلاول بھٹو
مظفرآباد:آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ اب پارلیمان میں آئے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جن سے ایک نوٹیفکیشن نہیں بنا وہ چھ ماہ میں ایوان کے بارے میں اتفاق رائے کیسے قائم کریں گے۔آج سیاست میں نظریات نہیں بلکہ سستی شہرت کیلئے کیچڑ اچھالاجاتا ہے۔عمران حکومت نے پیپلز پارٹی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے بجائے سی پیک جیسے منصوبوں کو بھی متنازع بنادیا ہے تاہم پیپلز پارٹی ان منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریںگے۔انہوں نے کہا اس حکومت سے جان چھڑانا ہوگی۔سلیکٹرز کو بھی سوچنا پڑے گاکہ ان کے تجربات صحیح ثابت نہیں ہوئے اور یہ تجربہ ناکام ہوگیاہے،اب عوامی راج لانا پڑے گا۔
مظفرآباد مٰیں پیپلز پارٹی کے 52ویں یوم تاسیس پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے  کہااس سال ستائیس دسمبر کو بی بی شہید کی برسی اسی جگہ پر منائی جائے گی جہاں انہوں نے اپنی جان قربان کی تھی۔انہوں نے ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر وہ علم دوبارہ بلند کریں گے جسے بی بی نے اٹھایا تھا۔
اسی پنجاب کے شہر راولپنڈی سے جہاں ذوالفقار بھٹو کو شہید کیاگیا۔اسی شہر میں جہاں زرداری کا ٹرائل کیاجارہاہے۔جلسے کا مقصد لوگوں کو پیغام دینا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ تو ہمیں کوئی سلیکٹر منظور ہے نہ ہی کوئی ایسا نظام جس میں عوام کی مرضی شامل نہ ہو۔انہوں نے ایک نئی تحریک کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پارٹی انہیں اصولوں کو دوبارہ اپنائے گی جن پر یہ پارٹی قائم ہوئی۔
کشمیر پر بات کرتے ہوئے بلاول نے کہاپیپلزپارٹی کاکشمیر سے رشتہ پہلے دن سے ہے، مقبوضہ کشمیرمیں نوجوانوں کی آنکھوں مسخ کی جارہی ہیں،پیپلزپارٹی نے مسئلہ کشمیرپراہم کرداراداکیا،پیپلزپارٹی ہمیشہ کشمیرکی محافظ رہی،پیپلزپارٹی نے کشمیرپرسوداقبول نہیں کیا،کوئی کشمیرکاسفیررہاہے تووہ شہیدبھٹوہے۔بھٹو شہید اقوا م متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ رکھتا تو بھارتی سفیر کا پسینہ چھوٹ جاتا تھا۔بھٹو نے اقتدارکو ٹھوکر ماری کشمیر پر سودا نہیں کیا۔انہوں نے کہا پیپلز پارٹی امن چاہتی ہے لیکن کشمیر کی قیمت پر نہیں۔انہوں نے کہاپہلی بارکشمیرکااسپیشل اسٹیٹس ختم کردیاگیاہے۔مودی کی لگائی نفرت کی فصل بھارت کی کئی نسلیں کاٹیں گی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں نریندر مودی کو پہچانو، مودی انتہا پسند سوچ رکھتا ہے، بھارتی وزیراعظم ایک انتہا پسند سوچ رکھنے والا شخص ہے، مودی پورے خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کہتا تھا مودی جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔

پیر، 28 اکتوبر، 2019

حکمران اگر واقعی کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں تو انہیں محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی بننا پڑے گا ، کشمیر کی آزادی کےلیے جنگ ہم نے خود لڑنی ہے:سراج الحق

حکمران اگر واقعی کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں تو انہیں محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی بننا پڑے گا ، کشمیر کی آزادی کےلیے جنگ ہم نے خود لڑنی ہے:سراج الحق
 امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ بھارتی فوج کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے، دنیاانسانی حقوق پرشورتوکرتی ہےمگرکشمیرپرنظرنہیں، کشمیرکےلیےجنگ ہم نےخودلڑنی ہے، سینٹ اورہرپلیٹ فورم پرکشمیری عوام کی آوازاٹھائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گجرات میں آزاد ی کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کو جیل بنے ہوئے 85 دن گزر گئے،اقوام متحدہ اورعالمی برادری زبانی مذمت سے آگےنہیں بڑھی.ان کاکہنا تھا کہ کشمیر کی لڑائی پاکستان کی بقا،سلامتی اور تحفظ کی لڑائی ہے،یہ جنگ ہمیں کسی کےبھروسے پر نہیں،اپنے زور بازو پر لڑنی ہے، سابقہ حکمران کشمیر یوں سے بے وفائی نہ کرتے تو انہیں راستے بند کرکے خندقیں نہ کھودنا پڑتیں،شہداء کے خون سے بے وفائی اور جہاد سے منہ موڑ نے کی سزا ہے کہ حکمرانو ں کا سایہ بھی ساتھ چھوڑ چکاہے ۔
آزاد ی کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران اگر واقعی کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں تو انہیں محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی بننا پڑے گا ، اقوام متحدہ اور عالم کفر سے کوئی امید لگانا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
سینیٹر سراج الحق نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو کاٹ کر نئے ملک بنائے مگر کشمیر چونکہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے اس لیے 72 سالوں سے اقوام متحدہ اندھی گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے، ہمیں ملت کفر سے نہیں عالم اسلام سے گلہ ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 85 دن گزرنے کے باوجود مسلم دنیا کے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں،لاکھوں کشمیریوں کو شہید کیا گیا،اٹھارہ ہزار کشمیری نوجوان بھارت کی جیلوں میں بند ہیں،چودہ ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی ،5 اگست کے بعد ساڑھے تین سو کشمیری بچیوں کو اٹھا لیا گیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہ بن جائے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، وزیراعظم عمران خان کو کشمیر کی آزادی کے لیے ابن قاسم کا کردار ادا کرنا ہوگا۔امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی کابینہ صرف پرویز مشرف نہیں ہے،باقی سب وہی لوگ ہیں۔انہوں نےکہا کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث لوگوں کو متاثرین پر دباؤ ڈال کر معاف کروایا، میں سانحہ ساہیوال کے قاتلوں کا پیچھا کروں گا۔
سراج الحق نے کہا کہ نئے پاکستان میں ہر چیز پرانی ہے، آج پورا پنجاب ڈینگی کے حملوں کی زد میں ہے۔

اتوار، 27 اکتوبر، 2019

ہماری صفوں میں اشتعال پیدا کرنے کیلئے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیاگیا، حافظ حمداللہ اسلام آباد میں ہمارے ساتھ ہوں گے: مولانا فضل الرحمان

ہماری صفوں میں اشتعال پیدا کرنے کیلئے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیاگیا، حافظ حمداللہ اسلام آباد میں ہمارے ساتھ ہوں گے: مولانا فضل الرحمان
کراچی (سٹاف رپورٹر ) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کو جانا ہوگا استعفے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے، حکومت کی مذاکراتی ٹیم ہم سے این آر اولینے آئی تھی، ہمارے حکمرانوں نے کشمیر پر سودا کیا ہے ہم اس سودے کو ہر صورت رد کرتے ہیں، کشمیر کے مسئلے پر سب پاکستانی ایک پیج پر ہیں، او آئی سی سمیت عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کو واپس کیا جائے، ان خیالات کا اظہار کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں کشمیر یکجہتی ریلی و آزادی مارچ سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ریلی سے پی پی پی کے رہنما رضا ربانی، ن لیگ کے رہنما محمد زبیر، اےاین پی کے شاہی سید ، جے یو پی کے شاہ اویس نورانی، مولانا محمد امجد خان، مولانا راشد خالد سومرو ، اسلم غوری، مولانا عبد القیوم ھالیجیوی ، مولانا عبد الکریم عابد ، قاری عثمان اور دیگر نے خطاب کیا.
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے پوری قوم سے وعدہ کیا تھا کہ 27 اکتوبر کو قوم پورے ملک میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی منائی جائے  گی، اس طرح نہیں چلتا کہ قوم پر ظلم و ستم ہوتا رہے اور ہم خاموش رہیں. ہم قطعاً خاموش نہیں رہیں گےمیں 27 اکتوبر کے مجاہدین کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانی دی اور کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑی،ہم کشمیر کے حوالے سے موجودہ حکومت کے معاہدات اور سودے کو تسلیم نہیں کرتےآج کی ہماری جدوجہد کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گی آج عوام کی یکجیتی سے ہندوستان کی ظالم حکومت کو پیغام مل رہا ہےعام آدمی کی زندگی تین ماہ سے اجیرن ہے لوگوں کی شخصی اور انفرادی زندگی برباد کی گئی ہےہم او آئی سی سمیت عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کو واپس کیا جائے ہماری بھی کوتاہیاں ہیں مگر دنیا کو پیغام دیتے ہیں کشمیر کے مسئلے پر سب پاکستانی ایک پیج پر ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ آج ہماری صفوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیاگیا ہے ہم نے پوری زندگی ملک کےساتھ وفاداری کی ہے۔ ہم نے شدت پسندوں کا مقابلہ کرکے جید علماء کی شہادتیں دی ہیں، مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ عمران خان نےکہا تھا اتنے لوگ جمع کرلیں تو استعفیٰ دے دیں گے اب یہ تو صرف کراچی نے جمع کردیا، پورا ملک جمع ہوا تو پھر کیا ہوگا حکومت کی مزاکراتی ٹیم ہم سے این آر او لینے آئی تھی ہم عمران خان کے استعفیٰ سے دستبردار نہیں ہوئے، عمران خان کو جانا ہوگاہم حکمرانوں کے استعفی سے دستبردار نہیں ہونگے عمران خان جبری اور دھاندلی کی بنیاد پر آیا ہےہم نہ الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرتے ہیں نہ اس کے نتیجےمیں بننے ہونے والے اس وزیراعظم کو تسلیم کرتے ہیں،مزید ہم کیا کریں گے یہ اسلام آباد پہنچ کر فیصلہ کریں گے ہم نے عدلیہ کا احترام کیا اور اسی روشنی میں دھرنادیں گے۔

بدھ، 16 اکتوبر، 2019

جھوٹ بولنے پر حکمران قوم سے مافی مانگیں،آزادی کشمیر کی جدوجہد سیاسی ایجنڈا نہیں ،ہم پاکستان اور عالم اسلام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں:سراج الحق

جھوٹ بولنے پر حکمران قوم سے مافی مانگیں،آزادی کشمیر کی جدوجہد سیاسی ایجنڈا نہیں ،ہم پاکستان اور عالم اسلام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں:سراج الحق
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے قوم سے جھوٹ بولنے پر حکمرانوں سے معافی کا مطالبہ کیاہے اور کہاہے کہ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کے وعدوں سے مکر کر حکمرانوں نے جھوٹے اور ناقابل اعتبار ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے،دیانتداری کا راگ الاپنے والوں نے سینیٹ میں بدترین خرید و فروخت کی،معیشت 13 فیصد تنزلی کے بعد آخری نمبروں پر ہے اور دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی کوئی عزت نہیں،حکمران بدترین مہنگائی ، بے روزگاری ، روپے کی قدر میں کمی پر کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں،میں کہتاہوں کہ اگر بچے کو تعلیم ، بیمار کو علاج ، مظلوم کو انصاف اور عام آدمی کو دو وقت کا کھانا نہ مل سکے تو گھبرانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو جھوٹے اور مکار حکمرانوں سے بچایا جاسکے،کشمیر پاکستان کی معاشی ، جغرافیائی اور نظریاتی شہ رگ ہے،کشمیر کی آزادی پاکستان کی بقا اورسا لمیت کے لیے ضروری ہے،مودی کا نظریہ اکھنڈ بھارت کا ہے،وہ پاکستان پر قبضہ کرنے،مسلمانوں کو ہند و اور مساجد کو مندر بنانے کی باتیں کر رہا ہے،27 ستمبر کو وزیراعظم پاکستان کے یواین او میں خطاب کے بعد پاکستانی میڈیا نے کشمیر کو کوریج نہیں دی،کبھی کچرے کا اور کبھی کوئی اور نان ایشو ڈھونڈلیا جاتاہے،کشمیر کی آزادی کی جدوجہد ہمارا سیاسی ایجنڈا نہیں،ہم پاکستان اور عالم اسلام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں