They are 100% FREE.

شہباز شریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شہباز شریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 12 جون، 2020

شہباز شریف نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

شہباز شریف نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

ایک بیان میں شہبازشریف نے کہا ہے کہ یہ غریب کش بجٹ ہے، اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا، حکومت نے اپنی نالائقی پہلے مسلم لیگ (ن) اور اب کورونا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی ہے، جبکہ مہنگائی، بیروزگاری، کاروباری بدحالی نے تاریخی ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بجٹ سے ملک کی رہی سہی معاشی سانسیں بھی رک جائیں گی، یہ بجٹ نہیں تباہی کا نسخہ ہے۔

صدر نون لیگ نے کہا کہ میرے خدشات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئے، افسوس حکومتی نااہلی کی سزا قوم اور ملک کو مل رہی ہے، مسلم لیگ (ن) نے زیادہ ترقی اور کم مہنگائی کا فارمولااپنایا، موجودہ حکومت نے الٹ کردیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیارنہیں ہے، ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کا تاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے، 68 سال میں پہلی بار ملکی جی ڈی پی منفی میں ہو چکی ہے، کیا یہ ہے موجودہ حکومت کی کارکردگی؟

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 5.8 فیصد جی ڈی پی شرح والی معیشت دی، موجودہ حکومت نے پہلے سال میں 1.9 پر پہنچادیا، رواں سال 10 فیصد مالی خسارہ ملکی معیشت اور بجٹ کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ میں یہ کل خسارہ کبھی دو ہندسوں میں نہیں رہا، پہلی بار موجودہ حکومت نے یہ کام کر دکھایا، بجٹ اور اس کے اہداف غیر حقیقی ہیں، مسائل اور عوامی مشکلات مزید بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ غیرحقیقی بجٹ اہداف سے حکومت ساکھ کھوچکی ہے، پہلے اہداف پورے نہیں ہوئے، نئے کے حصول میں میلوں کا فرق ہے، پہلی حکومت ہے جو ٹیکس ریونیو، حکومتی اخراجات، مالیاتی خسارہ اور جی ڈی پی کے اپنے مقرر کردہ اہداف بھی حاصل نہیں کرپائی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ کورونا کے پیچھے چھپنے سے کام نہیں چلے گا، وبا سے پہلے معاشی بربادی حکومتی ناکامیوں اور بے سمت پالیسیوں کا کافی ثبوت ہے، سی پیک روک دیا گیا، بلوچستان کو نظرانداز کیا گیا، ترقیاتی بجٹ میں کمی نیک فال نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہے، اگر یہ بجٹ ہے تو قوم منی بجٹس کے لئے تیار رہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہ تخلیقی سوچ، برآمدات میں اضافہ، زراعت و صنعت کی ترقی اور عوام دوست بجٹ اقدامات کہاں ہیں؟، جبکہ یہ بجٹ صرف پی ٹی آئی کے فنانسرز اور مفاد پرستوں کو نوازنے کے لئے بنایا گیا ہے۔

صدر ن لیگ نے کہا کہ گزشتہ سال کےمعاشی جھوٹ، غلط اندازوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ اعداد و شمار اور اہداف پر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے؟

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت کورونا کو الزام دیتی ہے لیکن فروری سے پہلے ان کی معاشی کارکردگی اپنے اہداف سے 25 فیصد سے زائد کم تھی، تاریخ اور دنیا میں پہلی حکومت ہے جس نے اپنے گزشتہ سال سے بھی کم ٹیکس ریونیو جمع کیا، موجودہ حکومت کی 5555 ارب کی جگہ 3800 ارب ٹیکس وصولی مسلم لیگ (ن) کی دو سال قبل حکومت کی ٹیکس وصولیوں سے کہیں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ 6.9 فیصد کمی کیوں ہوئی؟، کپاس اور گنے پر کورونا کا اثر نہیں ہوا پھر ان کی پیداوار کیوں کم ہوئی؟ معیشت چل نہیں رہی پھر حکومت 4963 ارب ریونیو کا ہدف کیسے پورا کرے گی؟

شہباز شریف نے کہا کہ صاف مطلب ہے کہ آئندہ آئی ایم ایف اجلاس سے قبل حکومت منی بجٹ پیش کرے گی، دو سال میں موجودہ حکومت نے قومی قرض میں 30 فیصد اضافہ کردیا، موجودہ حکومت رواں سال میں2200 ارب روپےکا غیر ملکی کرنسی میں غیرملکی ذرائع سے پہلے ہی قرض لے چکی ہے، جبکہ حکومت مزید اتنا ہی قرض اور لینے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اس قرض سے پاکستان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر ملکی بینکوں میں گروی رکھا جا رہا ہے، موجودہ حکومت نے انتہائی زیادہ شرح سود پر مقامی بینکوں سے 1723 ارب روپے قرض لیا اور حکومت مقامی بینکوں سے آئندہ سال مزید ایک ہزار ارب قرض لینے جا رہی ہے، حکومت نے 300 ارب کی جگہ 1700 ارب قرض لیا جو ہدف سے 500 فیصد زیادہ تھا۔

اتوار، 7 جون، 2020

ٹڈی دل حملوں کے باوجودابھی تک وسیع پیمانے پر اسپرے شروع نہ ہونا مجرمانہ غفلت ہے، شہبازشریف


مسلم لیگ ن کے صدر  اور  قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف  شہباز شریف نےاپنے بیان میں کہا ہے ملک کے اکیسٹھ اضلاع میں ٹڈی دل کے  شدید حملوں  کے باوجود اسپرے شروع نہ کرنا اور مشینوں کی عدم فراہمی مجرمانہ غفلت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ  وفاقی حکومت کورونا والا رویہ ٹڈی دل کے معاملے میں نہ اپناے، فوری اور اسپرے شروع کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 6 ماہ سے حکومت کو خبردار کیا جارہا ہے، تاحال مطلوبہ ساز و سامان اور اسپرے مشینوں کی عدم دستیابی حیران کن ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ کپاس، تل، مونگ اور دیگر فصلوں کی تباہی نہ روکی گئی تو بدترین قحط کی صورتحال ہوسکتی ہے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی قومی سلامتی میں شامل ہے،یہ ہمارے کسان کی زندگی موت کا مسئلہ ہے اس پر غفلت یا لاپرواہی کی گنجائش نہیں ہے۔

بدھ، 3 جون، 2020

شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے نیب کا رات گئے لاہور کے ایک اور علاقے میں چھاپہ

شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے نیب کا رات گئے لاہور کے ایک اور علاقے میں ..
لاہور: شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے نیب کا رات گئے لاہور کے ایک اور علاقے میں چھاپہ، جلو کے علاقے میں واقع لیگی ایم پی اے سہیل شوکت بٹ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری۔ تفصیلات کے مطابق نیب اور پنجاب پولیس مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو گرفتار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں نیب اور پنجاب پولیس کی ٹیموں نے منگل کے روز لاہور میں ماڈل ٹاون اور جاتی امراء کے علاقوں میں چھاپے مارے، لیکن شہباز شریف کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔

نیب نے منگل کے روز پہلے ماڈل ٹاون کے علاقے میں واقع شہباز شریف کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، پھر جاتی امراء میں شریف خاندان کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا، تاہم دونوں مقامات پر مسلم لیگ ن کے صدر موجود نہ تھے۔

اب بتایا گیا ہے کہ نیب اور پولیس کی ٹیموں نے رات گئے لاہور کے دور دراز کے علاقے جلو میں چھاپہ مارا ہے۔ نیب نے ن لیگ کے ایم پی اے سہیل شوکت بٹ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا لیکن گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی جلو کے علاقے میں موجودگی کی اطلاع ملی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب اور پولیس کا جلو کے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ واضح رہے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں انکوائری کیلئے نیب میں مسلسل تیسری بارعدم پیشی پر شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں گرفتاری کے خدشے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی تاہم سابق جج شریف حسین بخاری کے انتقال کے باعث درخواست پر سماعت نہ ہوسکی۔ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ محمد قاسم علی نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت کے لئے درخواست سماعت کیلئے کل بروز بدھ مقرر کی ہے۔

منگل، 2 جون، 2020

نیب ٹیم شہبازشریف کو ماڈل ٹاؤن سے گرفتار نہ کرسکی


نیب ٹیم شہباز شریف کو گرفتار کیے بغیر واپس روانہ
لاہور: نیب ٹیم صدر ن لیگ شہباز شریف کو گرفتار نہ کرسکی، نیب ٹیم ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد ماڈل ٹاؤن سے واپس چلی گئی، شہباز شریف کو گھر پر عدم موجودگی کے باعث گرفتار نہ کیا جا سکا۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے ڈپٹی ڈائریکٹر اصغر چوہدری نیب شہباز شریف کے گھر 96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں پہنچ گئے ہیں۔

ن لیگی رہنماء عطاء تارڑ، اور کیمرہ مین بھی جو کورونا میں مبتلا ہیں۔ وہ بھی گھر میں قرنطینہ میں تھے۔ نیب ٹیم جب اندر گئی تو گھر میں شہباز شریف کے اہلخانہ اور خواتین موجود ہیں۔ اس لیے نیب کی ٹیم اپنی خواتین اہلکار کے ذریعے باقی گھر کی تلاشی لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ شہباز شریف نیب ٹیم آنے سے قبل کسی دوسرے گھر میں شفٹ ہوگئے ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب ٹیم صدر ن لیگ شہباز شریف کو گرفتار نہ کرسکی، نیب ٹیم ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد ماڈل ٹاؤن سے واپس چلی گئی۔ نیب کی ایک ٹیم شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے جاتی امراء بھی پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب ٹیم کے کچھ اہلکار باہر گھر سے باہر آئے تھے لیکن ابھی تک نیب ٹیم شہباز شریف کے گھر میں ہی موجود ہے۔

واضح رہے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں انکوائری کیلئے نیب میں مسلسل تیسری بارعدم پیشی پر شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری کیلئے ان کی رہائشگاہ کے باہر پولیس پہنچ گئی۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی ماڈل ٹاؤن میں موجود ہے۔ پولیس نے شہباز شریف کے گھر کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا، اور ان کے گھر کی طرف جانے والے تمام راستے بھی بند کردیے ہیں۔

میڈیا سمیت کسی کو بھی اس طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں گرفتاری کے خدشے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی تاہم سابق جج شریف حسین بخاری کے انتقال کے باعث درخواست پر سماعت نہ ہوسکی۔ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ محمد قاسم علی نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت کے لئے درخواست سماعت کیلئے کل بروز ( بدھ ) مقررکردی ہے۔

درخواست میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ جس میں مئوقف اپنایا گیا کہ 1972ء میں بطور تاجر کاروبار کا آغازکیا اورایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردارادا کیا۔ عوام کی بھلائی کیلئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا۔ درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔

موجودہ حکومت کے سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی ہے، انکوائری میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں، 2018 میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، اس دوران بھی نیب کیساتھ بھر پور تعاون کیا تھا، 2018 میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو، تواتر سے تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں، منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں، نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔

پیر، 25 مئی، 2020

شہباز نے آکر غلطی کی، اب جیل جائیں گے، شیخ رشید

شہباز نے آکر غلطی کی، اب جیل جائیں گے، شیخ رشید
وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ شہباز شریف نے پاکستان آکر غلطی کی، اب شہبازشریف جیل جائیں گے۔
شیخ رشید احمد نے جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ نواز شریف کو باہر بھیجنے کے معاملے پر عمران خان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا، اب نواز شریف کے پلیٹ لیٹس اوپر نیچے نہیں ہورہے۔
وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کابینہ اجلاس میں چینی برآمد کی مخالفت کی تھی، جو مرضی الزام دے دیں عمران خان ایماندار اور صاف آدمی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسد عمر بھی ایماندار آدمی ہیں غلطی ہوجاتی ہے، جہانگیر ترین کا عمران خان کے ساتھ ایک فیس تھا وہ اب خراب ہوگیا ہے، آج کل کابینہ میں عمران خان اسد عمر کی زیادہ سنتے ہیں۔

ہفتہ، 23 مئی، 2020

نئے کیس تیار، شہباز سمیت 6 ن لیگی رہنمائوں کی عید کے بعد گرفتاری کا امکان

نئے کیس تیار، شہباز سمیت 6 ن لیگی رہنمائوں کی عید کے بعد گرفتاری کا امکان
اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کا سمیت 6 بڑے اور سینیئر رہنماؤں کے خلاف نیب نے نئے کیس تیار کرلیےہیں اور عید کے بعد نیب کی جانب سے ان کی گرفتاریوں کا قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ذرائع مطابق نیب نے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں میاں شہباز شریف ،شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال ،رانا ثناءاللہ، امیرمقام اور جاوید لطیف کے خلاف نیب نے اہم شواہد اکٹھے کرلئے ہیں۔
نیب کے پاس ان شخصیات کے اہل خانہ کے نام بھی شامل ہیں جن کے خلاف نیب کاروائی کرے گا۔شہباز شریف کیخلاف نیب لاہور اور نیب ملتان میں آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت دو کیسز تیار ہو چکے ہیں۔نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف اور اہلخانہ کے خلاف ٹھوس شواہد بھی حاصل کرلیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے اہلخانہ کے خلاف دس مختلف کیسز میں اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں۔
نیب کسی بھی کے بعد شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کر سکتا ہے جب کہ رانا ثنا اللہ بھی نیب کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔نیب نے رانا ثنااللہ کے خلاف خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی چھان بین مکمل کرلی ہے اور اہم شواہد حاصل کر لیے ہیں۔اسی طرح ن لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کے خلاف بھی نیب میں کیس تیار ہو چکا ہے اور کسی وقت بھی ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات جاری ہے۔ اس حوالے سے نیب کا کہنا ہے کہ احسن اقبال کے خلاف شواہد موجود ہیں۔علاوہ ازیں امیرمقام کے خلاف بھی آمدن سے زائد اثاثہ جات کے سلسلے میں نیب پختونخوا میں کیس تیار ہے اور ٹھوس شواہد اکٹھے کرلئے گئے ہیں۔

بدھ، 13 مئی، 2020

جو شواہد شہباز شریف کیخلاف ملےہیں، ان کا بچنا ممکن نہیں، شہزاداکبر


معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ یہ میں نہ مانوں کی رٹ جتنی چاہیں لگا لیں، ثبوت سامنے آچکے ہیں، جو شواہد شہباز شریف کے خلاف ملے ہیں ان کا بچنا ممکن نہیں۔
شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھیلے کی کرپشن کے عنوان سے پہلے بھی دو پریس کانفرنسز کرچکا ہوں، شہبازشریف کی درجنوں فرنٹ کمپنیاں سامنے آئی ہیں، شہبازشریف اپنے بھائی کی بیماری کا بہانہ کرکے لندن گئے تھے، جیسے ہی گرم ہوا چلتی ہے یہ لندن بھاگ جاتے ہیں اور گرم ہوا آنے والی ہے، یہ میں نہ مانوں کی چاہے جتنی رٹ لگا لیں ان کا بچنا آسان نہیں ہے۔
شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ان کے خاندان کے اثاثوں میں اضافے کے پیچھے ٹی ٹیز تھیں، دس سال میں اس خاندان کے اثاثوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، باہر یہ کہتے ہیں میرے بچے ہیں اور نیب میں کہتے ہیں وہ بالغ ہے میرا کوئی تعلق نہیں۔
شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شریف فیڈ مل کے ملازم کے نام پر کمپنی بنائی گئی ، رمضان شوگر مل کے ملازم کے والد کے نام پر کمپنی قائم کی گئی اور رقم منتقل کی گئی ، رمضان شوگر مل کے ملازم توقیر کے نام پر کمپنی قائم کی گئی ، ملک مقصود کے نام پر  کمپنی قائم کی گئی،15 سو ملین رقم جمع کی گئی جبکہ چنیوٹ پاور کے ملازم کے نام پر رقم ٹرانسفر کی گئی ۔
انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی جی ایم سی میں اربوں روپے جمع کرائے گئے، ماڈل ٹاون کے چپڑاسی کے نام پر کمپنی بنائی گئی، رمضان شوگر ملز کے ملازمین کے نام پر بے نامی اکاونٹ بنائے گئے، سب ملازمین کے بے نامی اکاونٹس میں 17ارب 40کروڑ روپے جمع ہوئے، یہ سب ملازمین ان کے ہیں ای او بی آئی میں یہ ملازمین رجسٹرڈ ہیں۔
شہزاداکبر کا اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ بیس ٹرانزیکشن ہیں جس میں رقم ان اکا ؤ نٹس میں منتقل کی گئی، 18 ہزار روپے ماہانہ کے ملازم کے اکاؤ نٹ میں 450 ملین ٹرانسفر کیے گئے ، مسرور انور نے آپ کے ذاتی اکاونٹ میں 160 ملین جمع کرائے ، آپ نے کہا تھا کہ مجھے لندن کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے ایسا تو کچھ نہیں ہو۔
شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ چپڑاسی مقصود کے نام پر کمپنی بنائی اور 1ارب40کروڑ جمع ہوئے، رقم دینے والے کہتے ہیں پارٹی فنڈ میں دیے پھر یہ رقم پارٹی کے اکاؤنٹ میں جانی چاہیےتھی۔
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ یہ تمام شواہد نیب کے پاس موجود ہیں، نیب کو چاہیے یہ مقدمہ تیار ہیں اسے فائل کرے، اگر میں نے غلط بیانی کی ہے تو بےشک لندن میں مقدمہ کریں میں تیار ہوں، یہ تمام تحقیقات ہو چکی ہیں،میرے اختیار میں گرفتاری نہیں ہے۔۵ط
شہزاد اکبر نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف صاحب اس سے زیادہ آپ کو کتنے ثبوت چاہیے، شہبازشریف نے کہا تھا کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو تو سیاست چھوڑ دوں گا، مقصود کو دبئی مفرور کرایا گیا ،سلمان سمیت کئی کو باہر بھیج دیا، ایک حمزہ ہی ہیں جس کو آپ ہمیشہ یہاں چھوڑ جاتے ہیں ۔
اُن کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے حربے یہ ہیں کہ اپنے ملازمین کو باہر بھجوایا ہوا ہے، شہبازشریف نے کہا یہ سب سلمان کو پتا ہے پوچھ کر بتاوں گا، شہبازشریف آپ نے لندن میں مقدمہ کا وعدہ کیا ہے پورا کریں۔
شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کے دوفران مزید کہا کہ کچھ پیسے ان کے اکاؤنٹس میں جاتے ہیں باقی یہ ہنڈی حوالہ کے ذریعے باہر جاتے ہیں، ایک ہی دن میں فرنٹ کمپنیوں سے پیسے نکلتے ہیں اور ان کے اکاؤنٹس میں چلے جاتے ہیں۔
شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ سلمان شہباز کو واپس لے آئیں تاکہ جلد سے جلد یہ مقدمہ ثابت ہو، یہ کیسی سیاسی انجینئرنگ ہے کہ ہمارے وزیر بھی تحقیقات کا سامنا کررہے ہیں، ہم نے اپنے دور حکومت میں آزاد کمیشن بنائے اور تحقیقات کرائیں، چینی کمیشن کی رپورٹ کو بھی منظر عام پر لایا جائے گا، اس سے پہلے کسی نے حکومت نے خود احتسابی نہیں کی۔
انہوں نے میاں نواز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے پہلے لمحہ بہ لمحہ پلیٹ لیٹس کا کاؤ نٹ چل رہا تھا، نہ اب علاج اور نہ آپریشن کی کوئی خبر آرہی ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ چینی والا معاملہ دیکھ لیں تو نوازشریف دور میں چینی سو روپے سے اوپر گئی تھی، نوازشریف اور شہبازشریف نے بھی کمیشن بنانے کا کہا تھا، اگر ریگولیٹر اس ملک میں کام کررہا ہوتا یہ چینی کا کارٹل نہ ہوتا۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ 18 ہزار کا ملازم ہو تو 450 ملین اکاؤنٹ میں آئیں تو ریگولیٹر کو پوچھنا چاہیے تھا۔

پیر، 4 مئی، 2020

شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں نیب لاہور میں پیشی

شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں نیب لاہور میں پیشی
لاہور(انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 مئی۔2020ء) مسلم لیگ نون کے صدر محمد شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں نیب لاہور میں پیش ہوگئے نیب کی جانب سے شہباز شریف کو مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ دن 12بجے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی. اثاثہ جات کیس میں اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نیب کو مطمئن نہ کرسکے ،نیب لاہور اس سے پہلے شہباز شریف کو 17 اور 22اپریل کو بھی طلب کر چکا ہے ، شہباز شریف نے نیب کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ وہ کورونا وبا ءکی وجہ سے پیش ہونے سے قاصر ہیں تاہم انہوں نے اپنے نمائندے کے ذریعے نیب کو مطلوبہ دستاویزات جمع کروادیں.
نیب کے تازہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف خود پیش ہوں اور مطلوبہ معلومات فراہم کرتے ہوئے اپنے خلاف جاری تحقیقات میں تعاون کریں واضح رہے کہ نیب کی جانب سے اس کیس میں شہباز شریف کو تیسری بار طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے. شہبازشریف آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر میں پیش ہوئے اور دو گھنٹے تک نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے تندو تیز سوالوں کا سامنا کیا نیب ٹیم نے سوال کیا کہ آپ کے اکاﺅنٹ سے بیرون ممالک پانچ مشکوک ٹرانزکشن ہوئیں آپ نے بیوی بچوں کو کتنی مالیت کے تحائف دیئے ، پارٹی فنڈ کی رقم آپکے اکاﺅنٹ میں منتقل ہوئی ، جس پر شہباز شریف جواب نہ سکے
نیب ٹیم نے تفتیش کے دوران یہ بھی پوچھا کہ رہائش گاہ کتنے عرصہ تک کیمپ افس رہی، جس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ خادم اعلی تھے اور عوام کے لیے انہوں نے یہ اقدام اٹھایا نیب حکام شہباز شریف کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہیں دو جون کو دوپہر 12 بجے ریکارڈ سمیت دوبارہ طلب کرلیا. خیال رہے نیب نے شہبازشریف کو اس کیس میں تیسری بارطلب کیاگیا تھا اور مطلوبہ دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی تھی شہباز شریف دونوں مرتبہ ملک میں ہونے کے باوجود پیش نہیں ہوئے تھے انہوں نے اپنے نمائندے کے ذریعے نیب کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرائی تھیں.
نیب اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ نیب شہبازشریف کی جانب سے بھیجے گئے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی، قانون کے مطابق ملزم خود پیش ہوں، مطلوبہ معلومات فراہم کریں، اس سے قبل نیب نے شہباز شریف کو17اور22 اپریل کوطلب کیاتھا. عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈرشہبازشریف آج نیب میں پیش ہوں گے اور نیب سوالات کے جوابات دیں گے شہباز شریف کی نیب دفترطلبی کے موقع پر سیکورٹی سخت انتظامات کئے گئے ہیں، نیب دفترکے باہرپولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ راستے رکاوٹیں لگا کربند کر دیے گئے ہیں.
واضح رہے کہ 22 اپریل کو طلبی پر قومی احتساب بیورو نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو تنبیہی پیغام جاری کر کے کہا تھا کہ اگر انہوں نے تعاون نہیں کیا تو ان کے خلاف نیب قانونی راستہ اپنائے گا. اس سے قبل 17 اپریل کو بھی انھیں طلب کیا گیا تھا لیکن وہ کرونا وائرس کا عذر کر کے پیش نہیں ہوئے، نیب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر مکمل حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں گے.a

جمعرات، 12 مارچ، 2020

شہباز شریف کو واپس آنا چاہیے، خواجہ آصف

شہباز شریف کو واپس آنا چاہیے، خواجہ آصف
مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ میں اتفاق کرتا ہوں کہ شہباز شریف کو واپس پاکستان آنا چاہیے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بات چیت کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ان کی غیر موجودگی کی وجہ سے اخبارات کو خبریں بنانے کا موقع مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی اجلاس میں ایم این اے محسن رانجھا نے کہا کہ میاں نواز شریف کو بھی واپس آنا چاہیے، اس پر میں نے ان سے کہا کہ علاج ہونے کے بعد میاں صاحب ضرور واپس آئیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گرما گرمی ہوئی جس میں پارٹی پالیسیوں پر تنقید کی گئی اور شہباز شریف سے وطن واپسی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

بدھ، 26 فروری، 2020

نواز شریف کی وصیت میں لکھی ممکنہ باتیں

نواز شریف کی وصیت میں لکھی ممکنہ باتیں
لاہور ::  سابق وزیراعظم نواز شریف آپریشن سے قبل وصیت مریم نواز کے حوالے کرنے کے خواہشمند ہیں۔تحریری وصیت میں قبل از وقت اپنی دو حکومتوں کے خاتمے،ناہلی کے بارے میں بھی وجوہات شامل ہیں۔روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف اپنی لکھی ہوئی وصیت مریم نواز کے سپرد کر کے اپنا آپریشن کرونا چاہتے ہیں۔
اپنے آپریشن سے قبل وہ مریم نواز کو لندن بلانا چاہتے ہیں۔نواز شریف نے اپنی لکھی وصیت میں سیاسی اور غیر سیاسی عوام کا ذکر ہے۔ذرائع کے بقول اس وصیت میں پاک فوج کے بعض جرنیلوں کے متعلق بھی تحریر ہے۔ان کی قبل از وقت ختم کی گئی دو حکومتوں اور نا اہلی سے متعلق رائے شامل ہے۔نواز شریف آپریشن سے متعلق وصیت اپنے ہاتھوں سے نواز شریف کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے وہ کسی پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں یہاں تک کہ شہباز شریف پر نہیں۔یہاں تک کہ نواز شریف بذریعہ پوسٹ یا کسی اورطریقے سے بھی وصیت نواز شریف کو بھیجنے کے حق میں نہیں۔خیال رہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف اس وقت علاج کے لئے لندن میں موجود ہیں۔بیماری کی وجہ سے ضمانت لے کر لندن جانے والے وزیراعظم کو پاکستان واپس بلانے کی کوشش بار بار کی گئی ہے لیکن ابھی تک نوازشریف نے واپس آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
اسی حوالے سے تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا ہے کہ جس میں ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے اپنی تحریری وصیت لکھ دی ہے۔خبر دیتے ہوئے تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا تھا کہ یہ وصیت کم ، نوازشریف کی جانب سے دھمکی لگ رہی ہے۔نوازشریف نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو تحریری صورت دے دی ہے جس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ اگر مریم نواز کو لندن نہ بھیجا گیا تو وہ کچھ سینئر صحافیوں سے ملاقات کر کے کچھ ایسے انکشافات کریں گے جس سے پاکستان کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں