
بہاولپور : چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمیعتِ علماء اسلام ف کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ بلاول بھٹو نے بہاولپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دن سے ہی ہمارا مؤقف تھا کہ ہم دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے البتہ کورکمیٹی نے کہا تو پیپلزپارٹی بھی دھرنے میں حصہ لے گی۔
یہ بھی ضرور پڑھیں : بیوی سے ستایا پاکستانی شوہر انصاف لینے تھانے پہنچ گیا، حیران کن خبرآگئی
سانحہ تیزگام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے، عمران خان حادثات پر استعفوں کی بات کیا کرتے تھے، امید ہے وزیراعظم اپنے وعدے کو پورا کریں گے اور شیخ رشید کے دور میں ریلوے میں سب سے زیادہ حادثے ہوئے، وزیر ریلوے کو فی الفور استعفیٰ دینا چاہیے جب کہ حادثے کی تحقیقات ہونی چاہیں، امید ہے حکومت متاثرین کے مطالبات کو پورا کرے گی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے، عوام سمجھ رہے ہیں کشمیر پر سودا ہو گیا ہے، حکومت کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے، حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی پر غور کرنا چاہیے، وزیراعظم کشمیریوں کے وکیل کا دعوی کرتے ہیں اور کرتار پور راہداری بھی کھول رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے ن لیگ اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کا ساتھ چھوڑ جائیں گی۔
وفاقی وزیر آبی سائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ایک طرف اکیلا ایماندار عمران خان ہے، دوسری طرف کرائے کے ڈیزل رکشے کے ڈی چوک جانے کے شوقین سوار ہیں لیکن دو پارٹیاں تو بھاگ جائیں گی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’ایک طرف پِٹے ہوئے مُستردشدہ ڈاکو چور، بےایمان لُٹیرے ہیں اور دُوسری طرف اکیلا ایماندار عمران خان ہے۔ کرائے کے ڈیزل رکشے کے ڈی چوک جانے کے شوقین سوار ہیں لیکن دو پارٹیاں تو بھاگ جائیں گی۔ حکومتی رٹ چیلنج ہوئی تو حکومت بھی ڈی میں جا کے گول کرنے کو تیار ہے اور ایسا گول ہو گا کہ ان کی رہی سہی سیاست بھی دفن ہو جائے گی‘‘۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں