لاہور : پاکستان مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے بعد وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہوئی تھی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وقت اور حالات دیکھ کر مستقبل کا فیصلہ کروں گا۔عام انتخابات کے بعد میرے دوستوں کے ذریعے سے مجھے مختلف اوقات میں وزارت اعلیٰ کے لیے پیشکش ہوئی تھی مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ آزاد حیثیت سے الیکشن جیتنے کے بعد کسی کی تنقید کا نشانہ بنوں۔
یہ بھی ضرور پڑھیں : وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے سینئر ترین وزیر وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم غلام سرور خان م کو مستعفی ہونے کی ہدایت کردی.
چوہدی نثار نے حکومتی کارگردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے آٹھ ماہ میں عوام کو مایوس کیا۔اپوزیشن جماعتوں کے پاس حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا سنہری موقع ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سے عوام کو بہت زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔
مگر عمران خان نے جتنے سہانے خواب عوام کو دکھائے تھے اتنا ہی عوام کو مایوس کیا۔ایک اور بیان میں چوہدری نثار نے کہا تھا کہ کوئی وزیراعظم عمران خان کو بتائے کہ حکومتیں ٹوئٹس پر نہیں چلا کرتیں موجودہ حکومت نے قرضے لینے کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جبکہ حکومت کی بھارت سے متعلقہ پالیسی نظرنہیں آتی،احتساب کے حوالے سے اپوزیشن کی بہت سی شکایات جائز ہیں، جب کوئی آدمی پکڑا جاتا ہے تو حکومت شور مچاتی ہے کہ نہیں چھوڑیں گے،صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھانے کا مطلب انتخابی نتائج کو قبول کرنا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں