They are 100% FREE.

اتوار، 5 مئی، 2019

ن لیگ کے سات اختلافات کلیئر ہو گئے ؟ چوہدری نثار نے حیران کن اعلان کر دیا اور ساتھ ہی عمران خان پر شدید تنقید بھی کر ڈالی


اسلام آباد : سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ نیا بلدیاتی نظام آئینی نہیں ہے، موجودہ حکومت بلدیاتی اداروں کوکام نہیں کرنے دے گی، ، قرض دینے والوں کی ڈکٹیشن پر چلنا پڑتا ہے ، چند سالوں میں ملکی قرض بڑھا ہے اور موجودہ حکومت کے مطابق سابق حکومتوں نے بہت قرض لیے لیکن کیا حکومت اس ایجنڈے پر نہیں آئی تھی کہ قرض نہیں لے گی ؟۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ ن لیگ کی لیڈرشپ سے اختلافات کلیئر نہیں ہوئے ہیں ، ن لیگ نے جو عہدے تقسیم کیے ہیں اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ہم ایک بند گلی کی طرف جارہے ہیں ، آئی ایم ایف خود مختار نہیں ہے بلکہ سیاسی ادارہ ہے، پچھلی حکومت میں آئی ایم ایف کی بہت ساری شرائط کو نہیں مانا گیا تھا ، اس نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، جس میں ہمارا قرضہ تیزی سے بڑھ رہاہے ۔ان کا کہناتھا کہ امن مذاکرات کی بھیک مانگی جاتی ہے ، کشیدگی کے دوارن پا ک فضائیہ کی جو تشہیر ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی ہے اور جنہوں نے بھارت کے دو جہاز گرائے ان کا نام تک نہیں لیا جاتا ۔ان کا کہناتھا کہ کاش عمران خان کو کوئی بتائے کہ قومی اتفاق سے مشکلات کا سامنا کیا جاتاہے ، پاکستان کےاطراف گھیراتنگ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کومتنازعہ حکومت نے بنایا،نیب اورعدالتوں کواپناکام کرنے دیں،ہمارے دشمن ملک کے اندرخلفشارچاہتے ہیں ، قوم کواصل صورتحال سے آگاہ کیاجائے۔
ان کا کہناتھا کہ موجودہ حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے، ملک کوشدید خطرات ہیں،حکومت اس پرسوچے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ مجھے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے 54ہزارووٹ ملے،صوبائی اورقومی اسمبلی میں 19،20 کافرق ہوتاہے، پارلیمنٹ میں نہیں ہوں،صورتحال کی ذمہ داری اپوزیشن اورحکومت کی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ روپے کی قدر میں کمی اور تیل کی قیمتوں کا مہنگائی پر بہت اثر ہوتاہے ۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ بھارت جو ایف اے ٹی ایف میں کردکار اداکر رہاہے کیا اسے کوئی روک رہاہے ۔

جمعہ، 3 مئی، 2019

ملک بھر میں خط کی ترسیل 8 روپے سے بڑھ کر 20روپے ہوگئی، نوٹیفکیشن جاری

ملک بھر میں خط کی ترسیل 8 روپے سے بڑھ کر 20روپے ہوگئی، نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد: پاکستان پوسٹ کی انتظامیہ نے ڈاک ٹیرف میں 100فیصد اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد اب پاکستان بھر میں خط کی ترسیل 8روپے سے بڑھ کر 20 روپے ہوگئی ہے۔
پاکستان پوسٹ کی انتظامیہ نے ڈاک ٹیرف میں 100فیصد اضافہ کردیا ہے، اور ملک بھر میں خط کی ترسیل 8 روپے سے بڑھ کر 20روپے ہوگئی ہے، اس حوالے سے محکمہ ڈاک کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اضافہ شدہ ٹیرف کا اطلاق 4 مئی 2019 سے ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق 500گرام وزن کی حامل آرڈنری ڈاک کا ٹیرف 40روپے بڑھا کر 100روپے کر دیا گیا، جب کہ 2000گرام وزن کی حامل آرڈنری ڈاک کا ٹیرف 100 روپے سے بڑھا کر 250روپے کردیاگیا،اسی طرح 2000گرام وزن کے حامل کتب رسائل کا ٹیرف 25روپے بڑھا کر 63روپے کردیا گیا ہے۔ایک کلوگرام کے رجسٹرڈ پارسل کا ٹیرف40روپے سے بڑھاکر 100روپے کردیا گیا ہے، جب کہ 30کلو گرام کے رجسٹرڈ پارسل کا ٹیرف 350روپے سے بڑھاکر 875 روپے کردیا گیا ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بی اے سمیت تمام 2سالہ ڈگریاں بند کرنے کا عندیہ دے دیا

Image result for hec higher education scholarships
 ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بی اے سمیت تمام 2سالہ ڈگریاں بند کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کہا ہے کہ 2020سے بی اے، بی ایس سی، ایم اے، ایم ایس سی سمیت تمام 2سالہ ڈگریاں مکمل طور پہ بند کر دی جائیں گی۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کہا ہے کہ 2سالہ ڈگری رکھنے والے افراد 4سالہ آنرز پروگرام میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے اور وہ 18کریڈٹ آور کے کورسز پڑھنے کے بعد آنرز میں داخلہ لے سکیں گے۔
2سالہ ڈگری رکھنے والے افراد کو 18کریڈٹ آور کے کورسز پڑھنے کے بعد سالہ آنرز پروگرام 5ویں سمیسٹر میں داخلہ ملے گا ۔ یاد رہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 2016میں 2سالہ ڈگری بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب تک اس پر عمل نہیں کروایا جا سکا تھا لیکن اب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے حتمی طور پر بی اے، بی ایس سی، ایم اے ، ایم ایس سی سمیت تمام دو سالہ ڈگریاں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
2سالہ ڈگری پروگرام بند کرنے کے بعد کالجز اور یونیورسٹیوں میں 2سالہ ایسوسی ایٹ پروگرام شروع کیا جائے گا اور طلباء انٹر میڈیٹ کے بعد 2سالہ ایسوسی ایٹ پروگرام میں داخلہ حصہ لے سکیں گے۔ اس سے پہلے ہائیر ایجوکیشن کمیشن 3سالہ قانون کی ڈگری ختم کرنے کا اعلان کرچکا ہے اور اب قانون کی ڈگری 5سال مین مکمل ہو گی۔

جمعرات، 2 مئی، 2019

مریم نواز کی اپنے والد اور چچا کی مخالفت، پلی بارگین کی آپشن قبول کرنے سے انکار کردیا

مریم نواز کی اپنے والد اور چچا کی مخالفت، پلی بارگین کی آپشن قبول کرنے ..
لاہور : مریم نواز کی اپنے والد اور چچا کی مخالفت، پلی بارگین کی آپشن قبول کرنے سے انکار کردیا، حکومت کو پیسہ دے کر بیرون ملک چلے جانے کی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان میں ہی رہنے پر بضد ہوگئیں۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی صابر شاکر کی جانب سے سابق وزیراعظمپاکستان میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پلی بارگین کی آپشن قبول کرنے کے حوالے سے اپنے والد اور چچا کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔
صابر شاکر کا دعویٰ ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائی حکومت کی پلی بارگین آپشن قبول کرکے ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔
صابر شاکر کہتے ہیں کہ مریم نواز پاکستان کی سیاست سے کنارہ کشی یا دوری اختیار کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ اب بھی پاکستان کی سیاست میں بھرپور حصہ لینا چاہتی ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنے والد نواز شریف اور چچا شہباز شریف پر واضح کیا ہے کہ پلی بارگین آپشن ان کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔
صابر شاکر کا مزید کہنا ہے کہ مریم نواز پلی بارگین کی آپشن کے بنا ہی اپنے والد کیلئے ریلیف حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کیلئے مریم نواز کچھ ممالک کے سفیروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، اور ان سے حکومت پر دباو بڑھانے کی درخواست کر رہی ہیں

کرسٹیانو رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑی خرید لی، قیمت ایک ارب 76 کروڑ 8 لاکھ 58 ہزار روپے تقریباً

کرسٹیانو رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑی خرید لی، قیمت ایک ارب 76 کروڑ 8 لاکھ 58 ہزار روپے تقریباً
پیرس : پرتگال سے تعلق رکھنے والے سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین کار خرید لی ہے۔ بگاٹی کمپنی کی جانب سے بنائی جانے والی اس گاڑی کی قیمت ساڑھے 9 ملین پاﺅنڈ یا 18 ملین ڈالر ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً ایک ارب 76 کروڑ 8 لاکھ 58 ہزار روپے بنتی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ولندیزی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ’ بگاٹی لا ووئچر نوئر‘ نامی کار خریدی ہے۔ کار کی صنعت کے آغاز سے اب تک کی یہ سب سے مہنگی ترین گاڑی ہے جسے مارچ 2019 میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا تھا۔ فرانسیسی کار ساز کمپنی بگاٹی نے اپنی 110 ویں سالگرہ پر خصوصی طور پر یہ کار تیار کی تھی۔بگاٹی کمپنی کی جانب سے 1936 سے 1938 کے دوران ’ بگاٹی ٹائپ 57SC اٹلانٹک ‘ نامی 4 گاڑیاں تیار کی گئی تھیں اور یہ کار اسی ماڈل کی جدید شکل ہے۔
اس کار میں 8.0 لٹر ٹربوچارجڈ W16 انجن ہے اور یہ 260 میل (418 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ بگاٹی نے یہ ماڈل فروخت ہونے کی تصدیق تو کی ہے لیکن اس کے مالک کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔ ہسپانوی اخبار ’مارکا‘ کے مطابق یہ کار سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے خریدی ہے ، حالانکہ پہلے یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ یہ گاڑی ووکس ویگن گروپ کے سابق چیئرمین فرڈیننڈ پیچ نے خریدی تھی
میڈیا رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ گاڑی بیچ تو دی گئی ہے لیکن اس کا مالک اسے 2021 تک چلا نہیں پائے گا کیونکہ کمپنی نے ابھی تک گاڑی کی تیاری کو فائنل نہیں کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے دیا

اقوام متحدہ نے مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے دیا
اسلام آباد : اقوام متحدہ نے مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے دیا، چین کی جانب سے تکنیکی اعتراض واپس لیے جانے کے بعد اقوام متحدہ نے مولانا مسعود اظہر کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ نے مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔
چین کی جانب سے تکنیکی اعتراض واپس لیے جانے کے بعد اقوام متحدہ نے مولانا مسعود اظہر کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ چین نے اس سے قبل 4 مرتبہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی۔ چین نے اس معاملے پر تکنیکی اعتراض اٹھایا تھا۔ پابندیوں کی یو این کمیٹی کے ایجنڈے میں مسعود اظہر کو آج دہشت گرد قرار دیا جانا شامل تھا۔
اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود تاہم پاکستان نے کشمیری جدوجہد کو مسعود اظہر سے جوڑنے کی بھارتی سازش ناکام بنا دی ہے۔بھارت اور امریکا کا موقف تھا کہ مسعود اظہر کو مقبوضہ کشمیر اور پلوامہ حملے سے جوڑنے سے متعلق تھا۔ یو این کمیٹی کے سامنے بھارت کشمیر کی تحریک حق خوداریت کو دہشت گردی سے جوڑنے میں ناکام ہو گیا ہے۔
پاکستان کا اعتراض تھا کہ مسعود اظہر کا پلوامہ و کشمیری جدوجہد سے تعلق جوڑنا غلط ہے۔پلوامہ و کشمیری حق خوداریت سے مسعود اظہر کا تعلق الگ کرنے کا موقف مان لیا گیا ہے۔واضح رہے امریکا مسعود اظہر کا معاملہ سلامتی کونسل لے کر گیا تھا۔چین کی مخالفت پر مسعود اظہر کا معاملہ واپس یو این کمیٹی میں لے آیا۔یاد رہے کہ بھارت نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے سلامتی کونسل میں قرار دار پیش کی تھی۔


لیکن چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کے خلاف بھارت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو ایک مرتبہ پھر ویٹو کر دیا جس سےبھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور ایسا گذشتہ دہائی میں چوتھی مرتبہ ہوا تھا ۔ دوسری جانب کچھ اطلاعات یہ بھی تھیں کہ مسعود اظہر کے خلاف سلامتی کونسل میں مجوزہ امریکی قرارداد کے پس منظرمیں درحقیقت بھارت میں ہونے والےانتخابات ہیں۔
امریکہ مودی سرکارکو انتخابات سے قبل مسعود اظہر پرپابندی کا تحفہ دینا چاہتا ہے۔ لیکن سلامتی کونسل کے دیگرارکان سیاسی مفادات میں پیش کردہ اس قراردادکی حمایت سے گریزاں تھے۔واضح ہو امریکہکے مسلسل مطالبے پر چین نے اقوام متحدہ کی 1267 پابندی کمیٹی کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو کالعدم قرار دینے سے متعلق رکاوٹ سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دے دیا تھا۔

بدھ، 1 مئی، 2019

تحریک انصاف کے رہنما، وفاقی وزیر علی محمد خان نے مستعفی ہونے، سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی دھمکی دے دی

تحریک انصاف کے رہنما، وفاقی وزیر علی محمد خان نے مستعفی ہونے، سیاست ..

کسی کو حق حاصل نہیں کہ اسلام کے خلاف کوئی بل پاس کر سکے، اسلام میں بلوغت کے حوالے سے طریقہ کار طے ہے، کم عمری کے شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے پر وزارت اور سیاست تک قربان کرنے کو تیار ہوں: وفاقی وزیر

اسلام آباد:  تحریک انصاف کے رہنما، وفاقی وزیر علی محمد خان نے مستعفی ہونے، سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی دھمکی دے دی، وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ اسلام کے خلاف کوئی بل پاس کر سکے، اسلام میں بلوغت کے حوالے سے طریقہ کار طے ہے، کم عمری کے شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے پر وزارت اور سیاست تک قربان کرنے کو تیار ہوں۔
تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ اسلام کے خلاف کوئی بل پاس کر سکے۔ علی محمد خان کہتے ہیں کہ اسلام میں بلوغت کے حوالے سے طریقہ کار طے ہے۔ کم عمری کے شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے پر وزارت اور سیاست تک قربان کرنے کو تیار ہوں۔
کم عمری کی شادی پر پابندی پر پابندی کا بل اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے، پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل پاس نہیں کیا جاسکتا، اس کو نطریاتی کونسل کے پاس بھجوایا جائے اور ان کی سفارشات کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے اراکین کی اکثریت نے کم عمری کیشادی پر پابندی کے بل کی حمایت کر دی تھی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں