They are 100% FREE.

جمیعت علماء اسلام (ف) لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمیعت علماء اسلام (ف) لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 28 نومبر، 2019

مولانا فضل الرحمان : فوری نئے انتخابات کرائے جائیں، پھرنئی پارلیمنٹ آکر قانون سازی کرے گی، ان کو سمری تو بنانی نہیں آتی، ان کو کیا معلوم قانون کیا کہتا ہے؟ سکھر میں کانفرنس سے خطاب

یہ جعلی پارلیمنٹ اس طرح کی قانون سازی کرنےکی اہل نہیں، مولانا فضل الرحمان
سکھر: جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ جعلی پارلیمنٹ اس طرح کی قانون سازی کرنے کی اہل نہیں، فوری نئے انتخابات کرائے جائیں، پھر نئی پارلیمنٹ آکر قانون سازی کرے گی، ان کو سمری تو بنانی نہیں آتی، ان کو کیا معلوم قانون کیا کہتا ہے؟ انہوں نے سکھر میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن متفق ہے کہ ناجائز حکومت نہ آج قبول ہے نہ کل ہوگی ۔
موجودہ صورت حال میں اپوزیشن پوری طرح یکسو ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی احتساب نہیں ہورہا ہے یہ انتقام ہے۔ نیب کو سیاستدانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔ فارن فنڈنگ میں باہر سے اربوں روپے لیا گیا۔ کیس کا مدعی بھی تحریک انصاف سے تعلق رکھتا ہے۔ اربوں روپے کا حساب نہ دینے والے بات کرتے ہیں ریاست مدینہ کی ۔
جنہوں نے تبدیلی کے نام پر ان کو پیسے دیے آج وہ کف افسوس مل رہے ہیں۔
ان حکمرانوں سے ایسا لگتا ہے خود تو ڈوبیں گے ملک کو بھی لے ڈوبیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ جعلی پارلیمنٹ اس طرح کی قانون سازی کرنے کی اہل نہیں۔ ان کو سمری تک بنانی نہیں آتی، ان کو بالکل معلوم نہیں قانون کیا کہتا ہے۔ نئے انتخابات کرائے جائیں، اصل پارلیمنٹ آکر قانون سازی کرے گی۔ دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں عدلیہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کرعدالت کی معاونت کی۔
عدالتی احکامات کی روشنی میں قانون سازی کریں گے۔ آئین میں تبدیلی کیلئے 2 تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں اس کا جائزہ لیں گے۔ چیف الیکشن کمشنراورممبران کے تقرر سمیت آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے اپوزیشن سے بات کریں گے۔

جمعرات، 7 نومبر، 2019

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد:  جمیعت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں،ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فوج غیرجانبدارادارہ ہے، جس کا خیرمقدم کرتا ہوں، قومی اداروں کو ہم سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہتے، حکومت اس اجتماع کو حقارت سے نہ دیکھے بلکہ سنجیدہ لے، استعفے سے کم پر بات نہیں بنے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال نومبر میں ہم نے تین ملین مارچ کیے، کہتے ہیں ناموس رسالت ﷺ کا کون سا مسئلہ ہے؟ کیا توہین رسالت کی مرتکب خاتون کو عجلت کے ساتھ ایک ہی پیشی میں بری نہیں کیا گیا؟ اس کے بدلے میں بیرون ملک شہریت اور مراعات حاصل نہیں کیے گئے؟ جعلی وزیراعظم نے اس کو ملک سے باہر جانے کے انتظامات کروائے، اگر ایک شخص باعزت بری ہے، تو پھر اپنی ریاست اس کو تحفظ کیوں فراہم نہیں کرسکتی؟ اس کو کیوں دوسرے ملک میں بھیجا گیا؟ ملک کا حکمران کیوں دوسرے ملک بھیج رہا ہے؟ ہم ساری زندگی دیکھا اس ملک میں قوم کو خوف کے مفروضے میں مبتلا کرکے بلیک میل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قادیانی فرقے کے سربراہ کے پاس پی ٹی آئی کا وفد نہیں گیا؟ ان سے مدد طلب نہیں کی تھی؟ چند ہفتے پہلے قادیانیوں کے سربراہ نے نہیں کہا تھا کہ ہمارے خلاف آئین میں شق ختم ہونے والی ہے۔اب جب اجتماع کے سرفروش میدان میں آگئے ہیں تو کہتے ہم تو ایسا کچھ نہیں کررہے۔قوم سے جھوٹ نہ بولیں۔ انہوں نے کہا کہ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فوج غیرجانبدارادارہ ہے، ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
وہ دن بھی آپ کو یاد ہوگا جب ہمارے جوانوں نے ہندوستان کا طیارہ گرایا ، اور ان کے پائلٹ کو پکڑا،ہمارے کارکنوں نے پورے ملک میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا تھا،انہیں شاباش پیش کی تھی، یہ آج بھی وہی لوگ ہیں۔ لیکن گلہ شکوہ اپنوں سے ہوتا ہے، اپنائیت کی علامت ہوتی ہے، دشمنی کی بات نہیں ہوتی۔ آپ نے کہہ دیا ہم غیرجانبدارہم اس بات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
جھگڑا ہی ختم ہوجاتا ہے۔لیکن ہمیں ہماری امانت واپس دو، ووٹ قوم کی امانت ہے۔ کبھی کہتے کہ قومی کمیشن بنایا جائے دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں گی، انتخابی چوری پر پوری قوم آگاہ ہے، جب چوری پوری قوم کے ووٹ کی ہوئی ہوتوپھر تحقیقات نہیں استعفا دینا ہوتا ہے۔ ایویں آنیاں جانیاں بے معنی ہیں استعفا لے کرآئیں، استعفے سے کم پر بات نہیں بنے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا کو چور کہا جارہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس 5 سال سے زیرالتوا ہے، پی ٹی آئی کے لوگوں نے خود کہا کہ ہمیں بیرون ملک سے فنڈنگ آتی ہے۔ تحریک انصاف اس کیس کو مئوخر کروانا چاہتی ہے۔ ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو ان کو بلائے اور پوچھے کے تم نے پولیس کی اتنی بھاری نفری تعینات کی، بے معنی پریکٹس پر کیوں کرڑوں روپے خرچ کیے گئے؟انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو کوئی این آر او نہیں ملے گا، آپ کو این آر او کہنے کا کوئی حق نہیں، این آر او دینے کا حق ہمارا ہے۔

بدھ، 6 نومبر، 2019

آزادی مارچ مستقبل کے انقلاب کی نوید دے رہا ہے.ملک صرف اسٹیبلمشمنٹ، بیوروکریسی اورجاگیرداروں کا نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان

آزادی مارچ مستقبل کے انقلاب کی نوید دے رہا ہے، مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد : جمیعت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ مستقبل کے انقلاب کی نوید دے رہا ہے، آزادی مارچ اس لیے نہیں کہ کچھ مخصوص قوتیں پاکستان کے مستقبل سے کھیلتی رہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا پڑے گا، یہ ملک صرف اسٹیبلمشمنٹ، بیوروکریسی اورجاگیرداروں کا نہیں ہے،سی پیک میں چین کے اعتماد کوٹھیس پہنچائی گئی،فیکٹریاں یونٹس بند ہورہے ہیں، مہنگائی بڑھ گئی، بجلی پٹرول پھرمہنگاکردیا۔
انہوں نے آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بطور جماعت اور اپوزیشن کی پالیسی نہیں بنتی تو ڈی چوک جانے والی باتیں ترک ہونی چاہیے۔ ایسا بندہ جو ہمارے ساتھیوں کو اشتعال دلاتا ہے اور پھر جذبات میں ہمارے ساتھی بھی وہاں جانے کاکہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی روز سے آزادی مارچ اسلام آباد کی سرزمین پر براجماں ہے، اپنے مطالبے کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہے، ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ تو ہمیشہ لوگ اسلام آباد آئیں گے اورکہیں گے حکومت چلی جائے، روایت بن جائے گی،میں پوچھنا چاہتاہوں 2014ء میں ڈی چوک پر 126روز کے دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں تھا؟ لیکن اب آزادی مارچ پر کیوں اعتراض کیا جارہا ہے؟ یہ اپوزیشن میں تھا تو تمام جماعتیں ایک طرف تھیں، اب حکومت میں ہے تو پھی حزب اختلاف ایک طرف ہے۔
تم مذہب کے حوالے سے جو تصویر دنیا کے سامنے رکھی تھی، 126کے دھرنے کی جو تصویر دنیا کیلئے بڑی دلکش تھی، آج بھی ڈی چوک پر اس کی بدبو محسوس کیا جارہی ہے۔ جن چہروں کو تم نے خوفناک اور غلط انداز میں پیش کیا اس آزادی مارچ کی تصویر بھی پاکستانی دہائیوں پر پھیلی نظر آئے گی، اجتماع کو پوری قوم دیکھ رہی ہے، خراج تحسین پیش کررہی ہے، تاریخ میں سیاسی جمود کو توڑ دیا ہے، مایوسیوں کو اعتماد میں تبدیل کردیا ہے، احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ مزید نہیں چل سکے گا۔
داخلی طور پر غیرمستحکم اور خارجی محاذ پر تنہا ہیں، ہندوستان ہمارا دشمن ، ایران ہندوستان کو اہمیت دے رہا ہے، چین جس کی دوستی کو دنیا میں مثال تھی، چین پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بلند ہے، سمندر سے گہری ہے، شہد سے میٹھی ہے، 70سالہ دوستی جب اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوئی ، سی پیک کی مد میں پہلے مرحلے میں 70ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی لیکن موجودہ حکومت نے اس کو غارت کردیا۔
چین کے اعتماد کوٹھیس پہنچی ہے، آج ہم سی پیک معاہدے پر پھر وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے۔ فیکٹریاں بند ، یونٹس بند ہورہے ہیں، مزدور بے روزگار ہورہے ہیں، پیداواری ادارے بند ہوجائیں گے، مارکیٹ میں چیزوں کی قلت اور مہنگائی بڑھ جائے گی۔آج بجلی دوبارہ 2 روپے مہنگی کردی گئی،پٹرول مہنگاکردیا، ایک سال میں ایک ایک دن ہمارا مشکل گزرا ہے۔یومیہ بنیاد پر ہمارے قرضے بڑھ گئے ہیں۔
جتنا وقت ان کو ملے گا ہم نیچے جاتے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ پاکستانی تاریخ میں تین بجٹ پیش کیے گئے لیکن محصولات اور ٹیکسز کا ہدف حاصل نہیں کرسکے۔پنجاب ایسا صوبہ ہے جہاں سے پورے ملک کی زراعت کا دارومدار پنجاب کی سرزمین پر ہے ، لیکن حکومت کی غلط پالسییوں کی وجہ سے ہندوستان نے ہمارے ڈیموں پر قبضہ کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا وہ خطہ ہے جہاں سے وہ دریاپاکستان کی طرف آتے ہیں جن پر پاکستان کا حق ہے، جنرل مشرف نے دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کو امریکا کا اتحادی بنا کر مسئلہ کشمیر کو پس منظر کی طرف دھکیل دیا اور کہا کہ ہندوستان نہیں بلکہ پاکستان کے اندر ہمارا دشمن ہے۔
جب تک کشمیر کی کمیٹی ہمارے ہاتھ میں تھی کشمیر کو کوئی نہیں چھیڑ سکتا تھا، کشمیر کو بیچ دیا ہے اور کمبخت آنسو بھی بہا رہے ہیں، ہندوستان نے جو کچھ کیا ہے یہی تمہارا ایجنڈا تھا۔جس کے تحت ہندوستان نے کشمیر میں خصوصی حیثیت کو تبدیل کردیا۔آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔کیا کوئی انکارکرسکتا ہے کہ اسرائیل کا طیارہ پاکستان کی حدود میں اترا، کیا خفیہ طور پر نہیں اترا؟ کب تک چھپاتے رہو گے؟انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے سب سے زیادہ اسرائیل پریشان ہے، آزادی مارچ نے اسرائیل کی 40سالہ سرمایہ کاری پر پانی بہاد یا ہے۔
آزادی مارچ مستقبل کے انقلاب کی نوید دے رہا ہے، یہ محنت اس لیے نہیں کی کہ کچھ مخصوص قوتیں پاکستان کے مستقبل سے کھیلتی رہیں گی، آنے والا مستقبل پاکستانی عوام کا ہے۔پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا پڑے گا، ملک میں جمہویت اور آئین ہے تو عوام کی بات تسلیم کی جائے گی۔یہ ملک صرف اسٹیبلمشمنٹ اور بیوروکریسی یا جاگیرداروں کا نہیں ہے۔پارلیمانی کمیٹی بنا دیں گے،وہ دھاندلی کی تحقیقات کرے گی۔اس ایک سال میں الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 95فیصد پولنگ اسٹیشنز پر ہمارے ایجنٹ کو فارم نہیں ملے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں