
اسلام آباد : آزادی مارچ کا ہر کارکن 10,10روٹیاں کھاتا ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے شرکاء کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے روٹیاں زیادہ وہاں جا رہی ہیں، آزادی مارچ والے چند دن اور اسلام آباد میں رہے تو شہر میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ضرور پڑھیں : پاک بحریہ کا خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانیوالے میزائل کا کامیاب تجربہ
ذرائع کے مطابق مارچ کے شرکاء چائے بھی بہت زیادہ پیتے ہیں جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں دودھ کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق جڑواں شہروں کی دکانوں سے دودھ کے ڈبے شرکاء نے خرید لئے ہیں، چائے کے ساتھ ساتھ قہوہ اور کھجوروں کا استعمال بھی بہت زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ آزادی مارچ کے شرکا 5 روز قبل اسلام آباد میں مختص کیے گئے گراؤنڈ میں پہنچے تھے جہاں وہ اپنی قیادت کی ہدایت پر اب تک پرامن طور پر موجود ہیں۔
تاہم حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کے اسلام آباد میں داخل ہوتے ہی میٹرو بس سروس کو مینٹیننس کے نام پر ایک روز کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے آزادی مارچ کے اسلام آباد داخل ہونے کے باوجود میٹرو بس سروس بند نہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پھر بھی میٹرو بس سروس بند کر دی گئی تھی۔
یہ بھی ضرور پڑھیں : نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ کر دیا بجلی کی فی یونٹ قیمت میں دو روپے 37 پیسے کا اضافہ کیا گیا ۔ نیپرا
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ مستقبل کے انقلاب کی نوید دے رہا ہے، آزادی مارچ اس لیے نہیں کہ کچھ مخصوص قوتیں پاکستان کے مستقبل سے کھیلتی رہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا پڑے گا، یہ ملک صرف اسٹیبلمشمنٹ، بیوروکریسی اورجاگیرداروں کا نہیں ہے،سی پیک میں چین کے اعتماد کوٹھیس پہنچائی گئی،فیکٹریاں یونٹس بند ہورہے ہیں، مہنگائی بڑھ گئی، بجلی پٹرول پھرمہنگاکردیا۔
یہ بھی ضرور پڑھیں : چلغوزہ 8 ہزار روپے کلو کی ہوش ربا سطح پر
انہوں نے آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بطور جماعت اور اپوزیشن کی پالیسی نہیں بنتی تو ڈی چوک جانے والی باتیں ترک ہونی چاہیے۔ ایسا بندہ جو ہمارے ساتھیوں کو اشتعال دلاتا ہے اور پھر جذبات میں ہمارے ساتھی بھی وہاں جانے کاکہتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں