They are 100% FREE.

پرویز مشرف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پرویز مشرف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 15 جنوری، 2020

”چودھری نثار اور نوازشریف کیخلاف سخت کارروائی کی جائے“ سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائر


کراچی : سابق صدرپرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6کامقدمہ بنانے پر نوازشریف ،چودھری نثار اوردیگر کیخلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں درخواست دائرکردی گئی ۔
درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ لاہورہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کی تقرری کو غیرقانونی قراردے دیاہے ،لاہورہائیکورٹ کے فیصلے سے ثابت ہوا پرویز مشرف کیخلاف کارروائی بدنیتی پر مبنی تھی ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نوازشریف اورچودھری نثار کیخلاف سخت کارروائی کی جائے،نوازشریف کو واپس وطن لاکر سزاکو مکمل کروانے کاحکم دیاجائے،درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کیخلاف بھی غیرآئینی اقدامات پر سخت فیصلہ دیا جائے ۔

پیر، 13 جنوری، 2020

پرویز مشرف کیس؛ لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف فیصلہ سنا دیا لاہور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا


لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست منظور کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،آج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے پرویز مشر ف کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
تین رکنی فل بینچ میں جسٹس مسعود جہا نگیر اور جسٹس محمد امیر بھٹی شامل ہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیرآئینی قرار دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم کی عدم موجودگی پر فیصلہ سنانا غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے۔

آرٹیکل 6کے تحت ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔صرف وزیراعظم کی حکم پر کاروائی آئین کی خلاف ورزی ہے۔استغاثہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتا۔عدالت نے کرمنل لا اسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976ء دفعہ 4 کو کالعدم قرار دی دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دے دیا۔خیال رہے کہ لاہورہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویزمشرف کی سزائے موت پرعملدرآمدرکوانے کیلئے دوبارہ متفرق درخواست دائرکردی گئی، جوسماعت کے لیے بھی مقررکردی گئی تھی۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ خصوصی عدالت نے غداری کیس کا فیصلہ عجلت میں سنایا، خصوصی عدالتی کی تشکیل سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پرویز مشرف کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرے. پرویز مشرف کی جانب سے 85 صفحات پر مشتمل درخواست میں عدالتی فیصلے کے پیرا گراف 66 پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ خصوصی عدالت نے عجلت میں فیصلہ سنایا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سابق صدر کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، جبکہ خصوصی عدالت کے رکن جسٹس نذر اکبر نے اختلافی فیصلے میں لکھا کہ 2007ءمیں آئین کی معطلی غداری کے زمرے میں نہیں آتی تھی.درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد روکا جائے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ 9جنوری کو درخواست پر سماعت کی تھی.ے،پرویز مشرف کی درخواست کے مطابق خصوصی عدالت نے انہیں شفاف ٹرائل سے محروم رکھا ہے جبکہ زیر سماعت چار درخواستیں سنے بغیر فیصلہ سنا دیا گیا ہے جو قانون و آئین کی خلاف ورزی ہے،سابق صدر نے اپنی درخواست میں خصوصی عدالت کے فیصلے کے پیرا 66 کو بھی چیلنج کیا اور پیرا 66 کو اسلامی اقدار اور قانون کے منافی کہا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر فوری عمل درآمد روکنے کا حکم دے اور عدالت عالیہ خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے۔

جمعرات، 26 دسمبر، 2019

پرویز مشرف کا پاکستان آنے کا فیصلہ

پرویز مشرف کا پاکستان آنے کا فیصلہ
اسلام آباد  : پرویز مشرف پاکستان آنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ سینئر صحافی صابر شاکر کے مطابق سابق صدر کا کہنا ہے کہ میری صحت کچھ بہتر ہو جائے تو میں پاکستان جاونگا، میں مرنا ہی پاکستان میں چاہتا ہوں، بجائے میرے مرنے کا انتظار کرنے کہ میں پاکستان خود آونگا۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف پاکستان آنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، سابق آرمی چیف کا کہنا ہے کہ میری صحت کچھ بہتر ہو جائے تو میں پاکستان جاونگا، میں مرنا ہی پاکستان میں چاہتا ہوں، بجائے میرے مرنے کا انتظار کرنے کہ اور مجھے گھسیٹنے کہ، میں پاکستان خود آونگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل لاہورہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست پر فل بنچ تشکیل دے دیاگیا تھا، فل بنچ 9 جنوری سے درخواست پر سماعت شروع کرے گا، پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا قیام کالعدم قراردینے کی درخواست دی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر جنرل رپرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے قیام پرفل بنچ تشکیل دے دیا تھا۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی فل بنچ کی سربراہی کریں گے۔ جبکہ بنچ میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس چوہدری مسعود جہانگیر بھی شامل ہوں گے۔ فل بنچ 9 جنوری سے سنگین غداری کیس کیلئے خصوصی عدالت کے قیام سے متعلق سماعت شروع کرے گا۔ سابق صدر جنرل ر پرویز مشرف نے اپنے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے قیام میں قانونی معاملات پر سوالات اٹھائے تھے اور خصوصی عدالت کے قیام کو کالعدم قراردینے کیلئے درخواست دائر کی تھی۔ اب صابر شاکر کی طرف سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف واپس پاکستان آئینگے۔

منگل، 24 دسمبر، 2019

مجھے سزا قبول ہے .....اگر مجھے پرویز مشرف کی سزا کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔ احسن اقبال کی احتساب عدالت آمد پر میڈیا سے گفتگو

مجھے سزا قبول ہے
لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو آج جسمانی ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت پیش کیا جائے گا۔احسن اقبال پر نارووال اسپورٹس سٹی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کا الزام ہیں۔احسن اقبال کو فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیا گیا ہے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اگر مجھے پرویز مشرف کی سزا کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔
نارووال کے عوام سے وعدہ پورا کرنے پر گرفتار کیا ہے تو مجھے سزا اقبول ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف او ن لیگ کا وفادار ہوں اس لیے گرفتار کیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔واضح رہے گذشتہ روز نیب راولپنڈ ی نے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں گرفتار کیا، احسن اقبال کو نیب راولپنڈی نے انکوائری کیلئے طلب کیا تھا۔
احسن اقبال نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو آج پیش ہوئے تھے۔ جہاں پر سوالات کے غیرتسلی بخش جوابات دینے پر نیب ٹیم نے ان کو گرفتار کرلیا ۔ نیب نے احسن اقبال کی گرفتاری سے متعلق اسپیکرقومی اسمبلی کو بھی خط لکھ دیا۔ جس میں رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کی گرفتار ی سے اسپیکر کو آگاہ کیا گیا ۔اعلامیہ نیب میں بتایا گیا کہ احسن اقبال کا میڈیکل معائنہ کیا جائے گا، احسن اقبال کو آج احتساب عدالت راولپنڈی میں پیش کیا جائے گا۔
جہاں احسن اقبال کا عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران نیازی حکومت سیاسی انتقام میں اندھی ہوچکی ہے،جس منصوبے پر شاباش ملنی چاہیے تھی اس میں گرفتار کرلیا گیا، سی پیک اور پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے والے کی گرفتاری افسوسناک ہے، نیب نیازی گٹھ جوڑ سے گھبرا کر سچ بولنے سے باز نہیں آئیں گے۔

ہفتہ، 21 دسمبر، 2019

غلام سرور خان نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور عدالت کے حالیہ فیصلوں پر تین سوالات اٹھا دیئے

غلام سرور خان نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور عدالت کے حالیہ فیصلوں پر تین سوالات اٹھا دیئے
اسلا م آباد(آئی این پی)وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں پر تین سوالات اٹھا دیئے،قوم کو بتایا جائے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف فیصلے سے پاکستان کمزور ہوا یا مضبوط؟فیصلے سے ملک میں محاذ آرائی کی فضا میں اضافہ ہوا یا کمی آئی؟جن اقدام سے دشمن خوشی منائے کیا وہ ملک کے مفاد میں ہو سکتا ہے؟مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے کشمیری روئے جبکہ بھارت میں خوشیاں منائی گئیں،سنگین غداری کیس کا فیصلہ 2007کا تسلسل ہے، وکلانے کورٹ کے اندر آئین و قانون کی حفاظت کرنی ہوتی ہے،لاٹھی،ڈنڈا اور سوٹی پستول اٹھا کے ہسپتالوں میں نہیں گھسنا ہوتا۔
صحافیوں سےغیررسمی گفتگو میں وفاقی وزیرغلام سرور خان نے کہا کہ دسمبر پاکستانیوں کے لیئے غم کا مہینہ رہا ہے اس مہینے میں سقوط ڈھاکہ کے زخم ہرئے ہو جاتے ہیں،پانچ سال قبل سانحہ اے پی ایس کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں،ہر پاکستانی کی آنکھ اشکبار جبکہ دل خون کے آنسو روتا ہے 16دسمبر کے غم ختم نہیں ہوئے تھے کہ پھر17دسمبر،18دسمبراور 19 دسمبرکے فیصلوں نے قوم کو مزید غمزدہ کر دیا۔ان فیصلوں سے پاکستانی قوم اضطراب کا شکار ہوئی اور سابق صدر پرویز مشرف کے لیئے ہمدردی میں اضافہ ہوا،انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے حالیہ فیصلے2007کا تسلسل ہے جب ایک چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہوا مگر وہ ڈسکس نہ ہو سکا،سابق صدر پرویز مشرف نے جو کچھ کیا اس کا اختیار خود عدلیہ نے انہیں سونپا تھا بلکہ عدلیہ نے تو انہیں آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دیا تھا،صدر مشرف نے عدلیہ کی جانب سے دیئے گے اختیارات کو بروے کار لاتے ہوئے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس جوڈیشنل کونسل کو ارسال کیا تھا،کونسل کو اس ریفرنس کا سننا چاہیے تھا،انہوں نے کہا کہ آج بھی ایک معزز جج صاحب کے خلاف ریفرنس جوڈیشنل کونسل میں ہے،انہوں نے کہا کہ حالیہ اقدامات کو بغور دیکھنے کی ضرورت ہے آرمی چیف کی توسیع سے متعلق فیصلہ،لائرز ایکٹیو ازم،مولانا فضل الرحمن کا دھرنا اور اب سابق صدر کے خلاف فیصلہ آیا ہے،انہوں نے کہا کہ وکلانے کورٹ کے اندر آئین و قانون کی حفاظت کرنی ہوتی ہے،لاٹھی،ڈنڈا اور سوٹی پستول اٹھا کے ہسپتالوں میں نہیں گھسنا ہوتا،
وفاقی وزیر نے قوم کے سامنے سوالات رکھتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف فیصلے سے پاکستان کمزور ہوا یا مضبوط؟فیصلے سے ملک میں محاذ آرائی کی فضا میں اضافہ ہوا یا کمی آئی؟جن اقدام سے دشمن خوشی منائے کیا وہ ملک کے مفاد میں ہو سکتا ہے؟مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے کشمیری روئے جبکہ بھارت میں خوشیاں منائی گئیں،جنرل باجوہ کا ایشو آیا بھارت میں مٹھائیاں تقسیم ہوئیں،سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آیا بھارتی میڈیا خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے،کیا یہ اقدامات ملکی مفاد و وقار کے مطابق ہیں؟۔

جمعہ، 20 دسمبر، 2019

سنگین غداری کیس کے فیصلے پر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں کیا جاسکتا ، آئینی ماہر سلمان اکرم نے واضح کردیا

سنگین غداری کیس کے فیصلے پر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں جاسکتا ، آئینی ماہر سلمان اکرم نے واضح کردیا
اسلام آباد : آئینی ماہر سلمان اکرم راجہ نے کہاہے کہ کسی جج کے ایک فیصلے سے دماغی حالت کا تعین نہیں کیا جاسکتا، دماغی حالت کاتعین کرنے کیلئے ایک مکمل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے، ایک پیراکی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں جائیگا ۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ پیرے کو حذف کرادیتی ہے تو فیصلہ ویسے ہی ر ہے گا ۔ معاملات کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی جج کے ایک فیصلے سے دماغی حالت کا تعین نہیں کیا جاسکتا ،دماغی حالت کاتعین کرنے کیلئے ایک مکمل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے، ایک پیراکی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس نہیں جائیگا ۔
سلمان اکرم راجہ کاکہنا تھا کہ جس جج نےپرویز مشرف  کو بری کیاہے ،ان کی جانب سے بھی تمام فیصلہ مشرف کی دفاعی قانونی ٹیم کیخلاف ایک شکوہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ تاریخ سمجھنے کی ضرورت ہے قانون کے مطابق چلنا ہوگا، ہم مہذب قوم کا حصہ ہیں ، لاش کوچوک پر لٹکانا درست نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ فیصلے پر اپیل کی جاتی ہے تو اعلیٰ عدلیہ غلطی کو درست کرادیتی ہے ،پیرے پر اپیل کی جاتی ہے تو اس حذف کروایا جاسکتا ہے لیکن فیصلہ وہی رہے گا ۔فیصلے میں غلطی ہوسکتی ہے ، اس لئے اعلیٰ عدلیہ رکھی گئی ہے ۔

جمعرات، 19 دسمبر، 2019

مشرف کے خلاف تفصیلی فیصلے کے بعد چوہدری نثار بھی مشکل میں پھنس گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔ سینئیر صحافی کا ٹویٹ

مشرف کے خلاف تفصیلی فیصلے کے بعد چوہدری نثار بھی مشکل میں پھنس گئے
اسلام آباد : سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف تفصیلی فیصلے کے بعد سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی مشکل میں پھنس گئے۔تفصیلات کے مطابق خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔
مفرور کرانے والوں کے کریمنل اقدام کی تفتیش کی جائے۔اسی حوالے سے اب سینئیر صحافی آصف بشیر چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار بھی اپنے دوست جنرل مشرف کے ساتھ مشکل میں پھنس گئے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری کاروائی کی جائے۔
حکم سزا پر عمل درآمد کیلئے فیصلے کی نقول اٹارنی جنرل اور حکام کو فراہم کر دی گئی۔
۔واضح رہے کہ ا‘وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی. پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا‘ اس کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں جسٹس نذر اکبر کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے. چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد فضل کریم نے سزائے موت سنائی جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اللہ اکبر نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کی ٹیم غداری کا .مقدمہ ثابت نہیں کرسکی
.

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں