They are 100% FREE.

منگل، 2 جون، 2020

پازیٹو مریضوں کا مطلب یہ نہیں کہ بیمار ہیں..ایک شخص پازیٹو ہے لیکن علامات نہیں، مطلب وہ وائرس نہیں پھیلا رہا۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا

پازیٹو مریضوں کا مطلب یہ نہیں کہ بیمار ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا
اسلام آباد : معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پازیٹو مریضوں کا مطلب یہ نہیں کہ بیمار ہیں، میں زیادہ گھومتا پھرتا ہوں، ہوسکتا ہے میرا ٹیسٹ بھی مثبت آجائے،ایک شخص پازیٹو ہے لیکن علامات نہیں ،مطلب وہ وائرس نہیں پھیلا رہا،کیونکہ جب تک وہ چھینکے گا نہیں وائرس کیسے پھیلائے گا؟ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وائرس پھیلنا تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ وائرس کو ختم نہیں کیا جاسکتا، احتیاط سے اس کی تیزی کو آہستہ کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں پچھلے دو ہفتوں سے کیسز اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔اس وقت اموات کی شرح یومیہ 65 اور 70کے درمیان ہے۔ اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

ہمیں اموات بڑھنے پر حیرانی نہیں ہے، کیونکہ یہ متوقع تھا، اور اموات بڑھنی ہیں وہ اس لیے کہ ابھی پیک نہیں آئی،ہم صرف احتیاط کر سکتے ہیں۔پنجاب میں ہونے والی اسٹڈی کا مجھے زیادہ پتا نہیں، پنجاب میں جو بھی نتائج ہیں ان پر کوئی حیرت نہیں ہے۔

جب بھی کوئی متعدی مرض پھیلتا ہے، تو لوگ متاثر ہوتے ہیں، جب لوگ متاثر ہوتے ہیں تو ان کی باڈی ردعمل دیتی ہے، انسان کا مدافعتی نظام وائرس کو کھا جاتا ہے۔ پازیٹو مریض کا مطلب یہ نہیں کہ بیمار ہیں، ان کے اندر مدافعت پیدا ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک مریض کے قریب زیادہ بیٹھیں گے تو بیمار ہونے کے چانسز زیادہ ہیں۔ ایک اینٹی جن ہوتی ہے، ایک اینٹی باڈی ہوتی ہے۔

جس شخص میں علامت نہیں لیکن وہ پازیٹو ہے وہ وائرس پھیلا نہیں رہا، کیونکہ جب چھینکتے ہیں تو وائرس تیزی سے باہر جاتا ہے، لیکن اگر کوئی چھینکیں گا نہیں وائرس باہر نہیں جائے گا، اور وہ پھیلائے گا کیسے؟ایک ریسرچ آئی ہے کہ بولنے سے وائرس پھیلتا ہے، لیکن بہت کم ہے۔ہم اینٹی جن کے ٹیسٹ کرتے ہیں، ہم ہرڈ امیونٹی پر یقین نہیں رکھتے،65 فیصد لوگ متاثرہوئے تو ہم کہیں گے کہ ہرڈامیونٹی ہوگئی۔

ہرڈ امیونٹی کا مطلب یہ ہے کہ مجھے بیماری ہے، لیکن آپ متاثر ہیں، آپ میں اگر امیونٹی ہے تو آپ متاثر نہیں ہوں گے۔اگر میرا ٹیسٹ کروائیں ، ہوسکتا ہے ، مثبت آجائے، کیونکہ میں جتنا لوگوں میں جاتا ہوں، گھومتا پھرتا ہوں، ٹیسٹ مثبت آنے کے امکان ہے، لیکن احتیاط سے اس پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس بیماری کی اچھی بات یہ ہے کہ 85 فیصد لوگ خود ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔وینٹی لیٹر پر صرف2شرح ہے۔اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ویکسین نہیں ہے۔اگر ہم ایس اوپیز پر عملدرآمد کو یقینی بنا لیں تو جن چیزوں پر بندش ہے وہ بھی کھولی جاسکتی ہیں۔

پیر، 1 جون، 2020

افسوس سے کہتا ہوں! وائرس پھیلے گا، اموات بھی بڑھیں گی، عمران خان

جہاں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ان علاقوں کو بند کردینگے: وزیراعظم عمران ..
اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس سے کہتا ہوں! وائرس پھیلے گا، اموات بھی بڑھیں گی، جب تک ویکسین نہیں آتی، وائرس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا، لاک ڈاؤن وائرس کا علاج نہیں، ایس اوپیز پر عمل کرکے وائرس کا پھیلاؤ کم کیا جا سکتاہے۔ انہوں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب 26 کیسز تھے تو لاک ڈاؤن کیا۔

لاک ڈاؤن کا مقصد یہ ہے کہ وائرس جب تیزی سے پھیلتی ہے تو وائرس کا پھیلاؤ کا کم ہوجاتا ہے، لیکن یہ وائرس کو ختم کرنے کا علاج نہیں ہے، لاک ڈاؤن اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہسپتالو ں پردباؤ نہ بڑھے۔امریکا، اٹلی، جرمنی ، یورپ میں ہسپتالوں پر اتنا پریشر پڑ گیا کہ سنبھالنا مشکل تھا۔

اسی لیے لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ ہے، ایک طرف لوگ امیر ہیں، جو پوش علاقوں میں رہتے ہیں، اسی طرح وہ لوگ جو کچی آبادیوں میں رہتے ہیں، ان پر کیا اثر پڑے گا؟اس کو بھی دیکھنا ہے۔

بطور وزیر اعظم مجھے ایک طرف وائرس کو روکنا تھا، دوسری طرف لوگوں کی بھوک کودیکھنا تھا، میں اس طرح لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا، لیکن ہوگیا کیوں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے بااختیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے شروع دن سے عوام اجتماعات روک دیتا لیکن کاروبار بند نہ کرتا۔کورونا کو سمجھنا ہوگا کہ کورونا وائرس اب جانے نہیں لگی، ہمیں اس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک ویکسین نہیں آتی یہ نہیں جائے گی۔

امریکا میں ایک لاکھ لوگ مر گئے انہوں نے بھی فیصلہ کیا کہ لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے کیونکہ لاک ڈاؤن سے ان کی معیشت بیٹھ جائے گی، انہوں نے امدادی پیکج دیا، ہم نے بھی 8ارب ڈالر کا پیکج دیا۔سنگاپور، جنوبی کوریا میں وائرس پھر پھیل گئی ہے ۔ میں لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ وائرس پھیلے گی، اس نے پھیلنا ہے، ہمیں احتیاط کرنی ہے، عوام کو احتیاط کرنی ہوگی، اگر ہم نے لاک ڈاؤن کے بعد احتیاط نہ کی اور وائرس پھیلا تو ہمارا نقصان ہوگا۔

اس لیے ہم جو ایس اوپیز دے رہے ہیں ۔ اس پر عمل کرنا ہوگا۔ اب ہمیں ٹورازم کو بھی کھولنا ہے۔کیونکہ وہ علاقے جن میں لوگوں کا سیاحت کے شعبے سے روزگار کا وابستہ ہے، ان کے پاس یہی دو تین مہینے ہے۔گلگت اور خیبرپختونخواہ میں ایس اوپیز کے تحت سیاحت کا شعبہ کھول دیں گے۔ اب چند شعبوں کے علاوہ باقی سب کھول دیں گے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چاہیے کہ احتیاط کریں ، اگر احتیاط کریں گے تو وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی اور شدت نہیں آئے گی، بلکہ یہ آہستہ آہستہ پھیلے گا اور پیک کے بعد نیچے آنا شروع ہوجائے گا۔

بھارت کی مثال سامنے ہے ہندوستان میں لاک ڈاؤن سے غربت پھیل گئی ہے۔انہو ں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہماری ٹیکس وصولیاں 30 فیصد کم ہوگئی ہیں، ہماری برآمدات ، سرمایہ کاری اور آمدنی رک گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اورسیز پاکستانیوں کو فوری واپس لانا چاہتے ہیں ، رکاوٹ یہ تھی کہ جو بھی کیسز آئے وہ باہر سے آئے ہیں، اس لیے صوبوں نے کہا کہ ہم اتنے زیادہ لوگوں کو نہیں لا سکتے جب تک انتظامات نہ کرلیں۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اورسیز کو واپس آنے دیں گے، ان کوواپس آنے دیں گے، ان کا ایک ٹیسٹ کریں گے، جن کا ٹیسٹ مثبت آئے گا ان کو گھروں میں قرنطینہ کردیا جائے گا۔

سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی

سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی
کراچی : سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دیدی ہے۔ سکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ سندھ کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں جواب جمع کروادیا گیا ہے جس کے مطابق سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ صرف مقررہ ٹرمینل سے چلیں گی۔ سہراب گوٹھ بس ٹرمینل، کے ایم سی بس ٹرمینل اور کورنگی فارنیشنل ہائی وے بسیں چلائی جائی گی۔

کے ایم سی ٹرمینل یوسف گوٹھ سمیت اندرون سندھ کے بھی ٹرمینل شامل ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کے لیے ایس او پی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے 21 مئی کو تمام اسٹیک ہولڈر کی میٹنگ بلائی گئی تھی، سندھ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے فریم ورک اور ایس او پی تیار کرلئے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ ضروری ہے مگر ہمیں لوگوں کی جانوں کو بھی محفوظ بنانا ہے، ٹرانسپورٹ پر پابندی عوامی مفاد میں لگائی گئی تھی۔

دوسری جناب قومی رابطہ کمیٹی نے ملک میں ہفتہ اور اتوار کو لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے، جمعہ کو بھی دکانیں کھلی رکھی جائیں گی، مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے سے متعلق اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور پبلک ٹرانسپورٹ اور دکانیں کھولنے سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ کو بھی دکانیں کھلی رکھی جائیں، جبکہ لاک ڈاؤن صرف ہفتہ اور اتوار کو ہوا کرے گا۔ یعنی ہفتہ اور اتوار کو دکانیں اور مارکیٹس بند رکھی جائیں۔ مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے سے متعلق اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ واضح رہے ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2964 نئے کیسز، مزید 60 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 72ہزار 460 ، اموات 1543 ہو گئی ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 44 ہزار 834، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 72ہزار 460 تک پہنچ گئی، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2964 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 60 مزید اموات کے ساتھ مجموعی اموات 1543ہو گئی ہیں۔

مارگلہ کی پہاڑیوں پر کرشنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی.سپریم کورٹ

مارگلہ کی پہاڑیوں پر کرشنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی.سپریم کورٹ
اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد نے اسلام آباد میں آلودگی کے حوالے سے واضح کردیا ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر کرشنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اسلام آباد میں فضائی آلودگی سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی. چیف جسٹس نے کہا کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر کرشنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی اگر موٹرو ے کی طرف سے پہاڑ دیکھیں تو سارا پہاڑ کٹا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ اب تھوڑا سا پہاڑ بچا ہے اور اس کو ہم نے بچایا ہے، وفاقی حدود (آئی سی ٹی) کے اندر کان کنی نہیں ہوسکتی اور یہ علاقہ سینکڑوں کلو میٹرز پر محیط ہے.

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ حدود ایبٹ آباد تک جاتی ہے اس موقع پر سپریم کورٹ بار کے صدر سید قلب حسن نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میری درخواست اور ریکارڈ کو بھی دیکھیں انہوں نے کہا کہ سروے آف پاکستان سے نشاندہی کی گئی ہے کہ ہزار میٹر کے فاصلے پر بفرزون کے بعد یہ پلانٹ لگے ہوئے ہیں. سید قلب حسن نے کہا کہ ملک کے اہم تعمیراتی منصوبوں کے لیے مٹیریل یہاں سے جاتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ سارا ریکارڈ ہمارے پا س ہے اور ہم مارگلہ پہاڑوں پر توڑپھوڑ کی اجازت نہیں دیں گے جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ نیشنل پارک کا مقصد جنگلات اورجنگلی حیات کا تحفظ ہے اور آئی سی ٹی کی حد تک پہاڑ کو متاثر نہیں کیا جاسکتا.

انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑ قومی اثاثہ ہیں اسے خراب نہیں ہونے دیں گے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ملک کے کسبی بھی علاقے سےکریش لے لیں لیکن یہاں سے اجازت نہیں دیں گے صدر سپریم کورٹ بار سید قلب حسن نے کہا کہ مخدوم علی خان کی جانب سے بھی ایک کیس میں درخواست آئی ہے لیکن آج ان کو ایمرجنسی کے باعث کراچی واپس جانا پڑا انہوں نے استعداد کی کہ عدالت آج اس کیس کو ملتوی کردیے.

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے میئر کے اختیارات کیس کی سماعت کی جہاں میئر اسلام آباد کی سخت سرزنش کی گئی چیف جسس نے میئر اسلام آباد شیخ انصرعزیز کو مخاطب کرکے کہاکہ آپ نے اسلام آباد کے لیے اب تک کیا ہی کیا ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ عدالت نے مجھے اختیارات دینے کا حکم دیا تھا لیکن حکومت اس پر عمل نہیں کر رہی ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دلچسپی نہیں ہے تو عہدہ چھوڑ دیں، دوبارہ الیکشن میں عوام کے سامنے کیسے جائیں گے، میئر صاحب کیا آپ من و سلویٰ کے انتظار میں ہیں میئر سے چیف جسٹس نے کہا کہ میئر صاحب لکیر کے فقیر نہ بنیں، آپ منتخب نمائندے ہیں اور اپنی جرات دکھائیں. چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم نہیں آپ عدالت کے علاوہ کہیں اور جاتے ہیں یا نہیں، آپ تو زیادہ وقت پاکستان سے باہر ہی گزارتے ہیں تاہم میئر نے جواب دیا کہ 6 ماہ سے بیرون ملک نہیں گیا چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے کورونا کی وجہ سے آپ پھنسے ہوئے ہیں، نیت صاف نہ ہو تو کام نہیں ہوتے جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ نعمت اللہ خان اور شجاع الرحمٰن لیجنڈ میئرز تھے.

انہوں نے کہا کہ ہم نے میئرز کو اپنے ہاتھوں سے کام کرتے دیکھا ہے نہ کہ لیڈر بازی کرتے تھے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 10 ہزار سے زائد کا عملہ کر کیا رہا ہے جبکہ سارا اسلام آباد گندا پڑا ہے. سپریم کورٹ نے میئر اسلام آباد کے اختیارات پر کمیٹی تشکیل دے دی جس میں سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد شامل ہیں عدالت نے کمیٹی کوایک ماہ میں میئر کے اختیارات کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی.

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کی 90 دن کی معطلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کام کی اجازت دے دی تھی رواں سال کے اوائل میں مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے میئر اسلام آباد کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں ان پر اختیارات کے غلط استعمال اور سرکاری املاک، عملے اور وسائل کو ذاتی طور پر استعمال کرنے الزامات عائد کیے گئے تھے.

یہ ریفرنس کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے رکن ہمایوں اختر کی جانب سے فائل کیا گیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی نواز اعوان کی زیر سربراہی قائم مقامی حکومت کے کمیشن نے معاملے کی تحقیقات تک میئر کو معطل کرنے کی سفارش کی تھی. البتہ شیخ انصر عزیز نے اس ریفرنس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر الزامات لگائے گئے ہیں بعدازاں 17 مئی کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا تھا.

حکومت کا کام رونا دھونا نہیں، مسائل حل کرنا ہے، سراج الحق

نواز شریف کی تصویر اصل مسئلہ نہیں بلکہ کورونا سے نمٹنا مسئلہ ہے ، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ آج لندن میں بیٹھے نواز شریف کی تصویر مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ کورونا اور بحرانوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
اپنے ایک بیان میں سراج الحق نے کہا کہ چینی سے متعلق کمیشن کی رپورٹ پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کا کام رونا دھونا اور آنسو بہانا نہیں، مسائل حل کرنا ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ حکومت ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو حفاظتی سامان فراہم نہیں کر رہی، جبکہ کورونا سے متاثرہ لوگوں کیساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت 12 سو ارب روپے کا امدادی پیکیج کورونا مریضوں پر خرچ کرے۔
سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے ٹڈی دل کے حملوں سے نمٹنے کیلئے بھی کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کی، جبکہ ٹائیگر فورس کا شور تو بہت سنتے تھے نظر کہیں نہیں آ رہی۔
انہوں نےکہا کہ حکمران ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو ان علاقوں میں جا کر شور مچائیں۔
سراج الحق نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم نہ ہوتے تو طیارہ حادثے پر وزیراعظم اور وزیر کا استعفیٰ مانگتے۔

متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے 5جون سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا

متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے 5جون سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے ..
لاہور : متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے 5 جون سے نان اور روٹی کی قیمت بڑھانے کا اعلان کر دیا ، ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب گل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عید سے پہلے جو آٹا 800 میں مل رہا تھا وہ اب 950 روپے میں مل رہا ہے۔ جو فائن آٹا ہمیں 4000 میں مل رہا تھا وہ اب 4700 روپے تک مل رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ہر شعبے کو ریلیف دیا گیا اور تاہم نہ ہمارے گیس کے بل کم کئے گئے اور نہ ہی آٹا سستا فراہم کیا جا رہا ہے، آفتاب گل نے کہا کہ اگر حکومت ہمیں ریلیف فراہم نہیں کرتی یا آٹا سستا فراہم نہیں کرتی تو 5 جون سے روٹی 10 روپے جبکہ نان 15 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔

دوسری جانب نان بائی ایسوسی ایشن نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیدیا ہے ۔

نان بائی ایسوسی ایشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ فلورملز مالکان کی طرف سے آٹے اور فائن کی قیمتوں میں کئے گئے اضافے سے متعلق ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے آٹے اور فائن کی پرانی قیمتوں کو بحال نہ کیا تو روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔

نئی قیمت کا اعلان 5 جون کو پریس کانفرنس میں کیا جائے گا ۔ خیال رہے مسلم لیگ (ن)کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرار داد کے متن میں کہاگیا ہے کہ روٹی اور نان کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ناقابل قبول ہے۔آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافے سے نان اور روٹی کی قیمت پہلے ہی بڑھادی گئی ہے۔ پنجاب میں روٹی 10 روپے اور نان 12روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

پنجاب حکومت آٹے کی قیمت کا درست تعین کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔نان بائی ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر روٹی اور نان کی قیمت میں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔غریب عوام پہلے مہنگائی اور غربت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے۔ قرار داد میں مطالبہ کیاگیا کہ نان اور روٹی کی قیمت میں مزید اضافہ نہ کیا جائے اوربیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2018سے پہلے والے ریٹ پر فروخت یقینی بنائی جائے۔

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،عدالت نے عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،عدالت نے عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی
اسلام آباد::انسداددہشتگردی عدالت نے پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس میں عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس کی انسداددہشتگردی عدالت میں سماعت ہوئی،جونیئر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بابراعوان مشیروزیراعظم بن گئے،سرکاری عہدہ رکھنے کے بعدبابراعوان بطوروکیل پیش نہیں ہوسکتے،عمران خان کونیاوکیل کرنے کیلئے مہلت دی جائے،عدالت نے عمران خان کو وکیل کرنے کیلئے 29 جون تک مہلت دیدی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں