They are 100% FREE.

نواز شریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نواز شریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 6 جون، 2020

"چوہدری نثار نواز شریف کو مائنس کرکے ۔۔۔ " لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کا تہلکہ خیز انکشاف


لاہور : مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی  خان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔

یہ بھی ضرور پڑھیں   :رولس رائس کی کھلونا کار نے قیمت میں بڑی گاڑیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

نجی ٹی وی سماء سے گفتگو کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف نے کہا کہ چوہدری نثار نواز شریف کو مائنس کر کے وزیر اعظم بنا چاہتے تھے، انہوں نے اسی وجہ سے 18 ویں ترمیم میں بھی رخنہ ڈالا کیونکہ 18 ویں ترمیم کی وجہ سے ہی نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننا تھا لیکن چوہدری نثار ایسا نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ  چوہدری نثار نے پی ٹی آئی کے دھرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ دھرنے کے دوران چوہدری نثار نے جان بوجھ کر اعتزاز احسن پر الزامات لگائے جس پر انہیں معافی مانگنے کا کہا گیا لیکن ان کے انکار کے بعد راجہ ظفرالحق کو معافی مانگنے کا کہا گیا۔

پیر، 4 مئی، 2020

پی ٹی آئی دھرنے کے سہولت کار چوہدری نثار تھے، جاوید لطیف


مسلم لیگ (ن) نے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو 2014ء کے تحریک انصاف کے دھرنے کا سہولت کار قرار دے دیا۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں ن لیگ کے سینئر رہنما جاوید لطیف نے چوہدری نثارکے حوالے سے انکشاف کیا۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں استفسار کرتے ہوئے کہا کہ کیا دھرنے کے دنوں میں تھانے سے ملزمان میں نے چھڑوائے تھے یا عمران خان نے چھڑوائے تھے؟
اس پر پروگرام کے میزبان نےسوال کیا اس وقت حکومت کس کی تھی؟ وزیر داخلہ کس کا تھا؟ تھانے سے ملزمان چھڑانے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟
جواب میں جاوید لطیف نے کہا کہ حکومت نواز شریف کی اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تھے، ملزمان چھڑانے والے کو کیوں نہیں پکڑا پر میں عرض کروں گا، جس کی آپ مجھے اجازت دیں۔
ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ دھرنے کے دوران پی ٹی وی پر حملہ ہوا، وزیراعظم ہاؤس پر حملہ ہوا، اس دوران ریڈ زون میں دھرنے کے شرکاء کو داخلے کی اجازت دینا اور پتا نہیں کس کس کی فون کال ریسو کرنا، اس سارے معاملے میں کون سہولت کار بنا ہوا تھا۔
جاوید لطیف نے یہ بھی کہا کہ آج وہ وزیرداخلہ کہاں ہیں؟ جس پر پروگرام کے میزبان نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ کا وزیرداخلہ تحریک انصاف کا سہولت کار تھا؟ جس پر ن لیگی رہنما نے کہا کہ ہاں میں کہہ رہا۔

https://twitter.com/i/status/1257332279355023363

Source : geotv

اتوار، 22 مارچ، 2020

میاں شہبازشریف نے اسلام آباد سے لاہور ماڈل ٹاﺅن میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچ کر خود کو قرنطینہ کرلیا

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے خود کو قرنطینہ کرلیا
لاہور : اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میاں شہبازشریف نے اسلام آباد سے لاہور ماڈل ٹاﺅن میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچ کر خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف لندن سے آج صبح اسلام آبادپہنچے تھے،شہبازشریف بعد میں براستہ موٹروے اسلام آبادسے لاہور پہنچے ۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی خراب صحت کی وجہ سے لندن میں کئی ماہ سے موجود شہباز شریف وطن واپس آ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ فلائٹ پی کے 786 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے ہیں۔اسلام آباد پہنچنے کے بعد شہباز شریف نے ٹوئیٹر پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے ہم وطنو سے درخواست کی ہے کہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں اور کوشش کر کے گھر پر رہیں تاکہ کوئی بھی ہم میں سے اس بیماری کی وجہ سے اپنے پیاروں سے جدا نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ اللہ سب کا اور وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو۔ ٹوئیٹر پر جاری پیغام کے آخر میں انہوں نے "لو یُو آل" بھی کہا۔ اس کے بعد شہباز شریف اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوگئے اور پھر لاہور ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ پہنچ کر انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا۔ علاوہ ازیں لندن سے پاکستان واپسی سے قبل جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں اپوزیشن لیڈر نے کہا تھا کہ ارادہ تو پہلے ہی وطن واپس جانے کا تھا لیکن بڑے بھائی میاں نواز شریف کی صحت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان واپس جانے کا فیصلہ میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وطن جو اس وقت کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کی لپیٹ میں ہے میرا یہ فرض بنتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنی قوم کے کھڑا رہوں۔

جمعرات، 12 مارچ، 2020

جتنے مرضی تجربات کروالیں آخر نواز شریف نے ہی آنا ہے.. مریم نواز

جتنے مرضی تجربات کروالیں آخر نواز شریف نے ہی آنا ہے.. مریم نواز
سلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میں خاموش تھی جس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں اگر آج میں بولوں گی تو کیا میڈیا دکھائے گا؟ مریم نواز نے اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد لندن میں زیر علاج ہیں، اگر دل، چہرے اور الفاظ کا ساتھ نہ دے رہا ہو تو یہ بلکل غلط بات ہے.

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈرا دھمکا کر روک سکتا ہے تو وہ یہ جان لے کہ سولین بالادستی اور آئین کے ساتھ جو تعلق ہے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے مریم نواز نے کہا کہ میرے والد علاج کے لیے لندن میں زیر علاج ہیں میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے ان کو تکلیف ہو.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب میری قیادت سمجھے گی اور ہدایت کرے گی میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کروں تو مجھے پیچھے نہیں پائیں گے انہوں نے کہا کہ مجھے میڈیا پر دکھانے پر پابندی ہے، خوف کا یہ عالم ہے، مجھے سے زیادہ میڈیا پابندیوں کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے.انہوں نے کہا مجھے میڈیا سے ہمدردی ہے، میڈیا جو دیکھنا چاہتا ہے وہ نہیں دیکھا سکتا، ماضی میں میڈیا پر اتنا برا وقت نہیں آیا لندن میں زیر علاج مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے متعلق انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کے دل کی ایک شریان 90 فیصد بند ہے.مریم نواز نے ان خبروں کی تردید کی کہ جس میں نواز شریف سے متعلق کہا گیا تھا کہ نوازشریف نے مریم نواز کی لندن میں موجودگی کے بغیر علاج کرانے سے انکار کردیا مسلم لیگ (ن) نائب صدر نے واضح کیا کہ نواز شریف نے صرف یہ کہا تھا کہ مریم نواز کی تاریخیں قریب ہیں، اس لیے تھوڑا انتظار کرلیتا ہوں.مریم نواز نے کہا کہ یقیناً میاں صاحب کا دل کرتا ہوگا کہ گھر کے تمام افراد ان کے ساتھ ہوں کیونکہ میری والدہ کی رحلت کو زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ بہن اور بطور مسلم لیگ (ن) کی ورکر کی حیثیت شاہد خاقان عباسی کو خراج تحسین پیش کرنے آئی ہوں کہ انہوں نے بغیر کسی الزام اتنی لمبی جیل کاٹی اور پارٹی نظریے پر قائم رہے.
مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈرا دھمکا کر روک سکتا ہے، تو وہ جان لے کہ سویلین بالادستی کے لئے میراعزم اور مضبوط ہوا ہے، میں پارٹی کے ڈسپلن پر چل رہی ہوں، جب پارٹی نے کہا کہ مجھےآگے آکرکردار ادا کرنا چاہیے تو آپ پیچھے نہیں دیکھیں گے، ملک میں جتنے مرضی تجربات کروالیں آخر نواز شریف نے ہی آنا ہے. اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود مریم نواز کا ایک بڑا مقام پاکستان کی سیاست میں ہوگا.انہوں نے کہا کہ ہم سب ملک کر مریم نواز کے شانہ بشانہ کام کریں گے، اصولوں پر قائم رہیں گے اور ملک میں آئین کی حکمرانی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مریم نواز کی خاموشی سے متعلق بہت سے سوالات نے جنم لیا، انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کے دل میں جگہ پیدا کی، سیاست میں ایک مقام پیدا کیا انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان اور جماعت کو ضرورت ہوگی، مریم نواز کو اپنے ہمراہ پائیں گے.

دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمانت ملنے کے باوجود ایسی کیا زنجیر ہے جس نے آپ کو جکڑا ہوا ہے؟ مریم نواز کی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز صاحبہ آپ کونسی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں؟ زنجیریں توڑ کر اپنی آزادی کا اعلان کیوں نہیں کرتیں؟ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں.فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ ایک بار پھر میڈیا میں آپ کی رونمائی صرف ذاتی درد کیلئے ہے وزیر اعظم عمران خان قوم کو آپ کے دیے ہوئے دکھوں اور دردوں کا مداوا بڑے احسن انداز سے کر رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو اب آپ مزید گمراہ نہیں کر سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام جانتے ہیں کہ جب بھی لیگی قیادت اقتدار سے محروم ہوئی، انہوں نے پاکستان رہنا پسند نہیں کیا.فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آپ نے سویلین اور عوام سے زیادہ اپنے سوٹ کیسوں سے وفاکی جنہیں آپ ہمیشہ ساتھ لے گئیں.

بدھ، 11 مارچ، 2020

پاکستان سے بھاگنا مشکل نہیں ہے تین گھنٹے میں کابل پہنچ سکتا ہوں. شاہدخاقان عباسی

پاکستان سے بھاگنا مشکل نہیں ہے تین گھنٹے میں کابل پہنچ سکتا ہوں. شاہدخاقان ..
اسلام آباد:  سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان سے بھاگنا مشکل نہیں ہے تین گھنٹے میں کابل پہنچ سکتا ہوں‘قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو نیب قوانین میں خامیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اور سید خورشید شاہ نے مل کر چیئرمین نیب لگایا اور اب دونوں ہی نیب کے شکنجے میں ہیں.
انہوں نے کہا کہ نیب میں سید خورشید شاہ سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ اب دیکھ لیں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے علاوہ میں نے سب کچھ غلط کیا‘نون لیگ کے مرکزی رہنما نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی صرف دو ہی کام ٹھیک کیے لیکن وہ کام کیا ہیں؟ یہ میں نہیں بتا سکتا ہوں.شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کو مکمل طور پر ختم کردینا چاہیے انہوں نے کہا کہ نیب کو سیاستدانوں کے خلاف استعمال کے لیے بنایا گیا تھا انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب کی عدالت میں انصاف نہیں ہے.شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب والے کہتے ہیں کہ آپ کو ہائی کورٹ تک پہنچائیں گے انہوں نے استفسار کیا کہ کیا اس ملک میں چور ہم رہ گئے ہیں؟بریفنگ کے دوران سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس مرتبہ الیکشن کمیشن میں سیاستدانوں نے اثاثوں سے متعلق فارم جمع کرائے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہی فارم بیوروکریٹس اور جج حضرات سے بھی بھروایا جائے.انہوں نے کہا کہ میرے سارے رشتہ داروں کی جائیدادیں چیک کی گئیں میرے رشتہ داروں سے کہا گیا کہ یہ جائیدادیں ان کی نہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی کی ہیں.
انہوں نے کہا کہ میری بہو کے والد کو بھی کہا گیا کہ آپ کے نام پر جائیداد شاہد خاقان عباسی کی بے نامی ہے انہوں نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنا بھی غلط ہے. انہوں نے کہا کہ ضمانت پر ہوں اور اگر ملک سے بھاگتا ہوں تو عدالت کو جوابدہ ہوں انہوں نے کہا کہ نیب عدالت کی سزا پر نااہلی بھی غلط ہے . 

یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ہم حکومت گرانے یا مائنس ون فارمولے کے حمایتی نہیں ہیں‘ان کا کہنا تھا کہ حکومت کےخلاف اگرتحریک چلانی ہے تو اپوزیشن کےساتھ مل کرچلائیں گے.ان کا کہنا تھا کہ حکومت گرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، گورننس سسٹم کوٹھیک کرنے اور ملک کے بڑے مسائل پر بات کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ نیب سے کہتا ہوں کہ ہم سے جو پوچھنا ہے ٹی وی پر براہ راست پوچھیں، اس سے ہمارے جواب اور نیب کی کارکردگی سامنے آ جائے گی.ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب ایک تماشہ ہے یہ آمرکا بنایا ہوا ادارہ ہے، 70 دن میں ان کی حراست میں رہا تاہم کئی ہفتوں تک مجھ سے تفتیش بھی نہیں کی گئی‘شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس وقت حکومت چلانے میں سب سے بڑا مسئلہ نیب ہے، کوئی بھی افسراس ادارے کی وجہ سے فائلوں پردستخط کرنے کیلئے تیارنہیں.

بدھ، 26 فروری، 2020

نواز شریف کی وصیت میں لکھی ممکنہ باتیں

نواز شریف کی وصیت میں لکھی ممکنہ باتیں
لاہور ::  سابق وزیراعظم نواز شریف آپریشن سے قبل وصیت مریم نواز کے حوالے کرنے کے خواہشمند ہیں۔تحریری وصیت میں قبل از وقت اپنی دو حکومتوں کے خاتمے،ناہلی کے بارے میں بھی وجوہات شامل ہیں۔روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف اپنی لکھی ہوئی وصیت مریم نواز کے سپرد کر کے اپنا آپریشن کرونا چاہتے ہیں۔
اپنے آپریشن سے قبل وہ مریم نواز کو لندن بلانا چاہتے ہیں۔نواز شریف نے اپنی لکھی وصیت میں سیاسی اور غیر سیاسی عوام کا ذکر ہے۔ذرائع کے بقول اس وصیت میں پاک فوج کے بعض جرنیلوں کے متعلق بھی تحریر ہے۔ان کی قبل از وقت ختم کی گئی دو حکومتوں اور نا اہلی سے متعلق رائے شامل ہے۔نواز شریف آپریشن سے متعلق وصیت اپنے ہاتھوں سے نواز شریف کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے وہ کسی پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں یہاں تک کہ شہباز شریف پر نہیں۔یہاں تک کہ نواز شریف بذریعہ پوسٹ یا کسی اورطریقے سے بھی وصیت نواز شریف کو بھیجنے کے حق میں نہیں۔خیال رہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف اس وقت علاج کے لئے لندن میں موجود ہیں۔بیماری کی وجہ سے ضمانت لے کر لندن جانے والے وزیراعظم کو پاکستان واپس بلانے کی کوشش بار بار کی گئی ہے لیکن ابھی تک نوازشریف نے واپس آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
اسی حوالے سے تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا ہے کہ جس میں ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے اپنی تحریری وصیت لکھ دی ہے۔خبر دیتے ہوئے تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا تھا کہ یہ وصیت کم ، نوازشریف کی جانب سے دھمکی لگ رہی ہے۔نوازشریف نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو تحریری صورت دے دی ہے جس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ اگر مریم نواز کو لندن نہ بھیجا گیا تو وہ کچھ سینئر صحافیوں سے ملاقات کر کے کچھ ایسے انکشافات کریں گے جس سے پاکستان کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

بدھ، 12 فروری، 2020

نواز شریف اور چوہدری نثار کی ملاقات کی کوشش ناکام

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملنے کے بارے میں قریبی دوستوں کا مشورہ نواز شریف نے مسترد کردیا۔ چوہدری نثار نے بھی واضح کر دیا کہ شریف برادران سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ میں لندن علاج کے لیے آیا ہوں کوئی سیاسی مقاصد کیلئے نہیں۔ اس وقت جو سیاسی تھیٹر لگا ہے اس پر بات کرنا بےمعنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کون آرہا ہے کون جارہا ہے اس پر بات کرنا ضروری نہیں، ملک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا خاتمہ ضروری ہے۔

منگل، 11 فروری، 2020

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جلد انجیوگرافی کی جائے:.. شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت سے متعلق شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو
لندن : سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت سے متعلق شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو، تفصیلات کے مطابق لندن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جلد انجیوگرافی کی جائے، اسکے لیے تیاریاں جاری ہیں، دل کے علاج کے لیے جلد ہی ڈاکٹر سے وقت لیا جائیگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کی رہائی کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے امید ہے کہ انھیں جلد اجازت مل جائیگی۔

واضع رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دل کے آپریشن کے لیے 13 فروری کا وقت کے لیا گیا ہے۔ انکا آپریشن لندن کے ایک نجی ہسپتال میں کیا جائیگا۔
اس سے قبل بھی دو مرتبہ نواز شریف اپنے دل کا آپریشن ملتوی کروا چکے ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے 15 فروری کو وطن واپس آنا تھا لیکن اب انھوں نے اپنا واپسی کا پلان موخر کردیا ہے۔
اب شہباز شریف اپنے بھائی کے آپریشن کے بعد وطن واپس آئینگے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف نے آئندہ چند روز میں وطن واپسی کا حتمی فیصلہ کرلیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ قائد ن لیگ سابق وزیراعظم نوازشریف سے شہبازشریف نے ملاقات کی تھی، جس میں شہبازشریف نے نوازشریف کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا کی تھی۔
دونوں میں دو گھنٹے سے طویل ملاقات میں ملک کی سیاسی ، معاشی اور عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل پر بھی بات چیت کی گئی تھی۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر میاں شہبازشریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف آئندہ دو روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔ اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے دل کے آپریشن کے لیے 13 فروری کا وقت کے لیا ہے اور شہباز شریف انکے آپریشن کے بعد وطن واپس آئینگے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں