They are 100% FREE.

سپریم کورٹ آف پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سپریم کورٹ آف پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 15 جون، 2020

آپ مختلف قوانین پڑھا رہے، عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں، جسٹس عمرعطاء بندیال

آپ مختلف قوانین پڑھا رہے، عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں، جسٹس عمرعطاء ..
اسلام آباد : سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ مختلف قوانین پڑھا دہے، عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں، آپ انکم ٹیکس اور جوڈیشل کونسل کے متعین قوانین کے تحت دلائل دیں، آپ کہتے بیرون ملک جائیداد رکھنا مناسب نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کس قانون کے تحت کونسل جج سے اہلیہ کی جائیداد کا پوچھ سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی سماعت جاری ہے، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی کیس سماعت کررہا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں حکومتی وکیل فروغ نیسم نے دلائل دیے کہ ہمارے معاشرے میں جج کی بڑی عزت و تکریم ہے۔ جج کے پاس جوڈیشل اختیاراللہ کی امانت ہے۔

عدلیہ پرعوام کا اعتماد بڑا مقدس ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے جج پرعوام کا اعتماد بڑا مقدس ہے۔

ہم امید کرتے ہیں ہمارے جج کا کوڈ آف کنڈکٹ بہت اعلیٰ ہے۔ جج معاشرے میں بڑا بااختیار ہوتا ہے،اس کی بہت عزت ہوتی ہے۔ عوام کا عدالت عظمیٰ کے جج پر اندھا اعتماد ہوتا ہے۔ عوام کا عدلیہ پر اعتماد مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ عدلیہ کی آزادی بڑی اہم ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیا تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ عدلیہ کی آزادی کا ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کا مقدمہ بھی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کا دورہے جج پر جو مرضی کیچڑ اچھال دیں،آپ کہیں گے جج کی ساکھ خراب ہوگئی۔ جس پر فروغ نیسم نے کہا کہ جھوٹی خبرشیئر ہوتی ہے۔ زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ یہاں پر جج کی اہلیہ اور۔بچوں کی لندن میں مہنگی جائیدادیں ہیں۔ یہ تاثرغلط ہے کہ جج صاحب اہلیہ کی جائیداد پر وضاحت نہیں دے رہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ قانون کے مطابق اہلیہ اور بچوں سے پوچھ لیں جائیداد کیسے خریدی۔ فروغ نسیم نے کہا کہ جج صاحب نے جائیداد کی خریداری کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار نہیں کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کس قانون کے تحت کونسل جج سے اہلیہ کی جائیداد کے بارے میں پوچھ سکتی ہے۔ جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ سب سوالوں کے جواب دوں گا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔

کیا ایک جج کی نجی زندگی میں اہلیہ اور بچے کی زندگی بھی شامل ہے۔ آپ کے سامنے انکم ٹیکس اور جوڈیشل کونسل کے متعین قوانین موجود ہیں۔ آپ ہمیں مختلف قوانین پڑھا رہے ہیں۔ آپ انکم ٹیکس اور جوڈیشل کونسل کے متعین قوانین کے تحت دلائل دیں۔ آپ کہتے ہیں بیرون ملک جائیداد رکھنا مناسب نہیں۔ آج آپ نے بڑی اہم بات کی۔ جج کی اہلیہ کو پبلک آفس ہولڈر خاوند کی وجہ سے مراعات ملی ہیں۔

ہفتہ، 18 جنوری، 2020

سپریم کورٹ کی جانب سے پرویزمشرف کی اپیل کو اعتراض لگا کر واپس کر دیا گیا رجسٹرار آفس کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے اگر اپیل کرنی ہے توانہیں پہلے گرفتاری دینا ہو گی

سپریم کورٹ کی جانب سے پرویزمشرف کی اپیل کو اعتراض لگا کر واپس کر دیا ..
اسلام آباد: سابق صدر پرویز مشر ف نے خصوصی عدالت کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کو رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض لگا کر واپس کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ اگر سابق صدر نے اپیل دینی ہے تو پہلے انہیں گرفتاری دینی ہو گی۔تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کے اپیل کو یہ کہتے ہوئے واپس کر دیا گیا ہے کہ انہیں مکمل طریقے سے آ کر پہلے گرفتاری دینی ہو گی اور بعد میں وہ30 دن کے اندر اپیل دائر کروا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے عدالت سے استثنیٰ لیا ہوا ہے جس کے بعد وہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔ان کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے خصوصی عدالت کی جانب سے پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی جس کے بعد پرویز مشرف کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
لیکن ان سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے پرویز مشرف کی درخواست پر اعتراض لگا کر واپس کر دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اپیل کرنے کے لئے پہلے انہیں گرفتاری دینی ہو گی کیونکہ عدالت کے مطابق وہ آرٹیکل6 کی خلاف ورزی کرنے پر مجرم ہیں، اگر اپیل کرنی ہے تو پہلے پاکستان آ کر گرفتاری دیں اور بعد میں سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائیں۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے پرویز مشرف کے وکلاء کو اپیل واپس کر دی گئی ہے اور سابق صدر کی پیشی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 17 دسمبر 2019 کو سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مرتکب قرار دیا تھا جس کے بعد انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن پرویز مشرف کی جانب سے نہ تو عدالت میں پیش ہوا گیا تھا اور نہ ہی وطن واپس لوٹا گیا تھا ۔پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف درخواست جمع کروائی گئی تھی جسے اعتراض لگا کر واپس کر دیا گیا ہے۔

منگل، 26 نومبر، 2019

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کو نوٹس جاری کردیئے

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کو نوٹس جاری کردیئے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف کو باضابطہ فریق بنا لیا ہے، جس کا نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔
سماعت کے آغاز پر درخواست گزار جیورسٹ فاﺅنڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی‘جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک درخواست موصول ہوئی ہوئے، درخواست گزار اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ موجود ہے، اس درخواست کے ساتھ کوئی بیان حلفی بھی موجود نہیں. چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ درخواست آزادانہ طور پر دی گئی ہے یا بغیر دباﺅ کے، اس لیے ہم درخواست واپس لینے کی درخواست نہیں سنیں گے‘عدالت عظمیٰ نے درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 184 (سی) کے تحت عوامی مفاد میں اس درخواست پر سماعت کی اور اسے ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا.
درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں اٹارنی جنرل انور منصور خان پیش ہوئے‘سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ صرف صدر مملک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرسکتے ہیں وزیراعظم کو اس توسیع کا اختیار نہیں جس پر عدالت میں موجود اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی اور سمری کو کابینہ کی جانب سے منظور کیا گیا.
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی اس طرح کی درخواست دائر ہوئی تھی جو واپس لے لی گئی تھی‘عدالت میں اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے صدر نے 19 اگست کو آرمی چیف کی توسیع کی منظوری دی تو 21 اگست کو وزیراعظم نے کیسے منظوری دے دی سمجھ نہیں آرہا کہ صدر کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے دوبارہ کیوں منظوری دی. اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے دستخط کیے جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کابینہ اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی، اس پر انہیں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر مملکت نے کوئی منظوری نہیں دی.
اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ حتمی منظوری تو صدر مملکت نے دینا ہوتی ہے‘بعد ازاں عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کر رہے ہیں ساتھ ہی عدالت نے آرمی چیف سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے. سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ اس درخواست میں عدالت آرمی چیف کو فریق بنا رہی ہے. سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا اختیارکہاں ہے؟ جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی توسیع کا اختیاروفاقی کابینہ کا ہے جسٹس منصورعلی شاہ نے پوچھا کہ کیا آرمی چیف کی توسیع کیلئے رولزمیں کوئی شق موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت ملازمت میں توسیع کیلئے کوئی مخصوص شق موجود نہیں .
چیف جسٹس نے کہا کہ سمری میں توسیع لکھا گیا جبکہ نوٹیفکیشن میں آرمی چیف کا دوبارہ تقرر کردیا گیا، قواعد میں آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کا اختیار نہیں، حکومت صرف ریٹائرمنٹ کو معطل کر سکتی ہے، آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ ابھی ہوئی نہیں . چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی چیف نے 3 ریٹائرڈ افسران کوسزادی، ان کی ریٹائرمنٹ معطل کرکے ان کا ٹرائل کیا گیا اورسزادی گئی‘جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ علاقائی سیکورٹی کی بنیاد پر آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کی گئی، سیکورٹی کا ایشوتو ہر وقت رہتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ سیکورٹی کو تو صرف آرمی چیف نے نہیں بلکہ ساری فوج نے دیکھنا ہوتا ہے اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا کہ تقرری کرنے والی اتھارٹی توسیع کا اختیار بھی رکھتی ہے ریٹائرمنٹ کی معطلی تو کچھ دیر کیلئے ہوگی .
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریت نے توسیع پر کوئی رائے نہیں دی، 25 رکنی کابینہ میں سے صرف 11 نے توسیع کے حق میں رائے دی، 14 ارکان نے عدم دستیابی کے باعث کوئی رائے نہیں دی، کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا؟ جمہوریت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں . اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنہوں نے رائے نہیں دی انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیاچیف جسٹس نے کہا کہ کیا کابینہ ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے، کابینہ کے 14 ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پرہاں نہیں کی .
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کی کوئی وجوہات زیر بحث نہیں آئی، کیا کابینہ نے توسیع کی منظوری دیتے ہوئے اپنا ذہن استعمال کیا‘چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کی ٹرم فکس کیسے کر سکتے ہیں، یہ اندازہ کیسے لگایا گیا کہ 3 سال تک ہنگامی حالات رہیں گے، ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے، آرمی چیف کی مدت میں 3 سال کی توسیع کسی رول کے تحت ہوئی، وہ رول آپ نہیں دکھا رہے .
سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے اس کیس کوعوامی اہمیت کا معاملہ قراردیتے ہوئے درخواست کو ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا اٹارنی جنرل نے نوٹیفکیشن معطل نہ کرنے کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں ابھی وقت ہے‘عدالت نے آرمی چیف کو فریق بناتے ہوئے ان سمیت وزارت دفاع اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی .خیال رہے 25 نومبر کو جیورسٹ فاﺅنڈیشن نے آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی.
یاد رہے کہ رواں سال 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی تھی‘وزیراعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا. نوٹیفکیشن میں کہا گیا آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا‘آرمی چیف کو مزید 3 برس کے لیے پاک فوج کا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے کا مختلف سیاستدانوں اور صحافی برادری نے خیر مقدم کیا تھا‘تاہم چند حلقوں کی طرف سے حکومت کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی جارہی تھی.

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں