They are 100% FREE.

مریم نواز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مریم نواز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 12 مارچ، 2020

جتنے مرضی تجربات کروالیں آخر نواز شریف نے ہی آنا ہے.. مریم نواز

جتنے مرضی تجربات کروالیں آخر نواز شریف نے ہی آنا ہے.. مریم نواز
سلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میں خاموش تھی جس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں اگر آج میں بولوں گی تو کیا میڈیا دکھائے گا؟ مریم نواز نے اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد لندن میں زیر علاج ہیں، اگر دل، چہرے اور الفاظ کا ساتھ نہ دے رہا ہو تو یہ بلکل غلط بات ہے.

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈرا دھمکا کر روک سکتا ہے تو وہ یہ جان لے کہ سولین بالادستی اور آئین کے ساتھ جو تعلق ہے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے مریم نواز نے کہا کہ میرے والد علاج کے لیے لندن میں زیر علاج ہیں میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے ان کو تکلیف ہو.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب میری قیادت سمجھے گی اور ہدایت کرے گی میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کروں تو مجھے پیچھے نہیں پائیں گے انہوں نے کہا کہ مجھے میڈیا پر دکھانے پر پابندی ہے، خوف کا یہ عالم ہے، مجھے سے زیادہ میڈیا پابندیوں کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے.انہوں نے کہا مجھے میڈیا سے ہمدردی ہے، میڈیا جو دیکھنا چاہتا ہے وہ نہیں دیکھا سکتا، ماضی میں میڈیا پر اتنا برا وقت نہیں آیا لندن میں زیر علاج مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے متعلق انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کے دل کی ایک شریان 90 فیصد بند ہے.مریم نواز نے ان خبروں کی تردید کی کہ جس میں نواز شریف سے متعلق کہا گیا تھا کہ نوازشریف نے مریم نواز کی لندن میں موجودگی کے بغیر علاج کرانے سے انکار کردیا مسلم لیگ (ن) نائب صدر نے واضح کیا کہ نواز شریف نے صرف یہ کہا تھا کہ مریم نواز کی تاریخیں قریب ہیں، اس لیے تھوڑا انتظار کرلیتا ہوں.مریم نواز نے کہا کہ یقیناً میاں صاحب کا دل کرتا ہوگا کہ گھر کے تمام افراد ان کے ساتھ ہوں کیونکہ میری والدہ کی رحلت کو زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ بہن اور بطور مسلم لیگ (ن) کی ورکر کی حیثیت شاہد خاقان عباسی کو خراج تحسین پیش کرنے آئی ہوں کہ انہوں نے بغیر کسی الزام اتنی لمبی جیل کاٹی اور پارٹی نظریے پر قائم رہے.
مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈرا دھمکا کر روک سکتا ہے، تو وہ جان لے کہ سویلین بالادستی کے لئے میراعزم اور مضبوط ہوا ہے، میں پارٹی کے ڈسپلن پر چل رہی ہوں، جب پارٹی نے کہا کہ مجھےآگے آکرکردار ادا کرنا چاہیے تو آپ پیچھے نہیں دیکھیں گے، ملک میں جتنے مرضی تجربات کروالیں آخر نواز شریف نے ہی آنا ہے. اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود مریم نواز کا ایک بڑا مقام پاکستان کی سیاست میں ہوگا.انہوں نے کہا کہ ہم سب ملک کر مریم نواز کے شانہ بشانہ کام کریں گے، اصولوں پر قائم رہیں گے اور ملک میں آئین کی حکمرانی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مریم نواز کی خاموشی سے متعلق بہت سے سوالات نے جنم لیا، انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کے دل میں جگہ پیدا کی، سیاست میں ایک مقام پیدا کیا انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان اور جماعت کو ضرورت ہوگی، مریم نواز کو اپنے ہمراہ پائیں گے.

دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمانت ملنے کے باوجود ایسی کیا زنجیر ہے جس نے آپ کو جکڑا ہوا ہے؟ مریم نواز کی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز صاحبہ آپ کونسی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں؟ زنجیریں توڑ کر اپنی آزادی کا اعلان کیوں نہیں کرتیں؟ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں.فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ ایک بار پھر میڈیا میں آپ کی رونمائی صرف ذاتی درد کیلئے ہے وزیر اعظم عمران خان قوم کو آپ کے دیے ہوئے دکھوں اور دردوں کا مداوا بڑے احسن انداز سے کر رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو اب آپ مزید گمراہ نہیں کر سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام جانتے ہیں کہ جب بھی لیگی قیادت اقتدار سے محروم ہوئی، انہوں نے پاکستان رہنا پسند نہیں کیا.فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آپ نے سویلین اور عوام سے زیادہ اپنے سوٹ کیسوں سے وفاکی جنہیں آپ ہمیشہ ساتھ لے گئیں.

جیل جانے سے نہیں ڈرتی، سیاست کیلئے پارٹی ہدایات کی پابند ہوں، مریم نواز

جیل جانے سے نہیں ڈرتی، سیاست کیلئے پارٹی ہدایات کی پابند ہوں، مریم ..
اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جیل جانے سے نہیں ڈرتی ، بولنے کیلئے پارٹی ہدایات کی پابند ہوں، اگراب بھی باہر جانے کی اجازت نہ ملی تو میاں صاحب آپریشن کروا لیں گے، اگر میں بولوں تو کیا میڈیا مجھے دکھائے گا؟ خوف کا یہ عالم ہے کہ میڈیا پر خود پابندی ہے، شاہد خاقان عباسی نے بہادری کے ساتھ بغیرقصورجیل کاٹی۔
انہوں نے اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور ضمانت ملنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی میرے بڑے بھائی اور مسلم لیگ ن کے بڑے سینئر رہنماء ہیں، میں ان کو ضمانت کی مبارکباد اور ان کی جرات پر خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے وفاداری، بہادری کے ساتھ بغیر کسی قصور جیل کاٹی، لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ شاہد خاقان عباسی مخلص ورکر ہیں،ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
پاکستان مسلم لیگ، اور ورکرز کے دل میں شاہد خاقان عباسی نے بہادری اور شجاعت سے جومقام بنایا ہے، وہ لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خاموشی کی ذاتی وجوہات ہیں۔ اگر میں بولوں تو کیا میڈیا مجھے دکھائے گا؟ مجھے میڈیا پر دکھانے پر پابندی ہے۔ خوف کا یہ عالم ہے، لیکن میڈیا پر خود پابندی ہے، مجھے میڈیا سے ہمدردی ہے، میڈیا پر پہلے کبھی اتنا برا وقت نہیں آیا۔
مریم نوازکی جو تاریخ آرہی ہے تو تب تک آپریشن نہیں کرواؤں گا، جب تاریخ گزر جائے گی اور فیصلہ حق میں نہ آیا تو نوازشریف اپنا آپریشن کروا لیں گے۔ میاں صاحب نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں مریم نواز کے بغیر آپریشن نہیں کرواؤں گی۔ انہوں نے کہا کہ والد تو اب کا ایک ہی ہوتا ہے، جتنے وہ میرے دوسرے بہن بھائیوں کے والد ہیں، اتنے ہی میرے والد ہیں، جتنا ان کو دکھ ہے اتنا مجھے بھی دکھ ہے۔
عدالت کے پاس میرے معاملات کا اختیار ہیں، عدالت جانتی ہے کہ مجھ پر جو مقدمات بنے سب پتا ہے، اگر مجھے عدالت نے جانے کی اجازت دی تو ٹھیک ورنہ میاں صاحب اپنا آپریشن کروا لیں گے۔ نوازشریف کی دل کی شریان 90 فیصد 
بند ہے۔ نوازشریف کی خواہش ہے کہ میری بیٹی میرے ساتھ ہوں، ان کی خواہش جائز بھی ہے اس کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط میں یہ بھی بتادیتی کہ ہم نے ہی کہا تھا کہ نوازشریف بیمار ہیں،یہ بھی لکھنا چاہیے کہ ہم نے نوازشریف کی بیماری سے متعلق پہلے جھوٹ بولا یا پھر اب جھوٹ بول رہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مجھے دو بار جیل میں ڈال کر ڈرا سکتا ہے، تو وہ جان لے کہ میرا جمہوریت، آئین وقانون کی بالادستی کیلئے پہلے سے بھی عزم مضبوط ہوا ہے۔ حکومت اقتدار میں رہ کرجتنی ایکسپوز ہوئی شاید باہر رہ کر ایسا نہ ہوتا۔ لیکن یہ بھی ٹھیک ہے حکومت جتنی دیر اقتدار میں رہے گی ملک کیلئے اتنی ہی نقصان دہ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے میاں نوازشریف کے ساتھ عوام کی بہت زیادہ فکر ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے ان کو تکلیف ہو، اور ان کو باہر سے پاکستان واپس آنا پڑے ، دوسرا میں اپنی جماعت کی ہدایت پر چلتی ہوں، میری جماعت جب بھی کہے گی تو میں سامنے آکراپنا کردار ادا کروں گی۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مریم نواز جمہوریت میں جدوجہد کرنے میں ایک بڑا مقام رکھتی ہیں، مریم نواز کا انشاء اللہ آئندہ مستقبل میں بھی ایک بڑا مقام رہے گا۔
ہم مل کر جمہوریت اور ملک کیلئے کام کرتے رہیں گے، مسلم لیگ ن آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے سوال ہوتے رہے کہ مریم نواز کہاں ہیں؟ بولتی کیوں نہیں؟ مریم نواز نے سیاست اور ورکرز میں ایک مقام پایا ہے۔ جب بھی ملک وقوم کو ان کی ضرورت ہوگی عوام ان کو اپنے ساتھ پائیں گے۔

بدھ، 26 فروری، 2020

نواز شریف کی وصیت میں لکھی ممکنہ باتیں

نواز شریف کی وصیت میں لکھی ممکنہ باتیں
لاہور ::  سابق وزیراعظم نواز شریف آپریشن سے قبل وصیت مریم نواز کے حوالے کرنے کے خواہشمند ہیں۔تحریری وصیت میں قبل از وقت اپنی دو حکومتوں کے خاتمے،ناہلی کے بارے میں بھی وجوہات شامل ہیں۔روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف اپنی لکھی ہوئی وصیت مریم نواز کے سپرد کر کے اپنا آپریشن کرونا چاہتے ہیں۔
اپنے آپریشن سے قبل وہ مریم نواز کو لندن بلانا چاہتے ہیں۔نواز شریف نے اپنی لکھی وصیت میں سیاسی اور غیر سیاسی عوام کا ذکر ہے۔ذرائع کے بقول اس وصیت میں پاک فوج کے بعض جرنیلوں کے متعلق بھی تحریر ہے۔ان کی قبل از وقت ختم کی گئی دو حکومتوں اور نا اہلی سے متعلق رائے شامل ہے۔نواز شریف آپریشن سے متعلق وصیت اپنے ہاتھوں سے نواز شریف کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے وہ کسی پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں یہاں تک کہ شہباز شریف پر نہیں۔یہاں تک کہ نواز شریف بذریعہ پوسٹ یا کسی اورطریقے سے بھی وصیت نواز شریف کو بھیجنے کے حق میں نہیں۔خیال رہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف اس وقت علاج کے لئے لندن میں موجود ہیں۔بیماری کی وجہ سے ضمانت لے کر لندن جانے والے وزیراعظم کو پاکستان واپس بلانے کی کوشش بار بار کی گئی ہے لیکن ابھی تک نوازشریف نے واپس آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
اسی حوالے سے تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا ہے کہ جس میں ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے اپنی تحریری وصیت لکھ دی ہے۔خبر دیتے ہوئے تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا تھا کہ یہ وصیت کم ، نوازشریف کی جانب سے دھمکی لگ رہی ہے۔نوازشریف نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو تحریری صورت دے دی ہے جس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ اگر مریم نواز کو لندن نہ بھیجا گیا تو وہ کچھ سینئر صحافیوں سے ملاقات کر کے کچھ ایسے انکشافات کریں گے جس سے پاکستان کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

منگل، 11 فروری، 2020

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جلد انجیوگرافی کی جائے:.. شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت سے متعلق شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو
لندن : سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت سے متعلق شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو، تفصیلات کے مطابق لندن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جلد انجیوگرافی کی جائے، اسکے لیے تیاریاں جاری ہیں، دل کے علاج کے لیے جلد ہی ڈاکٹر سے وقت لیا جائیگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کی رہائی کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے امید ہے کہ انھیں جلد اجازت مل جائیگی۔

واضع رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دل کے آپریشن کے لیے 13 فروری کا وقت کے لیا گیا ہے۔ انکا آپریشن لندن کے ایک نجی ہسپتال میں کیا جائیگا۔
اس سے قبل بھی دو مرتبہ نواز شریف اپنے دل کا آپریشن ملتوی کروا چکے ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے 15 فروری کو وطن واپس آنا تھا لیکن اب انھوں نے اپنا واپسی کا پلان موخر کردیا ہے۔
اب شہباز شریف اپنے بھائی کے آپریشن کے بعد وطن واپس آئینگے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف نے آئندہ چند روز میں وطن واپسی کا حتمی فیصلہ کرلیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ قائد ن لیگ سابق وزیراعظم نوازشریف سے شہبازشریف نے ملاقات کی تھی، جس میں شہبازشریف نے نوازشریف کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا کی تھی۔
دونوں میں دو گھنٹے سے طویل ملاقات میں ملک کی سیاسی ، معاشی اور عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل پر بھی بات چیت کی گئی تھی۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر میاں شہبازشریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف آئندہ دو روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔ اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے دل کے آپریشن کے لیے 13 فروری کا وقت کے لیا ہے اور شہباز شریف انکے آپریشن کے بعد وطن واپس آئینگے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں