They are 100% FREE.

جمعہ، 29 مئی، 2020

حکومت گھریلو صارفین کیساتھ ہاتھ کر گئی،وزیراعظم ریلیف کے نام پرمعاف بل ادا کرنا ہونگے ......300 یونٹ سے کم بجلی کے بل اقساط میں ادا کرنا ہونگے

حکومت گھریلو صارفین کیساتھ ہاتھ کر گئی،وزیراعظم ریلیف کے نام پرمعاف ..
اسلام آباد : وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کے ساتھ ہاتھ کر دیا، صنعتوں اور کمرشل صارفین کو تین ماہ کا بل معاف جبکہ گھریلو صارفین کو اقساط میں ادا کرنا ہوگا۔ 
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کو دھوکہ دے دیا ۔
 کورونا وائرس کی صورتحال پیدا ہونے کےبعد لاک ڈاؤن میں گھریلو صارفین کا تین ماہ کا بل معاف کر دیا گیا تھا ، جس کے مطابق بلوں پر وزیراعظم ریلیف کا ٹیگ بھی لگایا گیا ۔

تاہم اب رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ گھریلو صارفین کو معاف کردہ بھی اقساط میں ادا کرنا ہوگا۔ یہ بات بھی قابل غور رہے حکومت نے 300 یونٹ سے کم گھریلو صارفین کو بلوں کی اقساط کی سہولت فراہم کی ہے۔ تاہم دوسری جانب صنعتی و کمرشل صارفین کو 5 کلوواٹ سے لیکر 70 کلو واٹ تک کے بجلی کے بل معاف کر دیئے گئے ہیں۔

لیسکو مین تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو اقساط کی سہولت دی گئی ہے جس کو وزیر اعظم ریلیف کا نام دیا جا رہا ہے۔

حکومت کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔ حکومت صنعت اور کمرشل صارفین کا 4لاکھ 50 ہزار تک کا بل ادا کرے گی۔ملک بھر میں جاری کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے چھوٹے تاجروں کے لئے امدادی ییکچ برائے سمال بزنس کی بنیاد رکھی تھی جس کی بنیاد پر انہیں مختلف قسم کے ریلیف فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اسی دوران اب وفاقی حکومت حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حکومت نے امدادی پیکج برائے سمال بزنس کے تحت تاجروں کو بجلی کے بلز میں ایک لاکھ کی چھوٹ دے دی ہے۔

تاجروں کی بڑی مشکل حل ، مارکیٹیں ہفتہ اور اتوار کو بھی کھولنے کی اجازت

تاجروں کی بڑی مشکل حل ، مارکیٹیں ہفتہ اور اتوار کو بھی کھولنے کی اجازت
لاہور : تاجروں کی بڑی مشکل حل ہو گئی ، لاہور میں مارکیٹیں ہفتہ اور اتوار کے روز بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی حکومت کی جانب سےاعلان کیا گیا ہے کہ تاجر مخصوص اوقات میں ہفتہ اور اتوار کے روز مارکٹیں کھول سکیں گے۔ اوقات صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ہوںگے۔ اسسٹنٹ کمشنر تبرریز مری نے تاجروں کو پیغام دیا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کے روز شامل 7 بجے تک مارکیٹیں کھولی جا سکتی ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر تبرریز مری تاجروں میں پایا جانے والا ابہام دور کر دیا۔ تاجروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ہر مارکیٹ میں ہزاروں ڈیلی  ویجز ملازمین کام کرتے ہیں ، مارکیٹیں بند رہنے سے ان ملازمین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بات بھی قابل غوررہے کہ حکومتِ پنجاب نے ہفتے میں 4دن مارکیٹس اور شاپنگ مالز کھولنے پر غور شروع کیا تھا ۔

اس حوالے سے صوبائی وزیرتجارت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ عید گزر گئی اب ایس او پیز کی سختی سے مانیٹرنگ ہوگی، جو مارکیٹ ایس او پیز پر عمل نہیں کرے گی اس کو بند کر دیا جائے گا۔

مارکیٹوں کے اوقات کار بتاتے ہوئے چند دن قبل میاں اسلم اقبال نے مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کے حوالے سے فیصلوں کا عندیہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ کابینہ کی سب کمیٹی برائے کرونا کا اجلاس آج متوقع ہے، اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لےکر آئندہ کیلئے تجویز پر حتمی فیصلہ ہوگا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نے ایک بار پھر 4 دن مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور بازار کھولنے پر غور شروع کیا گیا ، ہفتہ کے تین دن جمعہ، ہفتہ، اتوار کو کاروبار بند رکھنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا ۔ تاہم اب اسسٹنٹ کمشنر تبریز مری نے تاجروں کے ابہام کو دور کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹیں ہفتہ اور اتوار کو بھی مخصوص اوقات میں کھولیں جا سکتی ہیں۔

یکم جون سےمزید 10 مسافر ٹرینیں چلا رہے ہیں، شیخ رشید

یکم جون سےمزید 10 مسافر ٹرینیں چلا رہے ہیں، شیخ رشید

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ یکم جون سےمزید 10 مسافر ٹرینیں چلا رہے ہیں جس کے بعد کل 142 مسافر ٹرینوں میں سے 40 ٹرینیں چلنا شروع ہو جائیں گی۔

لاہور میں جیو نیوز سے خصوصی ٹیلیفونک گفتگوکرتے ہوئے شیخ رشید نے بتایا کہ ٹرینوں کو طےشدہ ایس او پیز کے تحت چلایا جائے گا اور مسافروں کی سہولت کے لئےانٹرنیٹ کےذریعے بکنگ کے ساتھ ساتھ بکنگ دفاتر بھی کھلے رہیں گے۔

ضرور پڑھیں: سعودی عرب میں اتوار کے روز 90 ہزار سے زائد مساجد کو کھول دیا جائے گا

ان کاکہناتھاکہ وہ وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں جنہوں نے 40 ٹرینیں چلانے کی اجازت دی۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ ٹرینوں کی بندش سے ریلوے کو ماہانہ 5 ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شہزاد اکبر مرزا سے متعلق 15 سوالات اٹھا دیئے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شہزاد اکبر مرزا سے متعلق 15 سوالات اٹھا دیئے

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز عدالتِ عظمیٰ میں ایک اور جواب جمع کرا دیا ہے جس میں انہوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر مرزا سے متعلق 15 سوالات اٹھا ئے ہیں۔

ضرور پڑھیں: سعودی عرب میں اتوار کے روز 90 ہزار سے زائد مساجد کو کھول دیا جائے گا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں اپنے جمع کرائے گئے جواب میں جو سوالات اٹھائے ہیں ان میں کہا ہے کہ شہزاد اکبر مرزا کو کس نے ملازمت پر رکھا؟

انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا ایسیٹ ریکوری یونٹ کے چیئرمین کے عہدے کا اشتہار دیا گیا؟ کیا اثاثہ ریکوری کے چیئرمین کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا ہے کہ کیا شہزاد اکبر مرزا کا انتخاب فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوا؟ ان تین چار سوالات کے جواب منفی میں ہیں تو کیسے ملازمت پر رکھا گیا؟

انہوں نے پوچھا ہے کہ شہزاد اکبر مرز کی ملازمت کی شرائط اور ضوابط کیا ہیں؟ کیا شہزاد اکبر مرزا پاکستانی ہیں؟ غیر ملکی ہیں یا دہری شہریت رکھتے ہیں؟

ضرور پڑھیں: پاکستان کورونا کو شکست دینے والے ٹاپ 20 ممالک میں شامل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ اثاثہ ریکوری یونٹ قانونی نہ ہونے پر خرچ کی جانے والی رقم عوام کے پیسے کی چوری ہے، شہزاد اکبر نے سپریم کورٹ کے جج اور اہلِ خانہ کے بارے میں معلومات غیر قانونی طور پر اکٹھی کیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اٹھایا ہے کہ شہزاد اکبر مرزا نے اپنے اور اپنے خاندان کےبارے میں کچھ ظاہر کیوں نہیں کیا؟ شہزاد اکبر مرزا کا اِنکم ٹیکس اور ویلتھ اسٹیٹس کیا ہے؟ شہزاد اکبر مرزا نے کب اپنے اِنکم ٹیکس ریٹرن داخل کرانا شروع کیے؟

انہوں نے سوال کیا ہے کہ شہزاد اکبر مرزا نے اپنی جائیداد، اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کےبارے میں کیوں نہیں بتایا؟ شہزاد اکبر مرزا نے اپنی بیوی اور بچوں کے نام کیوں ظاہر نہیں کیے؟ شہزاد اکبر مرزا کی بیوی اور بچے کس ملک کی شہریت رکھتے ہیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید پوچھا ہے کہ کیا شہزاد اکبر مرزا کی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں پاکستان میں ہیں یا بیرونِ ملک ہیں؟ کیا شہزاد اکبر نے اپنی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں اپنے گوشواروں میں ظاہر کی ہیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں یہ بھی کہنا ہے کہ عدالتی توہین کے پیچھے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان، وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر مرزا کی تکون ہے۔

پی آئی اے طیارہ حادثہ، طیارے میں مبینہ اورغیر قانونی طور پر رقم منتقل کرنے کی کوشش کیے جانے کا انکشاف

تباہ شدہ طیارے کے ملبے سے کتنے کروڑ کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی؟متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگ گیا
کراچی : پی آئی اے طیارہ حادثہ، طیارے میں مبینہ اور غیر قانونی طور پر رقم منتقل کرنے کی کوشش کیے جانے کا انکشاف، طیارے کے ملبے سے 3 کروڑ روپے کی رقم برآمد ہوئی، جبکہ قوانین کے تحت ایک مسافر کو 10 ہزار ڈالرز سے زائد رقم ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
 نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق کراچی میں حادثے کا شکار ہو جانے والے پی آئی اے کے طیارے سے 3 کروڑ روپے کی بڑی رقم برآمد ہوئی، جس کے بعد کہا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر پی آئی اے کے مقامی پروازوں میں غیر قانونی طور پر رقم منتقل کی جاتی ہے۔
رقم تین بیگز میں رکھ کر غیرقانونی طور پر لے جائی جارہی تھی، ایئرپورٹ پر سکیننگ اور دیگر مراحل پر اس رقم کو یقینی طور پر دیکھا گیا ہوگا مگر جانے دیا گیا، اس بات نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں ۔

بتایا گیا ہے کہ طیارہ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر دوران تلاشی رینجرز اہلکاروں کو ملبے سے 3 کروڑ روپے کی خطیر رقم ملی۔

رینجرز اہلکاروں نے یہ رقم فوری پی آئی اے حکام کے حوالے کر دی۔ بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد سوال کیا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی رقم طیارے میں آئی کیسے۔ قوانین کے تحت ایک مسافر کو 10 ہزار ڈالرز سے زائد کی رقم اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی، تو ایسے میں کیسے طیارے میں 3 کروڑ روپے کی رقم موجود تھی۔

بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے حکام کی جانب سے حقائق جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ پی آئی اے کے مقامی پروازوں میں غیر قانونی طور پر رقوم منتقل کی جاتی ہیں۔ تاہم اس حوالے سے اصل حقائق تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا طیارہ کراچی ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ طیارے میں کل 107 افراد سوار تھے، جن میں سے 105 افراد شہید ہوگئے۔

میگا کرپشن کیسز سے متعلق نیب کے فیصلے خوش آئند ہیں، سراج الحق

میگا کرپشن کیسز سے متعلق نیب کے فیصلے خوش آئند ہیں، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کیسز نمٹانے کیلئے نیب کے حالیہ فیصلے خوش آئند ہیں، ان فیصلوں پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے، نیب کی طرف سے ماضی میں بھی ایسے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
لاہور سے جاری بیان میں سراج الحق نے کہا ہے کہ نیب کے پاس 150 میگا کرپشن کیسز کی فائلیں فیصلوں کی منتظر ہیں، پانامالیکس کے 436 ملزمان کیخلاف کارروائی کے پر زور دعوے کیے گئے، تاہم قوم ان وعدوں پر عملدرآمد کی منتظر رہی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت میں بیٹھے مافیاز کا احتساب نہیں ہوتا کرپشن کیسز نہیں نمٹیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ ارکان خود کو پیش کردیں تو کسی کو احتساب پر اعتراض نہیں ہوگا۔

جمعرات، 28 مئی، 2020

سعودی عرب میں اتوار کے روز 90 ہزار سے زائد مساجد کو کھول دیا جائے گا

سعودی عرب میں اتوار کے روز 90 ہزار سے زائد مساجد کو کھول دیا جائے گا
ریاض :سعودی عرب میں اتوار کے روز 90 ہزار سے زائد مساجد کو کھول دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطوب سعودی عرب میں یکم جون کو 90ہزار سے زائد مساجد کو سینیٹائز کرنے کے بعد نمازیوں کے لیے کھولا جائے گا، مساجد میں باجماعت نمازوں کی مشروط اجازت ہوگی۔ اس حوالے سے حکومت کی طرف سے مساجد میں نماز اور عبادت کے لیے نیا میکا نزم تیار کیا ہے۔

مساجد کو اذان سے پندرہ منٹ قبل کھولا جائے گا اور فرض نماز کی ادائی کے 10 منٹ کے بعد مساجد کو بند کردیا جائے گا۔ اذان اور اقامت کے درمیان 10 منٹ کا وققہ ہوگا۔ نمازوں کی ادائی کے دوران مساجد کے تمام دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھی جائیں گی۔ عارضی طور پر مساجد سے قرآن پاک کے نسخے اور کتب اٹھا لی گئی ہیں۔

نئے میکا نزم کے تحت دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے گی جب کہ دو صفوں کے درمیان ایک صف خالی رکھی جائے گی۔

مساجد کے تمام واٹر کولر بند کردیے جائیں گے۔ مساجد میں کسی قسم کے کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نمازوں کے ادائی کے دوران مساجد کی وضو گاہ کو بند رکھا جائے گا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وضو گھروں سے کرکے مساجد میں آئیں۔ اس کے علاوہ 31مئی سے دفتری سرگرمیوں کی اجازت ہوگی، آمد ورفت کے مختلف وسائل کے ذریعے صوبوں کے درمیان سفر پر پابندی اور اندرون ملک فضائی پروازوں پر عائد پابندی اٹھالی جائے گی، ریستورانوں اور قہوہ خانوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی، جب کہ اُن تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد رہے گی، تاہم مقرر کردہ احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر پر عمل لازم ہو گا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں کورونا مریض تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں اور آج بھی مزید 3531مریض صحتیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد اب تک صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 54,553 ہوگئی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں