They are 100% FREE.

کورونا ٹیسٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کورونا ٹیسٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 14 مئی، 2020

ملک میں کورونا ٹیسٹ مفت ہونا چاہیے، سراج الحق

ملک میں کورونا ٹیسٹ کو تو مفت ہونا چاہیے، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ لوگ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کورونا ٹیسٹ نہیں کرانے جاتے، ملک میں کورونا ٹیسٹ کو تو مفت ہونا چاہیے۔
سراج الحق نے سینیٹ اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اس وبا کے وقت انسانیت، قوم کے لیے خیر کا راستہ تلاش کریں جو توبہ کا راستہ ہے، وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان لڑائی ہے، ہمارے پاس یہ وبا اچانک نہیں آئی، یہ پہلے چین، پھر اٹلی اور امریکا گئی، وبا سے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کو فتح کرنے پر لگے ہیں۔
سراج الحق نے کہا ہے کہ چہرے پر ماسک تو لگائے ہیں لیکن زبان کو تالے نہیں لگائے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ملک میں دور دراز علاقوں میں لیب قائم کی جائیں۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے جو پاکستانی واپس آئے ان سے ڈبل ٹکٹ کے پیسے لیے، وطن واپسی پر سمندر پار پاکستانیوں کو ہوٹلوں میں رکھا اور ان سے کرایہ وصول کیا، سمندر پار پاکستانیوں کو بل واپس کیا جائے۔
مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی جارحیت سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیرمیں کورونا وائرس کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

لاڑکانہ: محلہ علی گوہر آباد 6 افراد کی ہلاکت کے بعد سیل

لاڑکانہ: محلہ علی گوہر آباد 6 افراد کی ہلاکت کے بعد سیل
لاڑکانہ کے گنجان آباد محلے علی گوہر آباد میں 6 افراد کی ہلاکت کے بعد پورا محلہ سیل کردیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق کے مطابق ایک ہفتے میں ایک ہی علاقے میں 6 افراد کی ہلاکت غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس لیے فوری کارروائی کرتے ہوئے محلہ سیل کرکے اہل محلہ کے کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اہل محلہ کے 90افراد کے سیمپل حاصل کرکے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مرنے والوں کے رشتہ دار اور علی گوہر آباد یونین کمیٹی کے چیئرمین اصغر کھچی کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد عمر رسیدہ اور طویل عرصے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے، تمام افراد طبعی موت کا شکار ہوئے ہیں۔
انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اہل محلہ کے ٹیسٹ نجی لیبارٹری سے کرائے جائیں۔

جمعرات، 23 اپریل، 2020

پاکستان میں جاری لاک ڈاؤن مذاق،حکمرانوں نے غلط فیصلے اور علما نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ،کراچی میں ڈاکٹرز پھٹ پڑے

پاکستان میں جاری لاک ڈاؤن مذاق،حکمرانوں نے غلط فیصلے اور علما نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ،کراچی میں ڈاکٹرز پھٹ پڑے
کراچی کے ڈاکٹرز نے ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا صحت کا نظام بہت کمزور ہے، اگر مریضوں کی تعداد بڑھی تومشکلات میں اضافہ ہوگا، علما سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، کورونا وائرس پر حکمرانوں نے غلط فیصلےاور علما نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ۔
نجی ٹی وی کے مطابق کراچی پریس کلب میں میڈیا بریفنگ کے دوران انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر عبدالباری، ڈاکٹر سعد نیاز، ڈاکٹر صدیقی اور ڈاکٹر قیصر سجاد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کرونا کا ان پر اثر نہیں ہوگا،کرونا جس تیزی سے بڑھ رہا ہے ایسا نہ ہو کہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ جائے اور ہمیں سڑکوں اور گھروں میں علاج کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سے چار ہفتوں میں کرونا بڑی تیزی سے بڑھے گا
ملک میں کورونا کیسز سامنے آنے پر لاک ڈاون کیا گیا تو علما نے بھی بھرپور تعاون کیا،اب رمضان المبارک قریب آنے پر مساجد کھولنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ ملک میں کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ڈاکٹر سعد نیاز نے کہا کہ کورونا وائرس کو جتنا سمجھا جارہا ہے، مسئلہ اس سے زیادہ سنگین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 60 سال سے کم عمر کے مریض مغربی ملکوں سے زیادہ آرہے ہیں، اگر کورونا بڑھا تو مریضوں کو رکھنے کے لیے ہسپتال میں بستر دستیاب نہیں ہوں گے۔ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ لاک ڈاون نرم ہوتے ہی کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ لاک ڈاون سخت کیا جائے، کاروباری حضرات اس حوالے سے تعاون کریں۔ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ پاکستان میں جو لاک ڈاون جاری ہے وہ مذاق ہے، پورے ملک کے ڈاکٹرز پریشان ہیں کہ 2 دن بعد کیا ہوگا؟۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام انتہائی کمزور ہے، حکمرانوں نے غلط فیصلے کیے جبکہ علما نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، یہ لڑائی کورونا اور ڈاکٹرز کی ہے۔

منگل، 14 اپریل، 2020

وزیراعظم کا اگلے دو ہفتے کیلئے جزوی لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا اعلان... ملک بھر میں آج سے تعمیراتی صنعتیں کھولنے کا اعلان کرتا ہوں..عمران خان

 وزیراعظم عمران خان کاجاری لاک ڈاؤن میں توسیع کااعلان
اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے اگلے دو ہفتے کیلئے جزوی لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں آج سے تعمیراتی صنعتیں کھولنے کا اعلان کرتا ہوں، کنسٹرکشن انڈسٹری کو آرڈیننس کے ذریعے پیکج دیں گے،ابھی بھی کوئی صوبہ انڈسٹری نہیں کھولنا چاہتا تو 18ویں ترمیم کے تحت ان کو حق حاصل ہے۔
انہوں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے دکاندار بے روزگار ہوگئے۔بے روزگاری پھیل رہی ہے۔دکاندار اور دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہے۔امریکا میں صرف ایک روز میں 2 ہزار لوگ مر گئے ہیں، اسی طرح اٹلی اور اسپین کو دیکھیں ، لہذا ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کورونا کسی بھی وقت پھیل سکتا ہے، احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا۔
کہاجاتا ہے کہ کورونا بزرگوں کو متاثر کرتا ہے، نوجوانوں کو نہیں متاثر کرتا،ابھی تک تو ہمارے اختیار میں ہے۔لیکن اگر تیزی سے بڑھ گئی تو پھر ہمارے اختیار سے باہرہوجائے گی۔ اس لیے احتیاط کرنا ہے۔پاکستان میں لاک ڈاؤن کو آگے لے کر جا رہے ہیں،جزوی لاک ڈاؤن اگلے دو ہفتے تک رہے گا۔ تعلیمی اداروں، سینماء ہالز اور اجتماعات سمیت دیگر جگہوں پر لاک ڈاؤن رہے گا۔
احساس پروگرام جیسا پروگرام پہلے کبھی نہیں آیا، اس میں سیاسی مداخلت نہیں ہے، یہ میرٹ پر چل رہا ہے،8171پر جو بھی میسج کرتا ہے، اس کو چیک کیا جاتا ہے کہ وہ واقعی مستحق ہے یا نہیں، میں کہتا ہوں جو ابھی تک لوگ مس ہوگئے ہیں، وہ بھی آسکتے ہیں۔ ابھی تک 28لاکھ لوگوں کو امداد مل چکی ہے، یہ پروگرام چلتا رہے گا۔ ہمیں خوف تھا کہ ہم لوگوں تک کیسے پہنچ سکیں گے۔
گندم کا سیزن شروع ہوگیا ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گندم کی کٹائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔تاکہ ہم اپنے لوگوں کو کھانا دے سکیں گے۔ اسی طرح ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ شہروں میں تعمیراتی صنعتوں کو کھول دیں گے، چاروں صوبوں سے مشاورت ہوئی ہے، وفاق اور صوبوں میں اتفاق رائے ہے کہ بعض سیکٹرز کھول دیں گے، لیکن ابھی بھی کوئی صوبہ انڈسٹری نہیں کھولنا چاہتا تو ان کو 18ویں ترمیم کے تحت اختیار ہے۔
کنسٹرکشن انڈسٹری میں رسک کم ہے، اس لیے آج سے کھولنے کا اعلان کرتا ہوں۔ کنسٹرکشن انڈسٹری کو آرڈیننس کے ذریعے پیکج دیں گے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاکستانی جو باہر کے ممالک میں پھنس گئے ہیں، ان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے بڑاتفصیل سے جائزہ لیا ہے، تفتان سے پاکستانی آئے اور دوسرے ممالک سے آئے، اسی لیے وہاں سے کورونا پھیلا ہے، صوبوں میں خوف ہے کہ اگر ہم نے باہر سے پاکستانیوں کو آنے دیا اور ٹیسٹنگ نہ ہوئی، قرنطینہ کا عمل ٹھیک نہ ہوا تو بہت تیزی سے پھیلے گا۔
لیکن وہ ہمارے پاکستانی ہیں ہم نے ان کیلئے بھی اہم فیصلے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رمضان شریف آرہا ہے، اس لیے مختلف مسالک کے علماء کرام سے مشاورت کروں گا کہ عبادت بھی کریں اور لوگوں کو کورونا سے بھی بچائیں۔ہم نے تمام فیصلے حکمت عملی سے کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو بڑا خطرہ گندم کی اسمگلنگ سے ہے، کیونکہ باہر گندم کا بحران ہے،ہمارے ڈالرز بھی اسمگل ہورہے ہیں ، اس کیخلاف ہم بڑاسخت قانون لا رہے ہیں۔اسی ذخیرہ اندوزی کیخلاف آرڈیننس لا رہے ہیں۔

پیر، 13 اپریل، 2020

ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے کیلئے کورونا ٹیسٹ لازمی قرار، نئی پابندی لگ گئی

ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے کیلئے کورونا ٹیسٹ لازمی قرار، نئی پابندی لگ گئی
لاہور (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے صوبے کے ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے کیلئے کورونا ٹیسٹ لازمی قراردیدیاگیا۔ صوبے سے باہر جانے کیلئے کورونا ٹیسٹ نیگٹو ہونا ضروری قرار دیدیا گیا۔صوبے سے باہر جانے کے لیے سرٹیفکیٹ لینا بھی لازمی ہوگا- اس مقصد کیلئے پنجاب حکومت نے فارم اے اور بی متعارف کروا دیا ہے۔
پنجاب کے ایک ضلع سے دوسرے میں جانے کے لیے فارم اے دکھانا ہوگا۔پنجاب سے باہر جانے کیلئے فارم بی ضروری ہوگا۔ کورونا پازیٹو آنیوالے شہری ایک شہر سے دوسرے شہر نہیں جا سکیں گے۔ اس ضمن میں پنجاب حکومت کی جانب سے تمام صوبائی چیف سیکرٹریز ہوم سیکرٹریز اور پولیس سربراہان کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔صوبہ پنجاب کے اندر اور صوبے سے باہر آنے جانے والی عوام کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے حکومت پنجاب نے تمام صوبوں کے انتظامی افسران کو مراسلہ بھیج دیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں