They are 100% FREE.

پیر، 4 نومبر، 2019

مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر دی گئی

مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر دی گئی
لاہور  : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ ایڈوکیٹ ندیم سرور نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے امیر کی گرفتاری اور ان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کرنے کی درخواست دائر کی جس میں مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تقاریر سے لوگوں کو اُکسا رہے ہیں جس سے ملک انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔ عدالت میں دائر درخواست کے متن کے مطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما نے بیان دیا کہ آزادی مارچ کے شرکا وزیر اعظم ہاؤس جا کر عمران خان کو گرفتار کر سکتے ہیں، جو لوگوں کو ریاست کے خلاف اُکسانا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کا حکم دیا جائے۔ خیال رہے کہ جمیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے یکم نومبر کو آزادی مارچ کے جلسے سے کی گئی تقریر میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے دو دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ ہم پُرامن لوگ ہیں اور امن کے دائرے میں ہیں وگرنہ انسانوں کا یہ سمندر اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو گرفتار کرسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب آزادی مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کے لیے مولانا فضل الرحمان نے آج دوپہر کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کر رکھی ہے لیکن مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری مصروفیت کے باعث شریک نہیں ہو سکیں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں