
اسلام آباد : قومی اسمبلی اجلاس کیلئے کراچی اور کوئٹہ سے خصوصی پروازیں چلانے کا فیصلہ کرلیا گیا، خصوصی پروازیں صرف ارکان اسمبلی کیلئے چلائی جائیں گی، کورونا وباء کی صورتحال پر پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا، اجلاس سے قبل ارکان اسمبلی اور سیکرٹریٹ عملے کے کورونا ٹیسٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیر11مئی کو3 بجے پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے گا۔
اجلاس ایک دن کے وقفے سے جاری رہے گا۔ طے ہوا کہ اس اجلاس میں کورم کی نشاندہی نہیں کی جائے گی۔ وزیٹرز کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کو کورونا وباء تک محدود رکھا جائے گا۔
ضرور پڑھیں: ٹیکسلا : پولیس نے چند روز قبل پنڈ گوندل میں قتل ہونے والے مہراب کے اندھے قتل کا سراغ لگا کر 03 قاتل گرفتار کر لئے
ضرور پڑھیں: ٹیکسلا : پولیس نے چند روز قبل پنڈ گوندل میں قتل ہونے والے مہراب کے اندھے قتل کا سراغ لگا کر 03 قاتل گرفتار کر لئے

00:00
/
00:01
00:00
پارلیمنٹ لاجز میں بھی آمدورفت کو محدود رکھا جائے گا۔ اسی طرح اعلامیہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اجلاس سے قبل ارکان پارلیمنٹ اور سیکرٹریٹ کے عملے کے کورونا ٹیسٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ایک دن کے وقفے سے 3 گھنٹے پر محیط ہوگا۔ کورونا کی صورتحال، معیشت پر اثرات اور حکومتی اقدامات پر بحث ہوگی۔ وقفہ سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس، تحاریک التواء اور تحاریک استحقاق نہیں لی جائیں گی۔ وزٹرز کا پارلیمنٹ ہاؤس اور لاجز میں داخلہ نہیں ہوگا۔ اجلاس میں شرکت کیلئے کراچی اور کوئٹہ سے خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی۔
مزید برآں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کورونا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چاہتا ہوں لاک ڈاؤن ختم کیا جائے ، احتیاطی تدابیر پر سختی کرنا ہوگی۔ کاروبار تو کھل جائیں گے لیکن ساتھ میں ایس اوپیز پر عملدرآمد بھی کرانا ہوگا۔ کابینہ کے ارکان کی اکثریت نے وزیراعظم کی تجویز سے اتفاق کیا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ آئندہ دور روز میں کرلیا جائے گا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی میں کیا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں