They are 100% FREE.

آصف علی زرداری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آصف علی زرداری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 15 دسمبر، 2019

اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہو گا: آصف علی زرداری

اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہو گا: سابق آصف علی زرداری
کراچی : سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہو گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ بہت جلد سب جھوٹے مقدمات ختم ہو جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ملاقات سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سے ہوئی ہے۔ آصف علی زرداری اپنی نشست سے اٹھ کر آغا سراج درانی کو گلے لگایا۔
سابق صدرکا کہنا تھا کہ آغا صاحب آخرکارآپکو سلیکٹڈ کا  گورنر بنانا ہی پڑا ہے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آپکو ضمانت پر رہائی مبارک ہو،آپ نے بہادرانہ انداز سے حالات کا مقابلہ کیا ہے، امید ہے کہ بہت جلد سب جھوٹے مقدمات ختم ہو جائینگے۔ انھوں نے کہا کہ سالوں تک ہم نے پہلے بھی جیلیں کاٹی ہیں۔ اس وقت نہیں جھکے تو اب کیا جھکیں گے، حکومت عوامی حمایت کھو چکی ہے۔
امید ہے کہ آنے والا وزیراعظم بلاول ہو گا، ہو سکتا ہے کہ اگلی بار آپ میرے ساتھ اسلام آباد میں ہوں۔ اس سب پر آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ ہم سب آپ کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ یار درہے کہ اس سے قبل سینئر تجزیہ کار شاہد مسعود نے کہا تھا کہ حکومت کی سابق صدر آصف علی زرادری کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، آصف علی زرداری نے حکومت کو کو ئی پیسہ نہیں دیا، تاہم عدالت سے رہائی لے گئے۔

بدھ، 11 دسمبر، 2019

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری کی ضمانت منظور کر لی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری کی ضمانت منظور کر لی
اسلام آباد  : اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت منظور کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آصف علی زرداری کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جس میں ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے آصف علی زرداری کو ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری کی ضمانت طبی بنیادوں پر منظور کی ہے۔ درخواستوں میں نیب اوروفاقی حکومت کو فریق بنایاگیا ۔درخواست میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ فراڈ کے الزام میں سابق صدر آصف علی زرداری کو 5ماہ سے جیل میں بند کررکھا ہے آصف علی زرداری کیخلاف کچھ بھی ثابت نہ ہوسکا۔ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ آصف علی زرداری بہت سی بیماروں کا شکار ہیں۔
24گھنٹوں میں طبی معائنہ کی ضرورت ہے۔وکیل نے استدعا کی تھی کہ بیماری کی سنگینی کی بنا پر آصف علی زرداری کی ضمانت منظور کی جائے۔ جس پر عدالت نے میڈیکل بورڈ تشکیل بھی دیا تھا۔جبکہ دوسری درخواست میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ فریال تالپور ایک خصوصی بچی کی ماں ہیں اور بچی کی دیکھ بھال کیلئے فریال تالپور کو ضمانت پر رہائی دی جائے۔جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری کی بیماری سے متعلق معائنہ کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا۔
یادرہے اس سے قبل وزیر داخلہ بھی سابق صدر آصف علی زرداری کو رہا کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔ ، بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بھی اسی سلوک کے مستحق ہیں جو نواز شریف کیساتھ کیا گیا۔اعجاز شاہ نے کہا تھا کہ نواز شریف بیماروں کی طرح باہر جاتے تو اتنا شور نہ ہوتا۔ ان کے ہشاش بشاش باہر جانے سے تاثر ملتا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہوئی ہے ۔ مریم نواز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تو مخالفت کروں گا۔ آصف علی زرداری کے ساتھ بھی نواز شریف جیسا سلوک ہونا چاہیے۔یاد رہے گزشتہ روز ترجمان پمز ہسپتال نے کہا تھا کہ سابق صدرآصف علی زرداری کا دماغ چھوٹا ہو گیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ ایم آر آئی سے پتہ چلا ہے کہ آصف زرداری کا دماغ سکڑ گیا ہے۔

جمعرات، 7 نومبر، 2019

آصف علی زرداری کا علاج ذاتی خرچ پر مرضی کے ڈاکٹروں سے کرانے کی درخواست

آصف علی زرداری کا علاج ذاتی خرچ پر مرضی کے ڈاکٹروں سے کرانے کی درخواست
راولپنڈی(اے این این) پاکستان پیپلز پارٹی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کا علاج ذاتی خرچ پر مرضی کے ڈاکٹروں سے کرانے کے لیے اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ سے تحریری درخواست کردی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے راولپنڈی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو تحریری درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری شدید بیمار ہیں، سرکاری میڈیکل بورڈ کے مطابق سابق صدر کو بروقت طبی امداد نہ ملی تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے، میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر آصف علی زرداری کو پمز اسپتال میں رکھا گیا ہے جب کہ آصف علی زرداری اپنے ذاتی خرچ پر اپنی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کرانا چاہتے ہیں، اس سے قبل بھی نیب کے کچھ قیدیوں کو ذاتی خرچ پر مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی اجازت دی گی ہے۔پیپلز پارٹی نے درخواست میں سابق صدر کے علاج کے لیے 5 ڈاکٹروں کے نام بھی بھیجے ہیں، جن میں ڈاکٹر عاصم حسین، ڈاکٹر رشید جمعہ، ڈاکٹر سلما مدھا، ماہر امراض قلب میجر جنرل ظفر اور ڈاکٹر توقیر شامل ہیں۔

پیر، 13 اگست، 2018

عمران خان نے پارلیمنٹ میں آصف زرداری سے ہاتھ ملا لیا


دونوں رہنماؤں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی 15 ویں قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا ہے۔ نومنتخب قومی اسمبلی کے ارکان کی حلف برداری کے بعد نومنتخب جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ آئندہ دو مراحل میں نئے قائد ایوان، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد نومنتخب جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔
حلف برداری کی تقریب میں سابق صدر آصف علی زرداری،، عمران خان،، شہباز شریف،،بلاول بھٹو زرداری،، راجہ پرویز اشرف،،، شیخ رشید احمد، مولانا ڈاکٹر اسد محمود سمیت پاکستان تحریک انصاف،،،مسلم لیگ (ن)،، پاکستان پیپلز پارٹی،، متحدہ مجلس عمل ، ایم کیو ایم پاکستانسمیت دیگر جماعتوں اور آزاد ارکان نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
اس پہلے میڈیا پر یہ خبریں گردش کرتی رہی تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان،، پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف نے انتہائی قریب رہتے ہوئے ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کیا۔
تاہم اب عمران خان کی آصف علی زرداری سے مصافحہ کرتے ہوئے تصویر سامنے آئی ہے۔جس میں عمران خان آصف زرداری سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔آصف علی زرادری کے چہرےپر مسکراہٹ سجی ہوئی ہے۔یاد رہے عمران خان قائدایوان کے لیے مخصوص نشست کے ساتھ والی نشست پر براجمان تھے جبکہبلاول بھٹو زرداری نفیسہ شاہ کے ساتھ والی نشست پر موجود تھے، سابق صدر آصف زرداری سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ بیٹھے تھے جبکہ شہبازشریف، احسن اقبال اور رانا تنویر ساتھ ساتھ بیٹھے رہے ۔
عمران خان اور بلاول بھٹو کی ہاتھ ملانے کی تصاویر تو سامنے آئی تھیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پہلی بار قومی اسمبلی میں آئے اور انہوں نے عمران خان کی نشست پر جاکر ان سے ملاقات کی جب کہ دونوں رہنماؤں نے ایک ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ تاہم آصف زرداری اور عمران خان کی ہاتھ ملانے کی تصویر بھی سامنے آ گئی ہے۔جب کہ عمران خان اور شہباز شریف نے مصافحہ نہیں کیا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں